مضامین

اخوان کا گڑھ رہ چکا حاجن بن رہا ہے پاکستانی ملی ٹینٹوں کی محفوظ پناہ گاہ

اخوان کا گڑھ رہ چکا حاجن  بن رہا ہے پاکستانی ملی ٹینٹوں کی محفوظ پناہ گاہ

نصیر راتھر
2003 میں خوفناک اخوان کمانڈر کوکہ پرے کی ہلاکت کے بعد ایک زمانے میں بھارت نواز بے قاعدہ مسلح تنظیم اخوان المسلمین کی حمایت کے لئے بدنام رہے شمالی کشمیر کے حاجن قصبہ میں اب کافی تبدیلی آئی ہے۔گرمائی دارالخلافہ سرینگر سے تقریباً45 کلو میٹر کی دوری پر واقع حاجن قصبہ اب پاکستانی ممنوعہ تنظیم لشکر طیبہ کے غیر ملکی ملی ٹینٹوں کے لئے ایک بیس کیمپ کی شکل اختیار کرچکا ہے جہاں گذشتہ دو برسوں کے دوران مطلوبہ کمانڈروں سمیت کئی ملی ٹینٹ مارے گئے ہیں۔تلاشی کاروائیاں یہاں اب معمول کی بات بن گئی ہے۔
ایک سابقہ بُزرگ استاد محمد رمضان نے بتایا کہ’’1990 میں ملی ٹینسی شروع ہونے کے بعد حاجن کی جغرافیائی ہیت کو دیکھتے ہوئے یہاں بھارت نواز اخوان المسلمین قیام کا عمل میں لایا گیا اور اس وقت حاجن کے لوگوں نے اخوان کا ساتھ دیا مگر اخوان نے علاقہ میں کافی خون خرابہ کیا اور سینکٹروں بے گناہوں کو منافرت ، رنجش اور ملی ٹینسی کی وجوہات پر ہلاک کر دیا تب سے یہ قصبہ اخوانیوں کی حمایت کے لئے بدنام ہے۔محمد رمضان نے مزید کہا کہ2003 میں کوکہ پرے کی دِن دھاڑے ہلاکت کے بعد اخوان کی ساخت تقریباً ختم ہوگئی اور وہ اب بالکل برعکس ہے کیوں کہ فورسز اب علاقہ میں گھومنے سے کتراتی ہیں اور وہ ملی ٹینٹوں کی موجودگی کے وقت ہی محاصرہ کرتی ہیں جہاں انہیں مقامی افراد کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
حاجن کی جغرافیائی ہیت ، بڑے میوہ باغات اور متعدد تنگ گلی کوچے شمالی کشمیر سے دراندازی کرنے والے پاکستانی ملی ٹینٹوں کو محفوظ پناہ فراہم کرتے ہیں ۔یہ اس علاقہ میں ملی ٹینسی کے سر اُٹھانے کی ایک بڑی وجہ بن گئی ہے۔
پاکستان سے دراندازی کرنے والے ملی ٹینٹ حاجن میں پناہ لے کر دیگر حصوں خاص کر سینٹرل کشمیر اور سرینگر کا رُخ کرتے ہیں اور اپنی حکمت عملی کے حوالے سے حاجن ان کے لئے محفوظ پناہ گاہ بن رہی ہے۔
فوج، پولیس اور نیم فوجی دستوں نے 4؍ جولائی کو حاجن میں ایک جامع تلاشی مہم چلائی جس کے لئے ملحقہ اضلاع سے حفاظتی دستے بلائے گئے اور50 ہزار آبادی والے اس قصبے کے تقریباً ہر گھر کے باہر حفاظتی اہلکار موجود تھے۔تلاشی کاروائی سے ایک دِن قبل ملی ٹینٹ مقامی بازار اور مسجد میں نمودار ہوئے جہاں انہوں نے مقامی لوگوں سے خطاب کیا۔
ایک مقامی نوجوان محمد حُسین نے بتایا ’’قصبہ میں صورتحال سنگین رُخ اختیار کررہی ہے اور ملی ٹینٹ اب کُھلے طور سے بازاروں اور گلی کوچوں میں گھومتے نظر آتے ہیں‘‘۔
کئی افراد نے فورسز پر بربریت اور بلاوجہ تنگ طلبی کا بھی الزام لگایا دوسری طرف ایس ایس پی نے کہا کہ یہ معمول کا ایک تلاشی آپریشن تھا جو بڑے پیمانے پر چلایا گیا تا کہ لوگ اپنے آپ کو محفوظ سمجھ سکیں۔
15 ویں کور کے کمانڈر لیفٹنٹ جنرل انیل کمار بھٹ کے مطابق قصبہ میں ملی ٹینسی اور شہری ہلاکتوں میں گذشتہ تین برسوں میں کافی اضافہ ہوا اور علاقہ میں مقامی ملی ٹینٹ سلیم پرے سمیت کئی پاکستانی ملی ٹینٹ سرگرم ہیں۔
19نومبر 2017 میں حاجن سے متصل چندر گیر نامی گاؤں میں حفاظتی دستوں نے لشکر طیبہ سے وابستہ6 غیر مُلکی ملی ٹینٹوں کو ہلاک کر کے علاقہ میں ملی ٹینسی کے خاتمے کا دعوی کیا تھا تا ہم قصبہ میں کم سے کم سات عام شہریوں کو بے دردی سے ہلاکر کیا گیا۔ایس ایس پی کے مطابق یہ شہری ہلاکتیں مقامی ملی ٹینٹ سلیم پرے اور اُس کے ساتھی پاکستانی ملی ٹینٹوں کی کارستانی ہے جو علاقہ میں ملی ٹینسی کو بڑھاوا دینے کی حکمت عملی بنا رہے ہیں۔
حاجن میں گذشتہ چند ماہ کے دوران کم سے کم سات عام شہریوں کو اغوا کر کے ہلاک کیا گیا ہے جس کی تازہ مثال قصائی محمد یعقوب وگے کی ہلاکت ہے جسے نامعلوم افراد نے اُس کے گھر میں گُھس کر اس کی بیوی اور سات سالہ ننھے بیٹے کی آنکھوں کے سامنے گلا کاٹ کر ہلاک کر دیا۔
یہ سلسلہ22 سالہ نوجوان منظور احمد کے گلا کاٹ کر ہلاک کئے جانے سے شروع ہوا تھا۔ منظور کے والد عبدالغفار نے بتایا’’منظور کی ہلاکت سے پہلے اسے اپنے ہی گھر سے بستر سے گھسیٹ کر اغوا کیا گیا اور اس کی سر کٹی لاش اگلی صُبح ایک باغ میں ملی اُسے بنا سر کے دفنایا گیا جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ علاقہ میں ملی ٹینسی کس حد تک اپنا سر نکال چکی ہے‘‘۔