اداریہ

اقتدار کے بعد وطیرہ الگ کیوں؟

اقتدار سے بے دخل ہونے کے بعد اب سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی بھی کشمیر شورش کو جائز ٹھہرائے گی اور حکومت کو وقت وقت پر تنقید کا شکار بنائے گی۔اقتدار سے بے دخل ہوئے دوسرے لیڈروں کی طرح محبوبہ مفتی بھی اب وہ سب کچھ جائز ٹھہرائے گی جو وہ اپنے دور اقتدار میں ناجائز قرار دیتی رہیں تھی۔ اقتدار کھونے کے بعد اب محبوبہ مفتی نے باضابطہ کشمیر کے تئیں بیانات میں نرمی لانے کا آغاز کیا ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ اقتدار کھونے کے بعد، جائز جائز کیوں لگتا ہے اور اقتدار حاصل کرنے کے بعد ایسا کیوں نہیں ہوتا ؟ اس کی کیا وجہ ہو سکتا ہے؟ جس طرح آج اقتدارسے بیدخل ہوجانے کے بعدپی ڈی پی کے اندر کا خلفشار باہر آگیا اور کئی رکن اسمبلی نے پارٹی لیڈرشپ بالخصوص محبوبہ مفتی کی قیادت پرعدم اعتمادظاہر کیا ہے۔ کیاوجہ ہے کہ پی ڈی پی کے کئی ایک اسمبلی رکن آج باغی بن رہے ہیں، کہیں وجہ اقتدار کھونے کا تو نہیں؟۔ آخر کیا وجہ ہے کہ پارٹی کے یہ باغی ممبران دوسری بدنام زمان پارٹی میں شامل ہونے کے لئے تیار ہیں۔پی ڈی پی سے الگ ہونے والے ممبران اسمبلی آخر کیوں بدنام زمان پارٹی کیساتھ ملکرنئی سرکارتشکیل دینے کے حق میں ہے۔ ہاں ضرورمعاملہ صرف اور صرف اقتدار کا ہی ہو سکتا ہے۔ جس طرح محبوبہ مفتی نے اقتدار کھونے کے بعد مزاج میں بدلائو لایا ہے اُسی طرح اُس کے پارٹی کے لیڈران نے بھی اقتدار نہ رہنے کے بعد پالیسی میں بدلائو لایا ہے۔ اقتدار میں ہوتے ہوئے کبھی بھی ان کی زبان پر محبوبہ مفتی سرکار کے تئیں تنقید کے الفا ظ تک نہیں آئے، نہ حکومت سے متعلق کوئی بیانات دینے کی جرأت ہوئی جو وہ آج دے رہے ہیں، حالانکہ ان کے بیانات میں اگرچہ صداقت بھی ہوسکتی ہے ، تاہم ایسا اقتدار سے بے دخلی کے بعد کیوں ہو رہا ہے۔ اگر یہ ممبران اقتدار میں رہتے ہوئے ایسے بیانات دیتے تو کیا ان کے رُتبے میں اضافہ نہیں ہوتا ، ان کے جرأت کی داد نہ دئے ہوتے۔ محبوبہ مفتی حکومت میں اقتدار ہوتے ہوئے سب کچھ جائز قرار دیتے اور سرکار میں بے دخل ہونے کے بعد ان کو بھی محبوبہ مفتی کی خامیاںنظر آنے لگی۔ حالانکہ یہ الگ بات ہے کہ کسی ایک لیڈر نے آج تک محبوبہ مفتی کی خامیوں پر تنقید تک نہیں کیا تھابلکہ اقتدار کی لالچک میں لوٹ کھسوٹ کے ساتھ ساتھ قتل و غارت گری میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔