اداریہ

اعتدال کی زندگی

مقدس مہینہ یعنی ماہ رمضان میںہم باقی مہینوں سے کچھ زیادہ ہی اللہ کی بارہ میں عجز و انکساری سے دعائیں مانگتے ہیں، صداقات و خیرات بھی ادا کرتے ہیں، نمازوں کا اہتمام پابندی سے کرتے ہیں، لیکن روزوں کا اصل مقصد حاصل نہیں کر پاتے ہیں، اس مہینے میں بھی لوگوں کی زندگی میں کوئی اسلامی رنگ نظر نہیں آتا ہے۔ ہمارے ہاتھوں میں رحم کے بجائے ظلم ہوتا ہے،اعتدال کہیں پر نظر نہیں آتا، اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا ہے کہ بہت سے روزہ دار ایسے ہیں جنہیں فاقوں کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا ہے ہمیں سوچنا چاہیے کہیں ہم ایسے ہی روزداروں میں شامل تو نہیں ہوئے، ہم روزہ تو رکھتے ہیں لیکن اپنی زندگی بدلنے کے لئے تیار نہیں ہوتے، ہم صبح و شام بھوکے رہتے ہیں، نماز بھی پڑھتے ہیں، صدقہ بھی دیتے ہیں، خیرات بھی کرتے ہیں، لیکن کہیں کچھ ایسا تو نہیں کرتے ہیں کہ سب کچھ لاحاصل ہے۔ اگر اس سے ہماری زندگی میں کوئی بدلائو نہیں آتا ہے، بہت سارے مسلمانوں ایسے ہیں جن کی زندگی میں روزہ داری سے انقلاب آیا تھا۔ ماہ رمضان جہاں ہمیں سخاوت اورتزکیہ نفس سکھاتا ہے وہیں اعتدال کی زندگی کو بڑی اہمیت دیتا ہے اور ہمیں ماہ مبارک کے ایام میں اعتدال کا بھی خاص خیال رکھنا چاہیے۔
ابلیس اور آدم کی دشمنی ایک تاریخی المیہ ہے، ہابیل اور قابیل کے خونین تصادم نے روایت کو برقرار رکھا، پھر رزم گاہ کائنات میں حق اور باطل کا ایک لا منتہائی تنازعہ معرض وجود میں آیا۔انبیائے کرائم اور صالحین امت نے شر کو خیر سے اور بدی کو نیکی سے مٹانے کی حتی الامکان کوششیں کیں اور دنیا میں حق اور باطل کے درمیان ایک حدِ فاصل قائم کی۔ بدی کو مٹانے کے کچھ پیمانے بنائے اور نیکی کو عام کرنے کے کچھ اصول وضع کئے۔ انہی اصولوں کو اپنا کر انسانی زندگی میں ایک صالح انقلاب اور ایک صالح معاشرہ معرض وجود میں لانے کی امید بندھ جاتی ہے۔خوشگوار زندگی گزارنے کا ایک گُر یہ بھی ہے کہ آپسی معاملات میں انتہاپسندی کے بجائے مینہ روی اپنائی جائے۔ برداشت کا مادہ اپنے اندر اتنا بڑھانا ضروری بن جاتا ہے کہ کسی شخص کی دشمنی میں بھی اخلاق کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹنے پائے۔