سرورق مضمون

اسمبلی انتخابات سے انکار، سیاسی جماعتیں ناراض

الیکشن کمیشن نے اعلان کیا کہ جموں کشمیر میں صرف پارلیمانی انتخابات ہونگے۔ اس حوالے سے کہا گیا کہ اسمبلی انتخابات کے لئے ماحول سازگار نہیں ۔ ریاست کی مین اسٹریم جماعتوں کا الزام ہے کہ الیکشن کمیشن نے فیصلہ مرکزی سرکار کے کہنے پر کیا ۔ یہ پارٹیاں کمیشن کے اس فیصلے پر سخت ناراض ہیں۔ ادھر اطلاع ہے کہ الیکشن کمیشن نے پارلیمنٹ کے انتخابات کے فوراََ بعد اسمبلی انتخابات کرنے کا اشارہ دیا ہے ۔ اس حوالے سے تین آبزرور مقرر کئے گئے ہیں۔ ان آبزروروں نے پہلے ہی اپنا کام شروع کیا ہے ۔ بدھوار کو انہوں نے الیکشن کمیشن کے ساتھ ایک اہم میٹنگ کی اور آگے کے لئے طریقہ کار مقرر کیا ۔ این سی کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ آبزروروں کے ساتھ ملاقات نہیں کیا جائے گا ۔ اس وجہ سے صورتحال میں سخت تنائو پایا جاتا ہے ۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ حتمی فیصلہ عنقریب کیا جائے گا ۔ کئی جانکار حلقوں کا کہنا ہے کہ انتخابات اگست یا ستمبر کے مہینوں میں کرانے کی تجویز ہے ۔ تاہم اصل فیصلہ الیکشن کمیشن کی طرف سے ہی کیا جائے گا ۔
ریاست میں اس وقت صدر راج نافذ ہے ۔ الیکشن کمیشن نے حال ہی میں ریاست کا اہم دورہ کیا ۔ اس دوران تمام مین اسٹریم جماعتوں کے نمائندوں سے ملاقات کی گئی ۔ ملاقات کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ لگ بھگ تمام جماعتوں نے مشورہ دیا کہ ریاست میں پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلی کے انتخابات ایک ساتھ کئے جائیں ۔لیکن الیکشن کمیشن نے یہ تجویز مسترد کی اور اسمبلی کے انتخابات نہ کرانے کا اعلان کیا۔ اس اعلان سے تمام مین اسٹریم جماعتیں سخت ناراض نظر آتی ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ کمیشن نے ان کی بات ماننے کے بجائے بی جے پی کے مفاد کو مدنظر رکھا۔ ان کا الزام ہے کہ بی جے پی ریاست میں گورنر اور صدر راج کو طول دینا چاہتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ریاست میں اسمبلی انتخابات موخر کئے گئے ۔ اب الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ آگے کب انتخابات ہونگے جلد ہی اعلان کیا جائے گا ۔ چیف الیکشن کمیشن نے ریاست کے لئے مقرر کئے گئے جائزہ کاروں سے ملاقات کی ۔ نئی دہلی میں کی گئی اس اہم میٹنگ میں مبینہ طور سیاسی اور سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا ۔ طویل تبادلہ خیال کے بعد اعلان کیا گیا کہ حتمی فیصلہ بہت جلد لیا جائے گا ۔ یہاں یہ بات سامنے آئی کہ جائزہ کار چند دنوں میں ریاست کا تفصیلی دورہ کریں گے ۔ اس حوالے سے کہا گیا کہ الیکشن لڑنے والی جماعتوں کے سربراہوں کے ساتھ ایک بار پھر صلاح مشورہ کیا جائے گا ۔ تاہم این سی نے اس تجویز کو ٹھکرایا اور اعلان کیا کہ ریاست کا دورہ کرنے والے ان نمائندوں کے ساتھ ملاقات نہیں کی جائے گی ۔ اگرچہ ان جماعتوں نے پارلیمنٹ الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے ۔ کئی جماعتوں نے مختلف حلقوں کے لئے اپنے امیدواروں کو بھی سامنے لایا ہے ۔ این سی کا کہنا ہے کہ سرینگر کے لئے پارٹی صدر ڈاکٹرفاروق کو منڈیٹ دیا جائے گا ۔ اسی طرح بارھمولہ حلقے کے لئے اکبر لون اور اننت ناگ کے لئے پیر حسین کے نام سامنے آئے ہیں ۔ کانگریس کی طرف سے ڈاکٹر فاروق کے مقابلے میں طارق قرہ کا نام لیا گیا ہے۔ پی ڈی پی کی طرف سے بھی کئی نام سامنے آئے ہیں ۔ تازہ ترین اطلاع یہ ہے کہ کانگریس اور این سی کے درمیان متحد ہوکر الیکشن لڑنے پر صلاح مشورہ جاری ہے ۔ اس حوالے سے کہا جاتا ہے کہ کانگریس اودھم پور اور اننت ناگ کے علاوہ لداخ میں اپنے امیدوار کھڑا کرنا چاہتی ہے ۔ اگرچہ نیشنل کانفرنس نے اکیلے الیکشن لڑنے کا من بنایا ہے تاہم مرکزی کانگریس کی خواہش ہے کہ دونوں جماعتیں مل کر الیکشن لڑیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ بی جے پی کو شکست دینے کا یہ سب سے اچھا طریقہ ہوگا ۔ تمام جماعتوں کے الگ الگ الیکشن لڑنے سے اپوزیشن کے ووٹ تقسیم ہونے کا خطرہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ کانگریس مل کر الیکشن لڑنے کے حق میں ہے۔ اگرچہ کانگریس نے ملکی سطح پر کسی دوسری جماعت کے ساتھ الیکشن لڑنے سے تاحال انکار کیا ہے ۔ تاہم جموں کشمیر میں اس کی کوشش ہے کہ این سی کے ساتھ اتحادکرکے الیکشن میں حصہ لیا جائے ۔ اگرچہ دونوں طرف سے اس غرض سے کوششیں جاری ہیں ۔ تاہم یہ کوششیں نتیجہ خیز ثابت نہیں ہورہی ہیں ۔ابھی تک کسی قسم کی پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے ۔ انتخابات کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ انتظامیہ نے ایک ہزار مزید کمپنیاں بھیجنے کی مانگ کی تھی ۔ الیکشن کمیشن سے بتایا گیا کہ حالات کو قابو میں کرنے اور الیکشن کے لئے ماحول سازگار بنانے کے لئے ایک ہزار سیکورٹی کمپنیوں کی ضرورت ہوگی ۔ کمیشن نے اس غرض سے وزارت داخلہ کو ایک چھٹی لکھی ۔ کہا جاتا ہے کہ وزارت داخلہ کی طرف سے اتنی بڑی تعداد میں سیکورٹی اہلکار فراہم کرنے سے انکار کیا ۔ کمیشن سے یہ بات واضح کی گئی کہ پارلیمانی الیکشن کے دوران سیکورٹی اہلکار فراہم کرنا ممکن نہیں ہوگا ۔ اس حوالے سے کہا جاتا ہے کہ داخلہ وزارت نے صرف پانچ سو کمپنیوں کی فراہمی کو منظوری دی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ریاست میں اسمبلی انتخابات نہ کرنے کا اعلان کیا گیا ۔ اس کے بعد اسمبلی کے انتخابات الگ سے کرنے کا اشارہ دیا جارہاہے ۔ کہا جاتا ہے کہ پارلیمنٹ الیکشن کے اختتام کو پہنچنے کے بعد سیکورٹی اہلکار بڑی تعداد میں فراہم کئے جاسکتے ہیں ۔ تاہم سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ وزارت داخلہ نے پارلیمنٹ میں اعلان کیا کہ کمیشن کو ہر قسم کا تعاون فراہم کیا جائے گا ۔ لیکن اب وزارت داخلہ اپنے وعدے سے مکر رہی ہے ۔ ان کا الزام ہے کہ ایسا بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کے لئے کیا جارہاہے ۔ تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ میں ایک نوجوان کو نامعلوم بندوق برداروں نے گولی مار کر ہلاک کیا ۔ پنگلنہ علاقے میں پیش آئے اس واقعہ سے متعلق کہا جاتا ہے کہ ہلاک کیاگیا نوجوان فوج کا اہلکار تھا۔ فوجی حلقوں نے اس بات سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ پہلے ایس پی او کے طور کام کرتا تھا ۔ بعد میں وہ فوج میں بھرتی ہوا ۔ لیکن ٹریننگ ادھوری چھوڑ کر بھاگ گیا۔ اس کے علاو ہ بیج بہاڑہ میں ایک سیاسی کارکن کو گولی مار کر زخمی کیا گیا ۔ اس وجہ سے سیاسی حلقوں میں سخت تشویش پائی جاتی ہے ۔ تاہم کئی حلقے اس بات پر متفق ہیں کہ ووٹ ڈالنے کی شرح میں اضافہ ہوگا ۔ علاحدگی پسند پہلے ہی جیلوں میں بند کئے گئے ہیں۔ اس وجہ سے ان کی طرف سے بائیکاٹ کی مہم چلانا لا خطرہ نہیں ہے ۔ اس کے باوجود سیکورٹی حلقوں کو خدشہ ہے کہ جنگجو الیکشن کو تہس نہس کرنے کی کوشش کریں گے ۔ آگے کیا حالت ہوگی اندازہ لگانا مشکل ہے ۔