اداریہ

اقتدارپانے کے بعد!

محبوبہ مفتی ریاست کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ بننے کے بعد باقی سیاسی لیڈروں کی طرح عوام کے ساتھ کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے میں پوری طرح ناکام رہ چکی تھی، محبوبہ مفتی جب وزیراعلیٰ کے عہدے پر نہ تھیں اور پی ڈی پی بھی جب اقتدار میں نہیں تھا تو محبوبہ مفتی ریاست کے عوام خاص کر وادی کشمیر کے عوام کی غمخو ار بن رہی تھی، کشمیری عوام کے تئیں زبردست ہمدردیاں دیکھاتی تھی،اتنا ہی نہیں پی ڈی پی کو جب اقتدار نہ تھا اور محبوبہ مفتی کو بھی جب وزیراعلیٰ کا منصب نہ تھا، وادی میں اگر کہیں پر کوئی ہلاکت ہوتی تھی چاہے وہ ہلاکت فورسز کے ذریعے ہی کیوں نہ ہوتی تھی محترمہ ان کے اہل خانہ کو تعزیت کرنےضرور جاتی تھی، سوگواران کو نہ صرف زبانی تعزیت کرتی تھی بلکہ کما حقا وہاں ضرورت کے مطابق اپنے آنسو بھی بہانے کی کوشش کرتی تھیں۔ پھر جب محبوبہ جی کو اقتدار ملا یعنی وزیراعلیٰ کے اعلیٰ منصب پر براجمان ہوئیں تو نرم رویہ کے بجائے گرم مزاج کے بن گئی۔ وہ اپنے تمام وعدےیکدم بھول گئیںاور وہ کسی بھی طرح سے عوام کی وہ ہمدردنہ رہی جو اقتدار سے پہلے تھی، یہاں محبوبہ مفتی کی ہی بات نہیں بلکہ یہاں تقریباً سبھی لیڈر جو آج تک اس اعلیٰ منصب یعنی وزیراعلیٰ کے عہدے پر رکھے گئے۔ تقریباً سبھی لیڈروں نے عوام کو سبز باغ دکھانے میں کوئی کثر نہیں چھوڑرکھی۔ غریب عوام ہمیشہ لاچار اور مجبور ہوتا ہے ان کو سبزباغ دکھانا بھی آسان ہوتا ہے یہ الگ بات ہے کہ عوام کو بعد میں اپنے کئے پر پچھتانے پر بھی مجبور ہونا پڑتا ہے، اس میں بھی کوئی دورائے نہیں کہ یہی عوام جو ایک ادنیٰ سا انسان کو بڑے سے بڑا لیڈر بناتا ہےوہی عوام بعد میں ایک بڑے طاقت کے طور پر اُبھرنا جانتے ہیں ، اس لئے اقتدار ہو یا نہ ہو عوام کے دلوں کے جذبات کے ساتھ نہ کھیلاجائے۔محبوبہ مفتی وزارت سے پہلے عوام میں اپنی ساکھ مضبوط کرنے کے لئے یہاں جان بحق ہوئے نوجوانوں کی گھر جا کر آنسو بہاتی تھی اور وزیراعلیٰ کی کرسی حاصل کرنے کے بعد تو پہلے جیسی نرم مزاجی اور نرم دلی ان میں نہ تھی۔ حالانکہ عوامی حلقے بار بار اس بات کو محسوس کر رہے تھے کہ آخر محبوبہ جی کا مزاج اقتدارپانے کے بعد اتنا کیوں بدل گیا؟ بہر حال محبوبہ مفتی کا اقتدار بھی نہ رہا ، البتہ دوبارہ اقتدار میں آنے کے لئے ایک بار پھر پرانے نسخے آزمانے کی وہ بھرپور کوشش میں ہے اور آج ایک بار پھر اپنا ماضی دہرا رہی ہے عوامی اعتماد حاصل کرنے کے لئےنرم مزاج بن رہی اور جان بحق ہوئے عساکر کے گھر جانے اور وہاں واویلا کرنے کا ایک بار پھر مزاج بنا رکھا ہے تاہم دیکھنا یہ ہے کہ ریاست کا عوام اُن کے اصل روپ کو پہنچان گئے یا نہیں۔