مضامین

اقتدار حاصل کرنے کے لئے سب کچھ ممکن!

یوسف ندیم
یہ سن2014 کی بات ہے جب کشمیری عوام تباہ کن سیلاب کے شکار ہوئے تھے،کشمیر میں ایک زبردست سیلاب کیا آیا کہ اس نے ایک ریکارڈ قائم کیا، جس میں کئی قیمتی جانیں تلف ہوئیں اور سینکڑوں گھرانے بے گھر ہوگئے ، غرض2014 کے سیلاب نےیقینی طور پر کشمیری عوام کو کہیں کا نہیں چھوڑا تھا، اس سیلاب میں باپ کا بیٹے کی پتہ نہیں اور ماں کو بیٹی کی علمیت تک نہیں رہی، غرض ہر کوئی اس فکر میں لگے ہوئے ہیں کہ کم از کم انسانی جانیں صحیح سلامت ہوں، یہاں کا عوام زار وقطار رو رہے تھے اور اپنے مالی نقصان کے پچھتاوے میں لگے ہوئے تھے۔عوام ابھی سیلاب کے کانٹے بھی نہیں نکالے کہ ان پر اسمبلی الیکشن کے پروسس سے گذرنا پڑا تھا، یہاں کی سیاسی جماعتوں خاص کرپی ڈی پی نے الیکشن کمیشن آف انڈیا پر زور دیا تھا کہ وہ ریاست میں فوراً سے فوراً تر انتخابات کرائیں اور اس طرح سے سیلاب کے خوفناک لہروں سے معصوم کشمیری اگر کچھ حد تو بچ گئے تاہم سیلاب کے فوراً بعد جب انتخابات کابے وقت بوجھ ڈالا گیا تو یقینا سیلاب سے ہوئی تباہی کے باعث اس وقت کے حکمران جماعتوں نیشنل کانفرنس اور کانگریس کو نقصان اُٹھانا پڑا تاہم اس وقت کے اپوزیشن پارٹی پی ڈی پی کو سیلاب کی تباہ کاری کا سہرا ملنے کا ضرور خدشہ تھا۔ اسی بلبوتے پر اس پارٹی نے فوراً سے فوراً تر الیکشن کرانے کی مانگ کی تھی۔
الیکشن کمیشن آف انڈیا ریاست میں الیکشن کرانے پر راضی کیا ہوا کہ ریاست میں الیکشن نوٹیفکیشن کے نکلتے ہی ابتدائی دنوں میں اگر چہ الیکشن ریلیوں میں تمام سیاسی پارٹیوں نے عوام کو اپنی طرف سے سبزباغ دکھانے شروع کئے تاہم اس دوران پی ڈی پی نے کچھ زیادہ ہی کرتب دکھانے شروع کئے، تقریباً پی ڈی پی کے سبھی لیڈروں نےان دنوں الیکشن ریلیوں میں بی جے پی مخالف مہم چلانے میں کوئی کثر نہیں چھوڑا تھا۔ اور تو اورپی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے اُس وقت کئی ریلیوں میں ببانگ دہل یہ بات کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں کی کہ بی جے پی کو ووٹ دینا براہ راست نریندر مودی کو ووٹ دینا ہے۔ محبوبہ مفتی نے عوام کو خبردار کیا کہ وزیراعظم نریندر مودی کے ہاتھ ہزاروں مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں اور اس طرح سے بی جے پی کو ووٹ دینا مسلمانوں کے قاتلوں کو ووٹ دینا ہے، یہ ایک زبردست مہم جو محبوبہ مفتی کی قیادت میں اس وقت پی ڈی پی نے بی جے پی کے خلاف چلا ئی تھی۔ اسی طرح دوسری بڑی پارٹیوں نے بھی ایک دوسری پارٹیوں کو ننگے کرنے کیلئے ایک دوسرے پر الزامات لگا کر اپنے ہی حق میں عوام سے ووٹ مانگنے میں کوئی بھی کثر نہیں چھوڑی تھی۔ تاہم جب ریاست میں انتخابات ہوئے لوگوں نے اگر چہ اتنی فیصدی میں ووٹ کاسٹ نہیں کئے جتنے کہ پی ڈی پی اور دوسری بڑی مین سٹریم پارٹیوں کو امید تھی تاہم جتنی بھی فیصدی میں ووٹ پڑے ان کے نتائج کیا آئے کہ پی ڈی پی 28 نشستوں کے ساتھ ریاست کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی کے طور اُبھر آئی اور اسی طرح ریاست کی دوسری بڑی پارٹی بی جے پی نے 25 سیٹوں کے ساتھ جیت درج کی۔اس طرح سے ریاست میں دونوں پارٹیوں نے حکومت بنانے کے لئے پہل کی۔ اس دوران کافی عرصہ گذر جانے کے باوجود بھی حکومت بننے کے چانس نظر نہ آئے تاہم کئی مرتبہ نیشنل کانفرنس نے بی جے پی کو اعتماد دینے اور انہیں حکومت بنانے کی پیشکش کی تاہم اگرچہ پی ڈی پی بی جے پی کے ساتھ حکومت بنانے کے لئے پہلے سے ہی تیار تھی مگر بیچ میں ایک وقفہ ضرور دیا گیا جو کہ عوام کے لئے سب سے بڑا دھوکہ تھا۔
اب اگر چہ فوراً حکومت بنانے کی کوشش نہیں کی گئی تاہم مفتی محمد سعید نے تقریباً دو مہینے کے بعد جموں کے زور آور سنگھ آڈیٹوریم میں بحیثیت ریاست کے 12 ویں وزیراعلیٰ کے طور حلف لیا تھا۔ مرحوم مفتی محمد سعید اس بات سے واقف تھے کہ ریاستی عوام بی جی پی کے ساتھ پی ڈی پی کے اتحاد کرنے میں خوش نہ تھے تاہم مرحوم بھی ایک غلط فہمی میں ضرور تھے جس کے چلتے مرحوم نے بی جے پی کو ہی حکومت میں شامل کرنے کو ترجیح دی تھی، وہ یہ کہ مرکز میں بی جے پی کی حکومت ہے اور ریاست میں بی جے پی حکومت میں ساجھے دار بنا کر ان سے ایسا فائدہ اٹھایا جائے جس سے ریاستی عوام یہ ضرور بھول جائیں گے کہ مفتی محمدسعید نے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کر کے عوام کو دھو کہ کیا تھا ۔ ان کی رائے یہ ضرورتھی کہ مرکز ریاست کو اتنا مالی امداد کرے گا جس سے ریاست میں نہ صرف اچھی خاصی تعمیر و ترقی ہو جائے گی بلکہ یہاں کے لوگ بھی خوشحال ہو جائیں گے تاہم جب مرکز کی طرف سے یہ بھی نہیں ہوا تو ضرور مفتی محمدسعید کو اپنے کئے پر پچھتانا پڑ ا تھا۔ اتنا ہی نہیں مفتی محمد سعید نے جب وزیراعظم نریندر مودی کو ریاست کی دعوت دے کر کشمیر لایا تاکہ یہاں ان کی ساکھ تھوڑا بہت بچ جائیں ۔ اگر چہ سونہ وار کے سٹیڈیم میں وزیراعظم نریندرمودی کی موجودگی میں کشمیری عوام کو خوش کرنے کیلئے مرحوم مفتی محمد سعید نے وزیراعظم کو اشارہ دیا کہ وہ پاکستان کے ساتھ دوستی کرنے کیلئے کہے اور یوں مفتی محمد سعید نے کہا ہمارے وزیراعظم نریندر مودی پاکستان کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بٹھانے کے حق میں ہیں ، تاہم وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید کی تقریر کے بعد جب وزیراعظم نریندر مودی نے اپنا خطاب شروع کیا تو اپنے تقریر میں وزیراعظم نریندر مودی نے اس بات کا بھرملا اظہار کیا کہ کشمیر کے بارے میں مجھے کسی کے مشورہ کی ضرورت نہیں یعنی مفتی محمد سعید کو وزیراعظم کی طرف سے منہ پر ہی جواب ملا تھا، تب مفتی محمد سعید مایوس ہوئے اوران کے پاس اظہار ناراضگی کا راستہ تھا اور نہ اور کچھ،تاہم سلسلہ آگے بڑھتا گیا۔ وزیراعلیٰ مفتی محمدسعید کا معیار بھی آب آہستہ آہستہ کم ہونے لگا ،کیونکہ بی جے پی کے لیڈران مفتی محمد سعید کو خاطر میں نہ لاتے تھے ہاں وزیراعلیٰ مفتی محمدسعید کے پاس وزیراعلیٰ کی نام کے علاوہ کچھ بھی نہ دکھتا تھا۔ وزیراعلیٰ ہونے کے ناطے انہیں جے کے بنک کے اے ٹی ایموں کی افتتاح کرنے کے لئے لیتے تھے مطلب یہ کہ جو مفتی محمدسعید کا دبدبہ تھا وہ اب دیرے دیرے ختم ہوا تھا۔ ہاں اب مفتی محمد سعید اپنا عزت بچانے کے لئے حکومت کی سربراہی ضرور کرتے رہے، بالآخر مفتی محمد سعید کی صحت اچانک بگڑ گئی اور انہیں علاج و معالجہ کے لئے بیرون ریاست لینا پڑا، جہاں وہ کئی دنوں تک زیر علاج رہنے کے بعد اس دنیا سے چل بسے۔ اس طرح سے بی جے پی پی ڈی پی والی سرکار کا ایک طرح سے خاتمہ ہوا۔ ریاست میں گورنر راج کا نفاذ عمل میں لایا گیا تھا، تقریباً دو مہینے کا وقفہ گذر جانے کے بعد بھی ریاست میں سیول حکومت قائم نہ ہوئی۔ اس دوران محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے ساتھ حکومت بنانے میں ناراضگی دکھائی تاہم جب اپنی ہی پارٹی کے چند ایک ممبران بغاوت کے راستے پر اُتر آئے تو مجبوراً محبوبہ مفتی کو بھی دلی کا رُخ اختیار کرنا پڑا، وہاں بی جے پی لیڈران کے ساتھ ملاقات کر کے ریاست کو پائور پروجیکٹوں کی واپسی کے شرط پر حکومت بنانے پر رضا مندی دکھائی تاہم جب محبوبہ مفتی کی یہ مانگ بھی بی جے پی لیڈران نے خاطر میں نہیں لائی تو مجبوراً وہ بھی تنخواہ اور مراعات کے علاوہ میٹنگوں کی صدارت اور ربن کاٹنے کےلئے آمادہ ہوئی تھیں، محبوبہ مفتی کو سمجھایا گیا کہ ریاست کے متعلق جتنے بھی معاملات ہے وہ خود مرکزی حکمران نبھاتے رہے گے ۔ اس طرح سے محبوبہ مفتی نے اقتدار کے لئےوزیرعلیٰ بننے کی حامی بھر لی تھی۔
اس کے بعد سے مرحوم مفتی محمد سعید کی طرح محبوبہ مفتی نے بھی وزیراعلیٰ کی Desigination کو دو دو ہاتھوں سے باندھ کے رکھا تھا، محبوبہ مفتی کے وزیراعلیٰ بننے کے بعد ابتدائی مہینوں میں ہی یہاںایک لہر چلی کی حکومت ریاست میں سینک اور پنڈت کالنیاں بنانے کے حق میں ہے،جس کا چرچہ ریاست کی اسمبلی میںبھی رہا، اس دوران حزب اختلاف کے لیڈر اور سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے سینک اور پنڈت کالنیوں پر سوال اٹھایا تاہم اس کا دفاع کرتے ہوئے اگلے روز وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے قانون ساز اسمبلی میں عمر عبداللہ کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کبوتروں اور بلیوں کو ایک ساتھ نہیں رکھ سکتا۔ یعنی کبوتر کشمیری پنڈتوں اور بلی کشمیری مسلمانوں کو لقب دے کر محبوبہ مفتی ایک اور زبردست غلطی کر رہی تھی ۔ اس کے بعد سلسلہ آگے بڑھتا گیا علیحدگی پسندوں کی طرف سے ریاستی سرکار کو خبردار کیا گیا کہ حکومت کے ان اقدام سے ریاست میں سنگین نتائج نکل سکتے ہیں اور اس طرح سے ایک آواز سی بن گئی کہ عیدکے بعد پتہ نہیں ریاست میں کیا ہوگا، بہر حال ماہ رمضان گذر جانے کے بعد تیسری عیدیعنی8 جولائی کو حزب المجاہدین کے معروف اور کم عمر کمانڈر برہان وانی کے اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ جان بحق ہونے کی خبر کیا آئی کہ پورا کشمیر برہان کی ہلاکت کو لے کر اُبل پڑا۔ا س دوران حزب المجاہدین کمانڈربرہان وانی کی ہلاکت کی خبر آنے کے ساتھ ہی ایک طرف حکومت نے بندشوں کا اہتمام کیا تو دوسری طرف لوگ جوق در جوق برہان وانی کے جنازے میں شرکت کی غرض سے جمع ہو رہے تھے۔ اس دوران فورسز نے بے تحاشہ طاقت کا استعمال کر کے متعدد شہری ہلاکتوں کو انجام دیا اور انتظامیہ نے پوری وادی میں لگاتار کرفیو نافذ کیا تھا۔
وادی میں لگاتار پیلٹ فائرنگ سے آئے روز یا تو شہری ہلاکتیں ہوتی تھیں یا درجنوں زخمی ہوتے تھے، سنگین صورتحال کے چلتے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے وادی میں لگاتار کرفیو، بندشوں اور ہڑتال کے چلتے کشمیر کا دورہ کیا تھا، دورے کے اختتام پریعنی لگاتار کرفیو کے 48 دن کے بعد قریباً68 شہری ہلاکتیں اور قریباً دس ہزار لوگوں کے زخمی جن میں سے سینکڑوں افراد بینائی سے بھی محروم ہوئے، ہونے کے بعد وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کے ساتھ میڈیا کے سامنے آئیں اور ایک مشترکہ پریس کانفرنس کا انعقاد کیا تھا جس میں محبوبہ مفتی میڈیا نمائندوں پر برس پڑی۔ اور زور زور سے چلانے لگی کہ جو لوگ مارے گئے وہ کیا ٹافی یا دودھ لانے کیمپوں پر گئے حالانکہ یہ بات بھی درست ہے کہ 2010 میں ایسی ہی ہلاکتوں پر محبوبہ مفتی آئے روز عمر عبداللہ حکومت کے خلاف احتجاج کرتی دیکھی گئی مگر یہی سوال پوچھنے پر وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے میڈیا پر غصہ کیا تھا۔ یہاں پر وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے پریس کانفرنس میں اس بات کا اعتراف کیا کہ جنوبی کشمیر میں فورسز نوجوانوں کو بے گار پر لیتے تھے اور محبوبہ مفتی نے اُنہیں فورسز کی بےگاری سے چھڑا کر لاتی تھی۔حالانکہ کئی جانکار حلقے اس بات کا اعتراف کرتے تھے کہ محبوبہ مفتی بے شک نوجوانوں کو کیمپوں یا تھانوں سے چھڑانے میں ضرور مدد کرتی تھیں۔ مگر ساتھ ہی کئی حلقوں کا الزام ہے کہ محبوبہ مفتی ہی ان نوجوانوں یا اشخاص کو بےگار یا حراست میں لانے کا سجھائو بھی دیتی تھیں ، محبوبہ مفتی پر الزام یہ بھی تھا کہ مبینہ طور وہ اونتی پورہ میں تعینات وکٹر فورس کے ایک میجر جنرل کی خدمات حاصل کرکے جنوبی کشمیر کے مختلف علاقوں میں فوج کے ہاتھوں تشدد کرواتی تھیں اور دوسرے دن تشدد زدہ لوگوں کی مرہم پٹی کرنے جاتی تھیں ، محبوبہ مفتی فورسز کے ہاتھوں ایسا اس لئے کرواتی تھیں تاکہ دوسرے دن محبوبہ مفتی ہمت کر کے کبھی فوجی کیمپ کو دوسری جگہ تبدیل کر کے اور کبھی حراست میں لئے گئے لوگوں کو چھڑا کر عوام کی ہمدردی حاصل کرنا چاہتی ہے۔ اس طرح سے ان کی کوشش تھی کہ عوام کو یہ محسوس ہو کہ محبوبہ مفتی عوام کی غمخوار ہو اتنا ہی نہیں بلکہ محبوبہ مفتی جان بحق ہو رہے نوجوانوں کا گھر جا کر ضرورت کے مطابق وہاں آنسو بہانے کا کام بھی کرتی تھی۔ تاہم یہاں پریس کانفرنس میں وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کے لہجہ کو سمجھتے ہوئے وزیر داخلہ نے پریس نمائندوں سے کہا کہ وزیراعلیٰ تو آپ کی اپنی ہے۔ یہاں پر ہم اس بات کی طرف مائیل ہوتے ہیں کہ سیاست دانوں کے چہرے الگ الگ موقعوں پر مختلف ہوتے ہیں۔
اس طرح سے محبوبہ مفتی کو بھی وہ وعدے یاد نہیں رہے جو انہوں نے الیکشن ریلیوں میں عوام سے کئے تھے، محبوبہ مفتی کو وہ بھی یاد نہیں رہا جب انہوں نے اس بات کا ببانگ دہل اعلان کیا تھا کہ وزیراعظم نریندر مودی کے ہاتھ مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں لہٰذا بی جے پی کو اقتدار سے محروم کرنے کے لئے کشمیری عوام کو تیار کر رہی تھی۔ پہلی خاتون وزیراعلیٰ بننے کے بعد باقی سیاسی لیڈروں کی طرح عوام کے ساتھ کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے میں پوری طرح ناکام رہیں، محبوبہ مفتی جب وزیراعلیٰ کے عہدے پر نہ تھیں اور پی ڈی پی بھی جب اقتدار میں نہیں تھا تو محبوبہ مفتی ریاست کے عوام خاص کر وادی کشمیر کے عوام کی غمخو ار بن رہی تھی، کشمیری عوام کے تئیں زبردست ہمدردیاں دیکھاتی تھی،اتنا ہی نہیں پی ڈی پی کو جب اقتدار نہ تھا اور محبوبہ مفتی کو بھی جب وزیراعلیٰ کا منصب نہ تھا، وادی میں اگر کہیں پر کوئی ہلاکت ہوتی تھی چاہے وہ ہلاکت فورسز کے ذریعے ہی کیوں نہ ہوتی تھی محترمہ ان کے اہل خانہ کو تعزیت کرنےضرور جاتی تھی، سوگواران کو نہ صرف زبانی تعزیت کرتی تھی بلکہ کما حقا وہاں ضرورت کے مطابق اپنے آنسو بھی بہانے کی کوشش ضرور کرتی تھیں۔ پھر جب محبوبہ جی کو اقتدار ملا یعنی وزیراعلیٰ کے اعلیٰ منصب پر براجمان ہوئیں تو نرم رویہ کے بجائے گرم مزاج کے بن گئی۔ وہ اپنے تمام وعدےیکدم بھول گئیں جو وہ پہلے کشمیری عوام سے کی تھیں۔ اور وہ کسی بھی طرح سے عوام کی وہ ہمدردنہ رہی جو اقتدار سے پہلے تھی، یہاں محبوبہ مفتی کی ہی بات نہیں بلکہ یہاں تقریباً سبھی لیڈر جو آج تک اس اعلیٰ منصب یعنی وزیراعلیٰ کے عہدے پر رکھے گئے۔ تقریباً سبھی لیڈروں نے عوام کو سبز باغ دکھانے میں کوئی کثر نہیں چھوڑرکھے۔
یہاں پر ہم سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کو بھی لیتے ہیں اُن کو بھی اپنے دور اقتدار کو نہیں بولنے چاہئے۔ حالانکہ یہ الگ بات ہے کہ عمر عبداللہ نے بھی محبوبہ سرکار کو لتاڑنے میں کوئی عار محسوس نہیں کیا تھا اور آئے روز عمر عبداللہ پی ڈی پی کو کشمیری عوام کی دھوکہ باز سیاسی پارٹی کے طور لقب دے رہا تھا تاہم ہم یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ اس حمام میں سب ننگے ہیں عمر عبداللہ جب خود ریاست کی سربراہی کر رہے تھے تو اُن کے دور اقتدار میں بھی ایسی ہی ہلاکتیں ہوئیں تھیں جیسی محبوبہ مفتی کے دور اقتدار میں ہوئیں،مگر سیاست یہ ہے کہ جب خود سے غلطی سرزد ہوتی ہے تو اپنی غلطی نظر نہیں آتی جبکہ دوسرےکی غلطی ہوئی تو انہیں لتاڑا جا رہا ہے۔ کل 2010 میں محبوبہ مفتی اُس وقت کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کو شہری ہلاکتوں کو لے کر لتاڑ رہی تھی محبوبہ مفتی کے اقتدار میں ہوئے قتل و غارت پر عمر عبداللہ محبوبہ مفتی کو 2010 کی یاد دلاتا تھا۔ اس طرح لیڈروں کو اقتدار نہ رہنے کے بعد الزامات لگانا ایک مجبوری بن جاتی ہے۔ کل عمر محبوبہ مفتی عمر عبداللہ پر الزامات لگا رہی تھی اور اس کے بعد عمرعبداللہ نے محبوبہ حکومت پر الزامات لگائے تھے اب محبوبہ مفتی کی حکومت بھی نہ رہی اور اب محبوبہ مفتی سرکار کے ساجھے رہ رہے لوگ محبوبہ مفتی پر الزامات لگانے میں کوئی اکثر نہیں چھوڑتے تھے اسی طرح محبوبہ مفتی بھی بی جے پی کو مستقبل میں ایسے ہی الزامات لگانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرے گی۔