اداریہ

اب صحافی بھی نشانے پر

کچھ روز قبل بنگلورو کی ایک معروف خاتون صحافی گوری لنکیش کو نامعلوم اسلحہ برداروں نے قتل کیا۔ خاتون صحافی کی قتل پر ہر طرف افسوس اور ناراضگی کا اظہار کیا جا رہا ہے، پورے ملک کے صحافیوں کے علاوہ بنگلورو کی صحافی برادری ابھی گوری کی ناحق قتل کی مذمت ہی کر رہی ہے کہ کئی اور صحافیوں کو مارنے کی دھمکیاں آرہی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ صحافی گوری کی ہلاکت کے بعدارون دھتی رائے سمیت پانچ اور خواتین صحافیوں وقلمکاروں کوقتل کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔ ادھر این ڈی ٹی وے کے روش کمار کو بھی فیس بُک پر دھمکی برے پیغام مل گئے ہیں۔ روش کمار نے دھمکی بھرے پیغام کے بعد بھی اپنے اصولوں پر کار بند رہنے کی یقین دہانی کی۔ایک طرف مختلف شہروں میں گوری لنکیش کے قتل کیخلاف احتجاج کیا جا رہا ہے تو دوسری طرف بھاجپاسے وابستہ کرناٹک اسمبلی کے ایک ممبر جیوا راج نے انکشاف کیا کہ لنکیش زندہ ہوتیں اگر انہوں نے آر ایس ایس کیخلاف نہیں لکھا ہوتا۔ اس دوران ادھر صحافی گوری لنکیش کوگھرکے باہرقتل کئے جانے کے بعد شہرت یافتہ مصنفہ وسماجی کارکن ارون دھتی رائے اورسینئر خاتون صحافی سگاریکا گھوش سمیت پانچ معروف خواتین کو جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی ہے۔ یہ دھمکیاں فیس بک کے ذریعہ دی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ شوبھا ڈے ، اروندھتی رائے ، کویتا کرشنن ، شہلا راشد اور سگاریکا گھوش کو فیس بک پر گوری لنکیش جیسے نتیجے بھگتنے کی دھمکی مل گئیں۔ حالانکہ دہلی پولیس نے دھمکی برے پیغامات کا نوٹس لے کر مقدمہ درج کرکے جانچ شروع کردی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ ان صحافیوں کو دھمکی برے پیغام کیوں موصول ہو رہی ہیں۔ اس کا مطلب کیا نکالا جا سکتا ہے۔ ایک ممبر اسمبلی کا اشارہ کی گوری زندہ ہوتی اگر وہ آر ایس ایس کے خلاف نہیںلکھتی۔ مطلب یہ کہ صحافی کسی بھی حال میں اب محفوظ نہیں۔ اور سچ لکھنا یا کہنا اب جائز نہیں۔حقیقت کو منظر پر لانے کا انجام ممبر اسمبلی سمجھا رہا ہے۔ صحافیوں کو پریشان کرنے والوں کو سمجھنا چاہیے کہ صحافت ایک مقدس پیشہ ہے ۔ اور ایک سچا صحافی اس مقدس پیشہ کو کسی بھی صورت میںغلط طریقے سے استعمال نہیں کر سکتا ہے۔ چاہیے اس کی جان بھی کیوں نہ خطرے میں پڑ جائے، ایک سچے صحافی کو اس بات کی پرواہ نہیں کہ لکھنے کے بعد اس کا انجام کیا ہوگا، وہ ہمیشہ غیرجانبداری سے لکھتا ہے اور لکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ حالانکہ ممبر اسمبلی اس بات کو صاف ظاہر کر رہا ہے کہ ملک میں حکومت غنڈوں کے ہاتھوں میں ہے اور جو بھی انسان سچائی سامنے لانے کی کوشش کرے گا اس کا انجام گوری لنکیش جیسا ہو سکتا ہے۔ یہاں پر ہم یہ بات کہنے کے لئے مجبور ہو گئے کہ اس غنڈہ گردی کے سبب اب ان غنڈوں کے نا پسندیدہ صحافی نشانے پر ہو سکتے ہیں۔