اداریہ

اب وردی والوں کا احتجاج

9 اپریل کو سرینگر ضمنی پارلیمانی نشست کے چنائو عمل کے دوران اگرچہ ضلع بڈگام میں متعدد جگہوں پر مظاہرے ہونے کے ساتھ ساتھ مظاہرین اور فورسز کے درمیان کئی جگہوں پر جھڑپیں بھی ہوئیں تاہم مختلف جھڑپوں کے دوران 8 نوجوان مارے بھی گئے۔ اس کے بعد صورتحال میں لگاتار ابتری دیکھنے کو ملی۔ فوج کی طرف سے ظلم و زیادتیوں کے کئی ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائریل ہوئے، جس پر کئی ایک لوگوں نے حیرانگی کے ساتھ ساتھ افسوس کا اظہار کیا تاہم کئی ایک تعصب کے شکار افراد نے فوج کی طرف سے ایسی کارروائیوں کو جاری رکھنے کی حمایت کی۔ ریاست کے ایک وزیر نے اس طرح کی کارروائی کا دفاع کیا تاہم کئی ایک پارٹیوں نے ان کے اس بیان کے زبردست مذمت کی ہے۔ اس سے پہلے ہی اگر چہ وادی کے مختلف جگہوں پر صورتحال ابتر دیکھنے کو مل رہا تھا جب سرینگر پارلیمانی نشست کے چنائو کے دوران حالات بگڑنے کے بعد پلوامہ میں ڈگری کالج کے اندر فوج کے گھسنے کا غصہ طالب علموں نے سڑکوں پر آکر کیا۔فوجی کارروائی اور طالب علموں کے ردعمل کو مد نظر رکھتے ہوئے ضلع انتظامیہ پلوامہ نے کالج کو تدریسی کام کاج کے لئے دو دن کے لئے بند کیا تھا تاہم اگلے روز وادی کے متعدد جگہوں پر پلوامہ ڈگری کالج میں فوج کی زیادتی پر احتجاجی مظاہرے کئے گئے ہیں جس دوران کئی ایک طالب علم زخمی ہوئے جن میں کئی طالبات بھی شامل تھے۔ آناً فاناً چاروں طرف یہ خبر پھیلتے ہی تقریباً وادی کے ہر ضلع میں طالب علموں کا حتجاج ہوا، پورے دن طلبہ کے احتجاج اور وردی میں ملبوس طلبا کے پیچھے وردی والے فورسز پڑنے کے بعد سرکار نے تمام ہائیر سیکنڈری سکول، کالج اور یونیورسٹیاں درس و تدریس کے لئے بندکی تھی۔ اس دوران طالب علموںیعنی( وردی والوں)کااحتجاج جاری رہا اور آئے روز کہیں نہ کہیں پر کسی نہ کسی طالب علم کے زخمی ہونے کی خبر موصول ہوتی رہیں۔ حکومت نے اس دوران برانڈ بینڈ انٹرنیٹ سروس کے بغیر تمام قسم کی انٹرنیٹ سہولیات بھی معطل کر رکھی ہے اور اس طرح سے سوموار یعنی 17اپریل سے وادی میں انٹرنیٹ سروس معطل رکھی گئی اور تا حال کالجوں میںتدریسی کام کاج بھی بند کر دی گئی، اس طرح سے وردی والوں نے یعنی طالب علموں نے سڑکوں پر آکر ایک زبردست مظاہرہ کیا جس کے چلتے حکومت کو ایک ایک روز بڑھا کر کالج تاہم حال بند رکھنے پڑے۔ وردی والوں کا احتجاج اپنی جگہ تاہم وردی والوں کو بھی وردی والوں نے سبق سکھانے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی۔