مضامین

آرٹیکل 35Aکا دفاع کی سیاست

آرٹیکل 35Aکے دفاع پر تکونی جنگ چھڑ گئی ہے کیونکہ پی ڈی پی نے آرٹیکل 35Aکے دفاع کے معاملے پر وزیرقانون سمیت کابینہ وزراء پر مبنی چار رکنی ٹیم دلی روانہ کرنے کا فیصلہ لیا ہے جبکہ اپوزیشن جماعت نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ وہ اس حساس معاملے پر 29اگست سے قبل ہی ریاستی اسمبلی کا ہنگامی اجلاس طلب کیا جائے تاکہ مشترکہ حکمت عملی مرتب کی جاسکے ۔اس دوران بھاجپا نے عمر عبداللہ پر عوام کو 35Aپر بے وقوف بنانے کا الزام عائد کیا ہے ۔ آرٹیکل 35Aپر پی ڈی پی نے بھاجپا کے بالکل برعکس موقف اختیار کرتے ہوئے اس کے دفاع کیلئے کوششیں تیز کر دی ہیں اور اس سلسلے میں وزیر قانون ایڈوکیٹ عبدالحق خان سمیت تین سینئر کابینہ وزارء پر مبنی ایک ٹیم تشکیل دی ہے جو کہ نئی دلی جاکر سپریم کورٹ میں اس کیس کا دفاع کر سکیں اوراس سلسلے میں ایک حکمت عملی مرتب کرسکیں تاکہ اس دفعہ کا بھر پور دفاع کیا جا سکے۔ بتایا جاتا ہے کہ پی ڈی پی نے دلی میں بھی معروف وکلا سے مشاورت کا سلسلہ جاری رکھا ہو اہے اور کچھ ایک وکلاء کیساتھ سرکاری سطح پر بھی بات کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ میں دائر کی گئی دفعہ 35Aمخالف پٹیشن کو خارج کرانے کیلئے ہر طرح کی کوشش کی جائیگی ۔ بتایا جاتا ہے کہ پی ڈی پی اس معاملے پر کافی حد تک سنجیدہ ہوگئی ہے کیونکہ بھاجپا پہلے ہی اس معاملے پر خاموشی اختیار کر چکی ہے اور بھاجپا کا کہنا ہے کہ اس معاملے کو سپریم کورٹ کے ذریعے ہی حل کرنے دیا جائے اوراس پر سیاست نہیں چمکائی جانی چاہئے ۔ایسے میں رام مادھو جوکہ بھاجپا کے جنرل سیکریڑی ہیں نے کہا ہے کہ جو معاملہ عدالت میں ہے اس کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش نہیں کی جانی چاہئے ۔ایسے میں یہ صاف ہو گیا ہے کہ بھاجپا اس دفعہ کے سلسلے میں دائر کی گئی پٹیشن کی کامیابی کے حق میں ہے۔چنانچہ پی ڈی پی کیلئے یہ معاملہ انتہائی حساس ہے اور اس کے سیاسی کیرئر کیلئے اہم بھی۔چنانچہ پی ڈی پی کے چار وزراء ابھی تک صلا ح مشوروں میں جٹ گئے ہیں اور اس سلسلے میں وہ کسی بڑی پہل کی امید لگائے ہوئے ہیں۔ادھر اپوزیشن لیڈر اور سابق وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے سرکار کو خبردار کیا ہے کہ دفعہ 35Aکے معاملے پر جو موقف اختیار کیاجارہا ہے وہ تباہ کن ہوسکتا ہے کیونکہ کسی بھی طرح کی خاموشی ریاست کو اس حق سے محروم کر سکتی ہے جس سے نہ جانے کتنی قربانیوں کے بعد پایا گیا تھا۔ پارٹی ہیڈ کوارٹر سے جاری ایک بیان میں عمر عبداللہ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ پارٹی کے کارگذار صدر نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس حساس نوعیت کے مسئلے پر بات چیت اور حکمت عملی طے کرنے کیلئے29اگست سے قبل ہی اسمبلی کا ہنگامی اجلاس طلب کیا جائے جس میں سبھی جماعتوں کو اعتماد میں لیکر ایک حکمت عملی اختیار کی جا سکے تاکہ اس دفعہ کو بچایا جا سکے ۔ عمر عبداللہ کا کہنا تھا کہ دفعہ35Aواحد دفعہ ہے جس پر دفعہ 370کی بنیاد ہے اور ا س بنیاد کو اگر کمزور کیا گیا تو دفعہ 370کو کوئی نہیں بچاسکتا ہے جس کے ساتھ ہی کشمیر کی خصوصی پوزیشن ختم ہو کر رہ جائیگی ۔ عمرعبداللہ کا کہنا تھا کہ یہ ریاست جموں وکشمیر کے عوام اور لداخ کیلئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے اور اس کو ختم کرنے سے نہ جانے کتنے منفی اثرات مرتب ہونگے ۔انہوں نے کہاکہ عدالت عظمیٰ میں جو رٹ پٹیشن دائر کی گئی ہے اس حوالے سے مرکزی حکومت کچھ بول ہی نہیں رہی ہے جبکہ ریاستی حکومت بھی محض خیالوں میں ہی کہہ رہی ہے کہ کچھ نہیں ہوگا اور اس کا بھر پور دفاع کیا جا ئیگا ۔عمر عبداللہ نے تجویز پیش کی ہے کہ اس طرح کی صورتحال میں ریاستی اسمبلی کا رول انتہائی اہم ہے اور اس سلسلے میں ایک خصوصی اجلاس طلب کیا جائے جس میں سبھی جماعتیں اس پر سرجوڑ کر کوئی حکمت عملی مرتب کر سکیں۔انہوں نے جموں وکشمیر اور لداخ کے عوام کو اپنی پارٹی اور ذاتی سطحوں سے اوپر اٹھ کر اس دفعہ کی حفاظت کیلئے اٹھ کھڑے ہونے کی بات کی ہے ۔انہوں نے کہاکہ اگر مرکزی حکومت تک کوئی پیغام پہنچانا ہے تو وہ ریاستی اسمبلی کے ذریعے ہی اسے پہنچایا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ریاست میں سیاسی جماعتیں پارٹی مفادات سے بالاتر ہو کر اس دفعہ کی بھر پور حفاظت کیلئے آگے آئیں گے۔انہوں نے کہاکہ اس دفعہ کا خاتمہ حقیقی معنوں میں جموں وکشمیر کے ہر فرقے کیلئے تباہ کن ہوگی۔اس دوران بھاجپا نے عمر عبداللہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ دفعہ 35Aکے حوالے سے عوام کو بے وقوف بنا رہے ہیں ۔بھاجپا کے مطابق اصل میں اس دفعہ سے ریاست کے ہر خطے کیساتھ امتیاز ہو رہا ہے اور ایسے میں اس دفعہ کا جانا ہی بہتر ہوگا ۔انہوں نے کہاکہ عمر عبداللہ اور این سی لیڈران اس معاملے پر جو شوشے پھیلا رہے ہیں ان میں کوئی صداقت نہیں ہے ۔
ادھرآرٹیکل35-Aمعاملے پرمودی سرکارکی خاموشی کومشکوک قراردیتے ہوئے کئی اور اپوزیشن لیڈران نے کہاکہ ڈیڑھ برس تک خواب غفلت کی شکارمخلوط سرکارکومجبوراًجاگناپڑا۔ حزب اختلاف پارٹی کے لیڈر اور نیشنل کانفرنس کے جنرل سیکریٹری علی محمدساگرنے دعویٰ کیاکہ اگرڈاکٹرفاروق قدم نہ اُٹھاتے تواقتصادی خودمختاری کے بعدریاست آئینی پوزیشن سے بھی ہاتھ دھوبیٹھتی۔ پردیش کانگریس کے صدرغلام احمدمیرنے کہاکہ محبوبہ مفتی کونریندرامودی کی طرف سے دی گئی یقین دہانی کی وضاحت کرنی چاہئے۔غلام حسن میرنے چارسینئروزراء کی دلی روانگی کوڈرامہ بازی قراردیا۔حکیم محمدیاسین نے سوالیہ اندازمیں کہاکہ اگرمرکزی سرکارسنجیدہ ہوتی تواُس کی جانب سے عدالت عظمیٰ میں بیان حلفی جمع کرایاگیاہوتا۔
جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن پر مرکز کی خاموشی پر سوال اٹھاتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں کے لیڈران نے کہا ہے کہ وزیر اعظم ہند نریندر مودی کی جانب سے ریاستی وزیر اعلیٰ کو دی گئی ’یقین دہانی‘کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے جبکہ ریاست کو آئینی بحران سے بچانے کیلئے مرکزی سرکار کو عدالت عظمیٰ میں بیانِ حلفی جمع کرانا چاہئے تھا ،جہاں دفعہ370،آرٹیکل35اے اور دفعہ6کی منسوخی کے حوالے سے تین عرضیاں دائرہیں۔ نیشنل کانفرنس کے جنرل سیکریٹری علی محمد ساگر نے کہا کہ اگر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے ریاست کی خصوصی پوزیشن پر سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا ہوتا ،تو جموں وکشمیر کی مالی خود مختاری کی طرح ریاست کی خصوصی پوزیشن کا بھی سودا ہوا ہوتا۔ان کا کہناتھا کہ ڈیڑھ سال تک پی ڈی پی کی سربراہی والی مخلوط سرکار نے اِس پورے معاملے پر خاموشی اختیار کی جبکہ دونوں جماعتوں کا جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کے حوالے سے موقف جد گانہ ہے ۔ پردیش کانگریس کے صدر غلام احمد میر کا کہنا ہے کہ جموں وکشمیر کی ڈیمو گرافی کو تبدیل کرنے کی کسی کو بھی اجازت نہیں دی جائیگی ۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس سازشیں کررہی ہے ،لیکن وہ اپنی ان مکرو سازشوں میں کامیاب نہیں ہونگے ۔غلام احمد میر کے مطابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کو وزیر اعظم نریندرا مودی کی جانب سے خصوصی پوزیشن کے دفاع کے حوالے سے کس طرح کی یقین دہانی ملی ،اسکی اُنہیں وضاحت کرنی چاہئے ۔ان کا کہناتھا کہ جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کے حوالے سے کانگریس کا موقف واضح ہے ،وہ یہ کہ ہم ریاستی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ادھر ریاست کے اور لیڈر اور سابق وزیر غلام حسن میر نے مخلوط حکومت کی جانب سے دفعہ 370اور آرٹیکل 35اے کے دفاع کے حوالے سے اپنا ئے گئے اپروچ کو ڈرامہ بازی سے تعبیر کیا ۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی کے4وزراء کے دہلی جانے سے کوئی طوفان نہیں آئیگا۔انہوں نے کہا کہ مرکزی سرکار کی ’ یقین دہانی‘ ٹال مٹول پر مبنی ہے۔ان کا کہناتھا کہ موجودہ مرکزی حکومت کوقائل کرنے کیلئے کس طرح کے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں ،وہ اصل معاملہ ہے کیو نکہ پی ڈی پی کی ساجھے دار جماعت بی جے پی جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کی مخالفت کررہی ہے ،لہٰذا ایک آواز ہو کر ریاست کی خصوصی پوزیشن کے دفاع کیلئے ہم سب کو کھڑا ہونے کی ضرورت ہے۔ ایک اور لیڈر اور ممبر اسمبلی حکیم محمد یاسین نے کہا کہ و زیر اعظم ہند نریندر مودی کی جانب سے ریاستی وزیر اعلیٰ کو دی گئی ’یقین دہانی‘کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر مرکزی سرکار کی یقین دہانی نیک نیتی پر مبنی ہوتی ،تو مرکز کی جانب سے عدالت عظمیٰ میں جہاں دفعہ370اور آرٹیکل 35اے کو چیلنج کیا گیا ہے، کے دفاع میں بیانِ حلفی جمع ہوا ہوتا ،جو آج تک نہیں ہوا ۔انہوں نے کہا کہ نریندر مودی کی سربراہی والی مرکزی سرکار کا جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کے حوالے سے مو قف و اپروچ کئی خد شات اور شک وشبہات کو جنم دیتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ریاستی مخلوط سرکار کی اتحادی جماعتوں کا بھی موقف علیحدہ علیحدہ ہے ۔ان کا کہناتھا کہ ایجنڈا آف الائنس محض اقتدار کی کُرسی پر بیٹھنے کے لئے ہوا ،جس کا کافی ڈھنڈورا پیٹا جارہا ہے