اِسلا میات

اسلام میں عدل کی بالادستی اور بے لاگ احتساب کا تصور

مفتی محمد نعیم
تعلیماتِ نبویؐ اور اُسوۂ رسولﷺ میں پُرامن معاشرے کے قیام اور احترامِ انسانیت کا درس ملتا ہے،شریعتِ محمدیؐ کی رو سے ریاست کا کوئی فرد قانون سے مستثنیٰ نہیں،بلاامتیاز قانون کی حکمرانی کا تصوّر ہی امن و سلامتی کا حقیقی ضامن اور مثالی فلاحی ریاست کا بنیادی ستون ہے
قرآنِ کریم میں اﷲ تعالیٰ نے فرمایا:تمہارے رب کی بات سچائی اور عدل کے اعتبار سے کامل ہے۔’’عدل‘‘نہ صرف انسان کی فطرت میں شامل ہے،بلکہ انسان کی ساخت میں بھی شامل کر دیا گیا ہے۔ان سب کے بعداﷲ تعالیٰ نے اپنی آخری کتاب مبین میں عدل کا حکم بھی دیا:’’اﷲ تعالیٰ عدل اور احسان کا حکم دیتاہے‘‘۔اسوۂ نبویؐ ہمیں یہ تعلیم ملتی ہے کہ عدل کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے اور ریاست میں عدل وانصاف کا نظام بے لاگ احتساب کے اصول پر جاری ہو۔ارشاد ربانی ہے:اور حساب لینے کے لیے اﷲ تعالیٰ ہی کافی ہےاوربے شک اﷲ تعالیٰ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے۔پس اس دنیا کا اصل محتسب اﷲتعالیٰ ہی ہے۔(سورۃ النساء)مزید فرمایا :اللہ تعالیٰ تمہیں عدل اور احسان کا حکم دیتاہے‘‘۔اس رب کریم نے صرف اسی پر ہی بس نہیں کیا،بلکہ ایک بلند مرتبہ ذات بابرکات ،سرور کائنات حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو مبعوث فرمایا،جن کی کل حیاتِ طیبہ اور تعلیمات کے تمام تر مجموعے کواگر عدل کامل کانام دیاجائے تو بے محل نہ ہوگا۔
احتساب کا مطلب حساب کتاب،گنتی،عیب و صواب کی جانچ پڑتال،بازپرس،دیکھ بھال،جائزہ اور روک ٹوک ہے۔احتساب دراصل اﷲ تعالیٰ کا منصب و مقام ہے ،وہی اس کائنات کو دیکھنے والا ،اس کا حساب کتاب رکھنے والا اور مخلوق کے اعمال کاجائزہ لینے والا ہے۔اﷲ تعالیٰ کی صفات و اسماء میں سے ایک نام ’’الحسیب‘‘ بھی ہے۔
نبی اکرمﷺ کو جس دور میں مبعوث کیا گیا۔اس وقت ہر طرف ظلم وزیادتی اور ظلم وستم کے اندھیرے چھائے ہوئے تھے۔عدل وانصاف اور برابری ومساوات کا تصور تک نہیں تھا۔ ایسے میں اللہ رب العزت نے نبی اکرمﷺکو عدل وانصاف کا علم بردار بنا کر مبعوث فرمایا، چناںچہ قرآن کریم میں آپﷺ کی زبانی اعلان کروایا گیا ’’ مجھے حکم دیا گیا کہ میں تمہارے درمیان عدل و انصاف سے فیصلہ کروں۔‘‘
نبی اکرم ﷺکایہ بے لاگ عدل اور احتساب کا تصور جب معاشرے میں جگہ پاتاہے تو وہ معاشرہ مدینۃالنبی کی پاکیزہ و مقدس ریاست بن جاتاہے۔ محسن انسانیت ﷺ نے دوستوں اور دشمنوں پر بہت احسانات کیے،لیکن عدل کے معاملے میں کسی سے کوئی رعایت نہیں کی، محسن انسانیت ﷺ کی ختم نبوت کا ایک حسین پہلو یہ بھی ہے کہ آپﷺ نے عدالتوں کو عدل و احتساب کا درس دیا،یہ سبق آپ ﷺ کی ذات بابرکات سے پہلے دنیاسے عنقا ہوچکا تھااور انسانیت عدل و انصاف کو فراموش کر چکی تھی۔
آپ ﷺ نے عدل کے اطلاقی پہلویعنی بے لاگ احتساب کے لیے سب سے پہلے اپنی ذات کو پیش کیا،اس سے بڑھ کر عدل و احتساب کی کوئی مثال کہاں مل سکتی ہے کہ عمرمبارک کے آخری ایّام میں آپ ﷺ نے خود کو پیش کر دیاکہ میرے ہاتھوں کسی سے زیادتی ہوئی ہو تووہ اپنا بدلہ چکاسکتاہے۔ایک صحابیؓ آگے بڑھےاورعرض کیا، ایک جنگ کے موقع پرآپ ﷺنے صفیں سیدھی کرتے ہوئے میری کمر پر چھڑی رسید کی تھی۔ جب آپ ﷺنے اپنی کمر مبارک سے کرتا ہٹایا اور فرمایاکہ آؤاپنابدلہ لے لو،وہ صحابی آئےاور کمرمبارک سے لپٹ کرمہرنبوت کو بوسے دینے لگےاور پھرانہوں نے کہا، میںتودراصل اس بہانے مہر نبوت کابوسا لیناچاہتاتھا۔آپﷺ نے سود کو باطل قراردیا،لیکن سب سے پہلے اپنےحچا حضرت عباسؓ بن عبدالمطلب کاسودمعاف کیا،خون معاف کرنے کی روایت کاآغاز کیااورسب سے پہلے اپنے چچا حضرت حمزہؓ بن عبدالمطلب کاخون معاف کیااورغلام آزاد کرنے کاحکم دیاتو سب سے پہلے غزوۂ حنین کے موقع پراپنے غلام آزاد کیے۔عدل و احتساب کی یہ مثال آج بھی دنیاکے قوانین میں ناپید ہے۔
آپﷺ کی شان یہ ہے کہ آپﷺ نے عدل،مساوات اور احتساب کو بنیادی اہمیت دی۔ریاست مدینہ کے قیام کا بنیادی دستور بے لاگ عدل اور احتساب کو قرار دیا۔آپﷺ نے ریاستِ مدینہ میں بے لاگ عدل کو نافذ فرمایا۔آپ ﷺ نے دین اسلام کے اعلیٰ و ارفع مقاصد کا واضح تعارف اور مؤثر ابلاغ کرتے ہوئے نوع انسانی کو کفر و شرک اور جہالت کے اندھیروں سے ہی نہیں نکالا، بلکہ طبقہ واریت کے جبر،امارت و ثروت کی برتری اور نسلی عصبیت کے زعم باطل کا خاتمہ بھی کیا۔ حضوراکرم ﷺ کے لائے ہوئے نظام کی بنیاد انسانیت پرہے اوراسلام کے تمام پہلو انسانی فطرت کے عین مطابق ہیں، سزا اورجزا کاتصور صرف اسلام میں نہیں،بلکہ تخلیق انسانیت کے وقت سے یہ تصور ہردور میں رہا ہے ۔انسانی معاشرے کی بقا کا دارومدار اس کے اجزا کے مابین توازن و اعتدال پر ہوتا ہے،جب ان کے مابین عدم توازن پیدا ہو تو اسے معاشرے کے انحطاط سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اسی بناء پر قرآن حکیم نے عدل کی قدر پر زور دیا ہے۔حتیٰ کہ انبیائے کرامؑ کی بعثت کا مقصد نظام عدل کا قیام قرار دیا ہے ۔عدل کو تقویٰ کے قریب تر بتایا گیا ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے حضور جوابدہ ہونے کا یقین انسان کو حقوق کی ادائیگی کا شعور دیتا ہے۔رسول اﷲ ﷺکا پیش کردہ عدل کا نظریہ ہی حقوق و فرائض کی میزان ہے۔جس معاشرے میں حقوق و فرائض کا توازن بگڑ جاتا ہے،وہاں ظلم کا نظام اپنی جگہ بنا لیتا ہے۔ عدل کی بالادستی،بے لاگ احتساب کے بغیر ممکن نہیں، بے لاگ احتساب کا مفہوم یہ ہے کہ کسی مفاد اور اندیشے کو خاطر میں لائے بغیر معاملات کو نمٹایا جائے۔
آپﷺ نے محض عدل کی تلقین نہیں کی، بلکہ اس کی ابتدا اپنی ذات سے کی۔رسول اﷲ ﷺنے نہ صرف عدل کی بالادستی کا نظام قائم کیا،بلکہ بے لاگ احتساب کا مثالی اُسوہ بھی پیش کیا اور یہی عصر حاضر کی ضرورت ہے۔نبی اکرم ﷺنے اپنے طرزِ عمل سے صحابۂ کرامؓ کو بھی عدل وانصاف کا نہ صرف یہ کہ درس دیا،بلکہ انہیں عدل وانصاف کا عادی بھی بنا یا۔ا گر ہم سیرت طیبہؐ اور حضرات خلفائے راشدینؓ کے مثالی کردار کی روشنی میں آج کے حالات اور ماحول کا جائزہ لیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس وقت بالکل الٹی گنگا بہہ رہی ہے ۔نبی اکرم ﷺنے جس معاملے کو سابقہ قوموں کے زوال اور ہلاکت کا سبب قراردیا تھا،آج وہی منظر ہمارے ہاں بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔ ملک سے بدامنی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اسلام کے بے لاگ عدل کے تصور کو نافذ کرنا ہوگا جس میں کمزور اور طاقت ور،بااثر اور ایک عام فرد سب قانون کے کٹہرے میں مساوی نظر آئیں ،ہر فرد کو انصاف میسر ہو اور ہر فرد سے پورا پورا انصاف کیا جائے ،انصاف کا دہرا معیار اور بے لاگ عدل کے تصور کا خاتمہ کسی بھی معاشرے کی تباہی کی بنیاد ہے۔