اداریہ

اب دفعہ35Aکا شوشہ

ریاست جموں وکشمیر میں اِس وقت پوری طرح فلسطین ماڈل اپنائے جانے کی تیاریاں زوروں پر ہیں۔ اس کام میں بھارت کو اسرائیل کے تجربے کی ہی نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کی بھی بھرپور مدد حاصل ہے اور اس کا انکشاف حال ہی میں امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی کشمیر کے حوالے سے ایک رپورٹ میں بھی کیا گیا ہے،اس طرح سے اب بھارت کشمیر میں دفعہ370 کے آرٹیکل35A کو منسوخ کرانے کے حق میں ہیں ، ریاست میں اگر چہ آزادی کی لڑائی لڑی جا رہی ہیں تاہم کئی حلقوں کا ماننا ہے کہ بھارت اس لڑائی میں کچھ حد تک کمزور دکھائی دے رہا ہے جس کے ردعمل میں اب بھارت کشمیریوں کو کسی نہ کسی بہانے کمزوری لانے کی کوشش کرتا ہے تاہم بھارت کی تازہ کوشش یہی ہے کہ کشمیریوں میں ایک ایسا شوشہ ڈالا جائے جس سے فی الحال کشمیریوں کو آزادی کی لڑائی پر زیادہ دھیان نہ رہ جائے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت ریاست جموں وکشمیر کو حاصل خصوصی درجہ کو اب سپریم کورٹ کے ذریعے سے منسوخ کرانے کے لئے تگ و دو کر رہاہے۔ بھارت کے ان عزائم اور منصوبوں کی راہ میں ایک اہم رکاوٹ یہی دفعہ370 کے آرٹیکل35A ہے۔ اب بھارت اس دفعہ کو ختم کرکے ریاست میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنا اور مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنا اپنا مشن بنایا ہوا ہے۔ ریاست کو حاصل خصوصی درجہ کو منسوخ کرانے کے بعد بھارت کی چاہت ہو گی کہ بڑے پیمانےپر ہندوستان کے بڑے بڑے سرمایہ دار وادی کی طرف نقل مکانی کریں گے، اونے پونے داموں زمینیں خریدی جائیں گی۔ حالانکہ اس طرف ابھی لوگوں کا زیادہ دھیان نہیں جاتا ہے کہ پہلے سے ہی مغربی پاکستان سے آنے والے لاکھوں ہندو پناہ گزین جموں کے علاقوں میں شہریت کے انتظار میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ پنڈتوں کے لیے الگ بستیاں بسانے کے منصوبے بھی کاغذوں میں تیار ہیں۔ امرناتھ یاتریوں کے لیے وسیع وعریض رہائشی منصوبے اور اس کے لیے الگ سے انتظامیہ کا قیام اور ان کے لیے مکانیت کی سہولت کی فراہمی وادی کے مسلمان اکثریتی کردار کے اوپر لٹکتی ہوئی تلوار ہے اور یوں کشمیر میں ایک’اسرائیل‘کے خدوخال اُبھرنا شروع ہوجائیں گے۔ ریاست کے مسلمان خاص کر وادی کے مسلمان ہمیشہ سے اس خطرے کی بو محسوس کرتے رہے ہیں مگر بی جے پی کے دورِ حکومت میں یہ خطرہ کچھ زیادہ ہی عیاں ہوکر سامنے آرہا ہے۔ مگر مرکزی حکومت کو اس بات کی طرف توجہ دینی کی ضرورت ہے کہ 35A کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا مطلب کشمیر میں مزاحمت کے ایک نئے اور نہ ختم ہونے والے دور کا آغاز کرنا ہے ۔ اس طرح کی غلطی کرنے سے ریاست کے باشندے خاص طور پر مسلمان فلسطین ماڈل کے خلاف ردعمل میں اپنی جانیں قربان کرنے کے لئے آئے روز مرکزی سرکار کو آگاہ کرتے رہتے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ مرکزی سرکار کو کشمیر کے حساسیت کو سمجھ کر اس طرف دھیان دینا چاہئے اور سپریم کورٹ میں دفعہ35A کے منسوخی کے کیس کو سرے سے ہی کالعدم کرانے پر زور دینا چاہئے تاکہ ریاست میں امن و امان کو خطرہ نہ پہنچے۔