اِسلا میات

اسلامی قانون کی ضرورت و اہمیت

مفتی محمد نعیم
آج ساری دنیا میں مسلمانوں کے عمومی زوال کا بڑا سبب یہ ہے کہ اپنے سرچشمۂ حیات سے ان کا رشتہ کمزور ہوگیا ہے، انہوں نے اس قانونی نظام کو سردخانے میں ڈال دیا ہے، جو نہ صرف ان کی زندگی و تشخص کو ضمانت فراہم کرتا ہے ،بلکہ ساری انسانیت کی حیات وارتقاء کا راز بھی اس میں پوشیدہ ہے ، لیکن مسلمان اپنا مقام بھول گئے، انہیں اپنی حقیقت کا عرفان نہ رہا ،انہیں یاد نہ رہا کہ وہ کس خدائی منصب اور خدائی نظام کو لے کر اس انسانی دنیا میں آئے ہیں؟ بلکہ وہ دنیا کی دوسری قوموں کی طرح مادہ پرستی، دنیا طلبی کے میدان میں کود پڑے اور ابلیسی نظام یہی چاہتاہے کہ دوسروں کو جگانے والی قوم خود سوجائے۔کاش کوئی ایسی صورت پیدا ہوتی کہ مسلمان پھر اپنے گھر کی طرف پلٹیں،اپنا کھویا ہوا خزانہ واپس لیں، انہیں ایسی آنکھ نصیب ہو کہ وہ ہیرے موتی اور کنکر پتھر میں فرق کرسکیں اور وہ پوری بصیرت کے ساتھ جان سکیں کہ انسانوں کا بنایا ہوا مصنوعی نظام کبھی خالق کائنات کے عطا کردہ قانونی نظام کا ہم پلّہ نہیں ہوسکتا ،پھر یہ کیسی نادانی ہے کہ خالق کا آستانہ چھوڑ کر دنیا مخلوق کے پیچھے دوڑ رہی ہے۔ارشادباری تعالیٰ ہے:’’دنیا والے آگ کی طرف بلارہے ہیں اور اللہ تمہیں جنت کی طرف پکاررہا ہے‘‘۔(سورۃالبقرہ)
جرم وسزا کا اسلامی فلسفہ اور اسلامی قانون معاشرے میں عدل ومساوات اور امن وسلامتی کا ضامن ہے۔اسلامی شریعت اور اسلامی قانون ہر دور اور ہر عہد کے مسائل کا حل پیش کرتے ہیں،موجودہ دور میں انتہاپسندی ،بدامنی ،دہشت گردی اور لاقانونیت کی بنیادی وجہ اسلامی شریعت سے انحراف اور اسلامی قانون پرعمل نہ کرنا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اسلامی قانون انسانی معاشرے کی فلاح کا ضامن ہے اور اس میں تمام مسائل کا حل موجود ہے۔
اس ضمن میں ہمیں اسلامی قانون کے مزاج کو اپنے پیش نظر رکھنا بہت مفید ہوگا، اس طرح اسلامی قانون کی افادیت اور اہمیت کو ہم اور اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔اسلامی قانون میں تمام اقوام عالم اور دنیا کے ہر خطے کی نفسیات اور طبعی میلانات کی رعایت رکھی گئی ہے، اسی مقصد کے پیش نظر اسلامی قانون کی تشکیل کے وقت چند بنیادی امور کا لحاظ کیا گیا جن سے اسلامی قانون کے ذوق ومزاج پر روشنی پڑتی ہے مثلاً: پورا لحاظ رکھا گیا ہے کہ کوئی ایسا حکم نہ دیا جائے جو عام لوگوںکے لیے ناقابل برداشت ہو۔ عبادات میں طبعی رغبت ومیلان کو اہمیت دی گئی اور ان تمام محرکات وعوامل کی اجازت دی گئی جو اس میں معاون ومددگار ثابت ہوں ،بشرطیکہ ان میں کوئی قباحت نہ ہو۔ جو چیزیں طبع سلیم پر گراں گزرتی ہیں، انہیں ممنوع قراردیا گیا۔ تعلیم وتعلّم اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو دائمی شکل دی گئی، تاکہ انسانی طبائع کو اسلامی مزاج کے مطابق ڈھالنے میں مدد ملتی رہے۔ بعض احکام کی ادائیگی میں عزیمت اور رخصت کے دو درجے مقرر کئے گئے، تاکہ انسان اپنی سہولت کے مطابق جسے چاہے اختیار کرے۔ بعض احکام میں رسول اللہ ﷺسے دو مختلف قسم کے عمل منقول ہیں اور حالات کے پیش نظر دونوں پر عمل کی گنجائش رکھی گئی۔ بعض برائیوں میں مادی نفع سے محروم کرنے کا حکم دیاگیا۔ احکام کے نفاذ میں تدریجی ارتقا کو ملحوظ رکھا گیا، یعنی ایک ہی وقت میں تمام احکام نافذ نہیں کردئیے گئے اور نہ ساری پابندیاں عائد کردی گئیں۔ تعمیری اصلاحات میں قومی کردار کی پختگی اور خامی کی خاص رعایت رکھی گئی۔ نیکی کے زیادہ تراعمال کی مکمل تفصیل بیان کردی گئی اور اسے انسانوں کی فہم پر نہیں چھوڑا گیا ورنہ بڑی دشواری پیش آتی۔ بعض احکام کے نفاذ میں حالات کی رعایت کی گئی اور بعض میں اشخاص وافراد کی۔
قرآن وحدیث میں متعدد صراحتیں اور ا شارے ایسے موجود ہیں جن سے مندرجہ بالا اصولوں پر روشنی پڑتی ہے، مثلاً:ترجمہ: ’’اللہ ہی کی رحمت سے آپ ان کے لئے اتنے نرم دل ہیں، اگر آپ ترش رو اور سخت دل ہوتے تو یہ لوگ آپ کے پاس سے چلے جاتے‘‘۔(سورہ ٔآل عمران)سورۃ البقرہ میں ہے: ”اللہ کسی شخص کو اس کی قدرت وطاقت سے زیادہ مکلّف نہیں بناتا۔اللہ تمہارے ساتھ آسانی چاہتا ہے دشواری اور تنگی نہیں چاہتا۔‘‘ترجمہ: ’’اللہ نے دین کے معاملے میں تمہارے لئے کوئی تنگی نہیں رکھی‘‘۔ (سورۃ الحج)ترجمہ: ’’اللہ نہیں چاہتا کہ تمہیں کسی دشواری میں مبتلا کرے، بلکہ اس کا مقصد تمہیں پاک وصاف کرنا ہے‘‘۔ (سورۃ المائدہ)
رسولِ اکرم ﷺ نے حضرت موسیٰ اشعری ؓاور حضرت معاذ بن جبل ؓکو دینی معاملات کا انتظام سپرد کرتے وقت فرمایا:ترجمہ: آسانی پیداکرو، مشکل میں نہ ڈالو، رغبت دلاؤ، نفرت نہ دلاؤ، جذبہٴ اتحاد واتفاق کو فروغ دو۔(متفق علیہ)ایک اور موقع پر ارشاد فرمایا:’’میں آسان دین حنیف دے کر بھیجا گیا ہوں‘‘۔(مشکوٰۃ)ابن ماجہ کی روایت میں ہے: ’’اسلام میں نہ کسی کو تکلیف پہنچانا ہے اور نہ خود تکلیف اٹھانا ہے‘‘۔
آپﷺ کا عام دستور تھا کہ جب آپ ﷺکو دو چیزوں میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار دیا جاتا تو آپ ﷺاس میں آسان تر کو اختیار فرماتے، بشرطیکہ اس میں گناہ نہ ہوتا۔ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہؓنے حضرت ابن عباس ؓسے پوچھا کہ دین میں تنگی نہ ہونے کا کیا مطلب ہے؟ جب کہ ہمیں بدکاری، چوری اور دوسری بہت سی سفلی خواہشات کی چیزوں سے روک دیاگیا ہے، حضرت ابن عباسؓ نے جواب دیا، تنگی نہ ہونے سے مراد یہ ہے کہ سخت قسم کے جن احکام کا جو بوجھ بنی اسرائیل پر تھا ،وہ اس امت پر نہیں ہے۔(کشاف ص ۲۹۲، تفسیر کبیر ج۶ ص ۱۲۸)ان آیات واحادیث سے اسلامی قانون کا مزاج سمجھنے میں کافی مدد ملتی ہے اور عام انسانی مفادات کے لیے اس میں کتنی گنجائش ہے، اس کا اندازہ ہوتا ہے۔علاوہ ازیں اسلامی قانون میں جو جامعیت، ابدیت، معنویت، زندگی، نفاست اور ہر دور کے حالات پر اس کی تطبیقی صلاحیت پائی جاتی ہے ،وہ دنیا کے کسی قانون میں نہیں ہے، اسی لئے ہر عہد میں اسی کو قیادت کا حق بنتا ہے۔
انسانی قانون قوت نفاذ کے لحاظ سے بھی کمزور واقع ہوا ہے، اسے اپنے افراد پر مکمل قابو نہیں ہوتا اور نہ تنہا قانون جرائم کے انسداد کے لئے کافی ہوتا ہے، اسے اپنے کسی بھی قانون کے عملی نفاذ کے لئے مضبوط معاونین کی ضرورت ہوتی ہے، اسی لئے اس قانون میں مجرموں کے بچ نکلنے کے بہت سے امکانات موجود ہوتے ہیں۔اس کے برخلاف اسلامی قانون کا آغاز ہی فکر آخرت اور حلال و حرام کے احساس سے ہوتا ہے ،وہ انسانی ضمیر کی تربیت کرتا ہے اور اس کے ظاہر وباطن کو قانون کے لیے تیار کرتا ہے، وہ اپنے ہر شہری کے دل ودماغ میں یہ احساس راسخ کرتا ہے کہ ترجمہ: ’’تم میں سے ہر شخص ذمہ دار ہے اور ہر ایک سے اس کی متعلقہ ذمہ داری کے بارے میں بازپُرس ہوگی‘‘۔(متفق علیہ)رسول اکرمﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:’’میں ایک انسان ہوں، میرے پاس مقدمات آتے ہیں، ممکن ہے کہ کوئی فریق اپنے مدمقابل سے زیادہ چرب زبان ہو اور میں اس کے ظاہری دلائل کی بناء پر اسے سچ گمان کروں اور اس کے حق میں فیصلہ کردوں ،اس لئے اگر میں کسی بھائی کے لیے دوسرے مسلمان بھائی کے حق کا فیصلہ کردوں تو محض فیصلے کی بناءپر وہ درست نہیں ہوجائے گا ،وہ آگ کا ایک ٹکڑا ہوگا جو چاہے لے اور جو چاہے، چھوڑ دے‘‘۔(مشکوٰۃ)
صدیوں سے انسان قانون سازی کے میدان میں کوشش کررہا ہے، اگرچہ اس میں الٰہی قوانین سے بڑی حد تک استفادہ کیاگیاہے ،لیکن اس کے باوجود ابھی تک کوئی ایسا مکمل قانون وضع نہ کیا جاسکا، جسے ناقابلِ ترمیم قرار دیا جائے اور انسانی جذبات وافعال کا مکمل آئینہ دار اسے کہا جاسکے۔ یہ صرف اسلامی قانون ہے جو اپنے آپ کو کامل ومکمل بھی کہتا ہے اور ناقابل تنسیخ بھی قرار دیتا ہے۔ترجمہ: ’’آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا، تم پر اپنی نعمتیں تمام کردیں اور بحیثیت دین ،اسلام کو پسند کیا‘‘۔(سورۃ المائدہ)ترجمہ: ’’اور ہم نے آپ پر کتاب نازل کی جس میں ہر چیز کا واضح بیان اور مسلمانوں کے لئے ہدایت ورحمت وبشارت موجود ہے‘‘۔ (سورۃ الاعراف)
قرآن ایسے اصول وکلّیات سے بحث کرتا ہے جن پر ہرزمانے اور ہر خطّے میں پیش آنے والی جزئیات کو منطبق کیا جاسکتا ہے اور ہر دور کے حالات وواقعات میں قرآنی نظائر وامثال سے روشنی حاصل کی جاسکتی ہے، قرآن کا یہ دعویٰ واقعات وتجربات کی روشنی میں بالکل درست ہے۔ ترجمہ: ’’اور ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لیے ہر طرح کی مثالیں بیان کردی ہیں‘‘۔(سورۃ الزّمر) اس حقیقت کا اعتراف مغربی ماہرین نے بھی کیاہے کہ شریعتِ اسلامی میں زندگی کے تمام مسائل ومشکلات کے حل کی پوری صلاحیت موجود ہے۔