سرورق مضمون

افضل گورو اور مقبول بٹ کی برسی پر پھر ہڑتال/ گورو کے بیٹے کا احتجاج ، حریت پر ناکامی کا الزام

افضل گورو اور مقبول بٹ کی برسی پر پھر ہڑتال/  گورو کے بیٹے کا احتجاج ، حریت پر ناکامی کا الزام

ڈیسک رپورٹ
فروری کی 9 اور 11 تاریخ کو کشمیر میں ایک بار پھر ہڑتال کی گئی ۔ 9 فروری کو افضل گورو کو تہاڑ جیل میں رازداری کے ساتھ پھانسی دی گئی اور ان کی لاش گھر والوں کو حوالے کرنے کے بجائے وہیں دفنائی گئی ۔ اسی طرح 11فروری مقبول بٹ کی یادمیں منایا جاتا ہے۔ بٹ کو تہاڑ جیل میں ہی پھانسی دی گئی اور وہیں دفن کیا گیا ۔ دونوں افضل اور بٹ ایک دوسرے کے پہلو میں دفن ہیں ۔ دونوں کے لواحقین کے ساتھ کشمیر کے حریت پسند مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کی باقیات کو تہاڑ جیل سے واپس کشمیر لایا جائے ۔ اس مطالبے کولے کر ہرسال یہاں ہڑتال کی جاتی ہے ۔ کئی جگہوں پر احتجاج کیا جاتا ہے اور قراردادیں پاس کی جاتی ہیں ۔ اس حوالے سے یہ بات بڑی اہم ہے کہ آج افضل کی برسی کے موقعے پر ان کے بیٹے غالب نے الزام لگایا کہ حریت لیڈر ان کے والد کی باقیات واپس لانے میں ناکام رہے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ حریت لیڈروں نے اسے یقین دلایا تھا کہ اس سلسلے میں زوردار مہم چلاکر افضل کی میت کشمیر لانے پر زورڈالا جائے گا ۔ غالب نے اپنے والد کی برسی کے موقعے پر سخت مایوسی کا اظہار کیا اور حریت پر تنقید کی کہ اس حوالے سے کوئی خاص کوشش نہیں کی گئی ۔ ان کا کہنا ہے کہ حریت رہنمائوں نے افضل کی شہادت کو بھول کر اس حوالے سے کوئی خاص کوششیں نہیں کیں ۔ اس دوران حریت کی مشترکہ قیادت نے ایک بار پھر اپنے بیان میں مطالبہ کیا ہے کہ افضل اور بٹ کی میتیں کشمیر لاکر ان کے لواحقین کے حوالے کی جائیں ۔ یہ بات بڑی اہم ہے کہ افضل کی برسی کے موقعے پر انکشاف کیا گیاہے کہ ان کو پھانسی دے کر اسلامی اصولوں کے مطابق کفن دفن کا انتظام نہیں کیا گیا، بلکہ الزام لگایا جارہاہے کہ اس کے لئے قبر کھودنے کے بجائے ایک گھڑے میں ڈال کر دفنایا گیا ۔ حکومت نے اس سے پہلے بیان میں کہا تھا کہ پولیس کے کچھ مسلمان اہلکاروں کو بلاکر ان کے ہاتھوں افضل کو پورے اسلامی اصولوں کے مطابق دفنایا گیا ۔ اب اس بیان کی تردید کی جارہی ہے اور الزام لگایا جارہاہے کہ افضل کو بس یونہی دفن کیا گیا جو کہ عالمی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہے ۔
افضل گوروکو 2013 میں خفیہ اندازمیں پھانسی دی گئی ۔ افضل کو2001 میں پارلیمنٹ پر جنگجووں کے ہاتھوں ہوئے حملے میں ملوث قرار دے کر گرفتار کیا گیا ۔ اس حملے کی ذمہ داری معروف عسکری تنظیم جیش محمد پر ڈالی گئی۔ جنگجوئوں کو دہلی پہنچانے اور حملے میں معاونت کرنے پر افضل کو گرفتار کیا گیا ۔اس کے بعد اس پر عدالت میں مقدمہ چلایا گیا جہاں اسے حملے میں ملوث قرار دے کر اسے پھانسی کی سزا سنائی گئی ۔ اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی گئی ۔ کئی سال کی شنوائی کے بعد سپریم کورٹ نے افضل کے خلاف پھانسی کا حکم برقرار رکھا ۔ افضل اس بات سے انکار کرتا رہا کہ پارلیمنٹ پر ہوئے حملے میں اس کا کوئی رول تھا ۔ بعد میں اس نے صدر کے پاس رحم کی درخواست بھیج دی ۔ کئی مہینوں کے انتظار کے بعد صدر نے ان کی رحم کی درخواست مسترد کی اور آخر کار انہیں تہاڑ جیل میں پھانسی دی گئی۔ اس سے پہلے یہی معاملہ مقبول بٹ کے ساتھ کیا گیا ۔ مقبول کو 1984 میں پھانسی دی گئی اور تہاڑ جیل میں ہی دفن کیا گیا ۔ بٹ پر الزام تھا کہ اس نے بینک پر ڈاکہ دالنے کے دوران بینک منیجر پر گولی چلاکر اسے ہلاک کیا ۔ بٹ کا مقدمہ بھی کئی سال عدالت میں چلا ۔ اس دوران وہ جیل سے بھاگ گیا اور پاکستان چلاگیا ۔ وہاں سے واپسی پر اسے گرفتار کیا گیا اور مقدمہ چلایا گیا ۔ بینک منیجر کی ہلاکت میں ملوث قرار دے کر اسے عدالت نے پھانسی کی سزا دی ۔ اس سزا کے خلاف مقدمہ چلا اور رحم کی اپیل صدر کے پاس بھیجدی گئی ۔ اپیل مسترد ہونے پر بٹ کو پھانسی دی گئی ۔ اس وقت سے لے کر ان کی برسی پر مطالبہ کیا جاتا ہے کہ ان کے جسد خاکی کو واپس ان کے لواحقین کے حوالے کیا جائے۔ ریاست میں عسکریت شروع ہونے کے بعد بٹ کی برسی سخت جوش و خروش سے منائی جانے لگی ۔ اس حوالے سے یہ بات بڑی اہم ہے کہ بٹ کی ہلاکت کے وارنٹ پر دستخط کرنے میں اس وقت کے وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ کو ملوث قرار دیا جاتا ہے ۔ اسی طرح افضل کے وارنٹ پر کہا جاتا ہے کہ عمر عبداللہ نے دستخط کئے ۔ دونوں باپ بیٹے ایسی کوئی کاروائی کرنے سے انکار کرتے ہیں۔تاہم دونوں افضل اور بٹ کے لواحقین کے علاوہ علاحدگی پسند الزام لگارہے ہیں کہ افضل اور بٹ کو عبداللہ خاندان سے مشورہ کرکے پھانسی دی گئی ۔ افضل کو جب پھانسی دی گئی تو اس کی خبر اس وقت تک باہر نہیں آنے دی گئی جب تک پوری کشمیر میں سیکورٹی کا سخت انتظام کیا گیا اور حساس علاقوں میں کرفیو نافذ کیا گیا ۔ حکومت کو خدشہ تھا کہ اس موقعے پر تشدد اور احتجاج ہونے کا خطرہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ رات کو ہی سیکورٹی کا انتظام کرکے پورے کشمیر پر قدغن لگائی گئی اور احتجاج کو روکا گیا ۔ اس وقت سے لے کر دونوں کی برسی پر کشمیر میں ہڑتال کیا جاتا ہے اور کئی جگہوں پر تشدد بھی ہوتا ہے ۔اس سال بھی 9 اور 11 فروری کو علاحدگی پسندوں کی اپیل پر پورے کشمیر میں ہڑتال کی گئی ۔ سید علی گیلانی پہلے سے ہی خانہ نظر بند ہیں ۔ حکومت نے جمعہ کو میرواعظ عمر فاروق کو گھر میں نظر بند کیا ۔ اسے پہلے اسمبلی ممبر انجینئر رشید کو گرفتار کیا گیا ۔ انجینئررشید نے کپوارہ میں سمینا ر کا اہتمام کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی ۔ لیکن اسے ایسا کرنے نہیں دیا گیا ۔ اسی طرح یاسین ملک کو اپنے کئی ساتھیوں سمیت گرفتار کیا گیا۔ یاسین ملک لبریشن فرنٹ کے بانی رہنما مقبول بٹ کی برسی پر ایک احتجاجی جلوس کا اہتمام کرنے والے تھے ۔ لالچوک میں انہوں نے درجنوں ساتھیوں سمیت جمع ہوکر سرینگر میں مقیم یواین فوجی مبصرین کے پاس ایک میمورنڈم جمع کرنے کے لئے مارچ کرنے کی کوشش کی۔اس موقعے پر یاسین کو اپنے درجن بھر ساتھیوں سمیت گرفتار کیا گیا ۔ حریت رہنمائوں نے جمعہ کو یواین آفس تک مارچ کرنے کے پروگرام کا اعلان کیا تھا ۔ اس کے لئے لوگوں سے مارچ میں شامل ہونے کی اپیل کی گئی تھی ۔ لیکن لوگوں کو ایسا کرنے نہیں دیا گیا ۔ اس موقعے پر سوپور اور پٹن پلہالن کے علاوہ سرینگر کے کئی علاقوں میں احتجاج کیا گیا ۔ تاہم بڑے پیمانے پر تشدد ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے ۔ اس طرح سے کشمیر میں ایک بار پھر افضل گورو اور مقبول بٹ کی برسی پر ہڑتال اور احتجاج کی گئی ۔