سرورق مضمون

الــیــکـشــن 2019 جموں کے مقابلے میں بارہمولہ میں پولنگ کی شرح کم

ڈیسک رپورٹ
پہلے مرحلے کی پولنگ مجموعی طور پر امن رہی ۔ وادی میں ایک ہلاکت کے علاوہ پتھر بازی کے اکادکا واقعات کے درمیان ووٹ ڈالے گئے۔ علاحدگی پسندوں نے اس روز الیکشن بائیکاٹ ، ہڑتال اور احتجاج کی کال دی تھی ۔ ہڑتال کی وجہ سے پوری وادی میں ہوکا عالم پایا جاتا تھا ۔ سرکار نے انتخابات کے لئے سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے تھے ۔ اس وجہ سے مجموعی طور ووٹنگ پر امن رہی ۔ یاد رہے کہ انتخابی عمل شروع ہونے سے پہلے مرکز سے سی آر پی ایف کی ایک سو کمپنیاں وادی میںلائی گئی تھیں ۔ کئی طرح کے خدشات کے درمیان ریاستی گورنر کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ ان کمپنیوں کو الیکشن انتظامات کے لئے لایا گیا ہے ۔ اس کے بعد سیاسی جماعتوں نے الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان کیا ۔ الیکشن کے لئے شیڈول سامنے آتے ہی سیاسی جماعتوں نے بڑے پیمانے پر اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا ۔ اس کے بعد کئی سیاسی جماعتوں کے علاوہ آزاد امیدواروں نے الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان کیا ۔ شمالی کشمیر میں پہلے مرحلے کے لئے الیکشن کا اعلان ہوتے ہی نیشنل کانفرنس ، پی ڈی پی اور پی سی نے اپنے امیدواروں کا اعلان کیا ۔ اس وجہ سے سیاسی سرگرمیوں میں کافی جوش دیکھا گیا ۔ نیشنل کانفرنس کی طرف سے سابق اسمبلی اسپیکر اکبر لون کو منڈیٹ دیا گیا ۔ اس کے مقابلے میں پی ڈی پی نے ایک وقت کے ملازم لیڈر قیوم وانی کو میدان میں اتار ۔ وانی پہلے ٹیچرس فرنٹ کے صدر اور پھر ایمپلائز یونین کے چیرمین بنائے گئے تھے۔ اس دوران ان کی پی ڈی پی رہنمائوں کے ساتھ سخت تنازع رہا ۔ لیکن پارلیمانی انتخابات سے کچھ ہفتے پہلے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا اور پی ڈی پی میں جست لگائی ۔ اسی طرح بارھمولہ حلقے سے پی سی نے سابق پولیس آفیسر راجا اعجاز علی کو منڈیٹ دینے کا اعلان کیا ۔ کانگریس نے کہا جاتا ہے کہ محض دکھاوے کے لئے اپنا امیدوار کھڑا کیا ۔ پارٹی کا نیشنل کانفرنس کے ساتھ پہلے ہی انتخابی گٹھ جوڑ ہوگیا ہے ۔ البتہ انجینئر رشید نے از خود اس حلقے سے الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ۔ انجینئر کی حمایت میں شاہ فیصل نے اس الیکشن سے دور رہنے کا اعلان کیا ۔ اس طرح سے پورے شمالی کشمیر میں انتخابات کے لئے سرگرم ماحول بن گیا ۔ الیکشن مہم پورے زور وشور سے چلائی گئی ۔ کہا جاتا ہے کہ عسکریت کے دوران سخت الیکشن مہم دیکھنے کو ملی ۔ تاہم ووٹنگ شرح کم قراردی جارہی ہے ۔
بارہمولہ میں عسکریت کا بہت کم دبائو پایا جاتا ہے۔ سوپور اور سونا واری کے علاوہ کہیں بھی جنگجو سرگرمیاں دیکھنے کو نہیں ملتی ہیں ۔ اس وجہ سے یہاں ساٹھ ستھر فیصد پولنگ کا اندازہ لگایا جارہا تھا ۔ لیکن حیران کن طور پر یہاں پولنگ کی شرح 35 فیصد سے کم رہی ۔ جموں کے مقابلے میں یہ تعداد بہت کم قرار دی جاتی ہے ۔ جموں میں ووٹ ڈالنے میں لوگوں نے بہت زیادہ دلچسپی کا مظاہرہ کیا ۔ اس حلقے سے ستھر فیصد سے زیادہ لوگوں نے اپنے ووٹ ڈالنے کا حق استعمال کیا ۔ اس کے مقابلے میں بارہمولہ حلقے سے بہت کم ووٹ پڑے ۔ یہاں جموں کے مقابلے میں ووٹنگ کی شرح نصف رہی ۔ کل ملاکر 35 فیصد ووٹ ڈالے گئے ۔ کہا جاتا ہے کہ وادی سے باہر مقیم پنڈتوں نے اس سال پولنگ میں وادی کے مقابلے میں زیادہ حصہ لیا ۔ اس طرح سے باہمولہ سے کم تعداد میں ووٹ ڈالے جانے کی اطلاع ہے ۔ پولنگ سے پہلے الیکشن کمیشن کی طرف سے ووٹروں کو ووٹ ڈالنے کی بار بار اپیل کی گئی ۔ نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے بھی لوگوں سے اپیل کی تھی کہ اپنا ووٹ ضایع نہ کریں اور ووٹ ڈالنے کے لئے پولنگ بوتھوں تک پہنچ جائیں ۔ لیکن لوگوں نے اس طرف زیادہ دھیان نہیں دیا ۔ اس طرح سے مجموعی طور پنتیس فیصد ووٹ ہی پڑے ۔ ووٹنگ کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کی طرف سے کوئی خاص ردعمل سامنے نہیں آیا۔ سرکار نے اس روز بیشتر علاقوں میں چوبیس گھنٹوں کے لئے انٹرنیٹ سروس پوری طرح سے بند رکھی ۔ اس وجہ سے بہت جلد ردعمل سامنے نہیں آیا ۔ اطلاع ہے کہ کئی حلقوں پر پولنگ بوتھ قبضے میں لینے کی کوشش کی گئی۔ سیاسی جماعتوں نے ایک دوسرے پر ناجائز طریقے سے ووٹ ڈالنے کا الزام بھی لگایا ہے ۔کئی جگہوں سے اطلاع ہے کہ لوگوں نے حریت کال پر ووٹ ڈالنے میں دلچسپی نہیں دکھائی ۔ بریتھ کلان سوپور کے علاوہ بابا گنڈ سے لوگوں نے الیکشن بائیکاٹ کا اعلان کیا ۔ ان جگہوں سے حال ہی میں تشدد کے واقعات پیش آئے اور جنگجو ہلاک کئے گئے ۔ اسی طرح مارے گئے جنگجو کمانڈر منان وانی جو کہ پہلے علی گڈھ یونیورسٹی کا سکالر تھا، کے گائو ں سے اطلاع ہے کہ لوگوں نے ووٹنگ میں دلچسپی ظاہر نہیں کی ۔ یاد رہے کہ حریت پسند لیڈر اشرف صحرائی کا تعلق بھی اسی گائوں سے ہے ۔ سید علی گیلانی اور افضل گورو کے آبائی علاقوں میں مبینہ طورکوئی بھی ووٹ نہیں ڈالا گیا۔ادھر پٹن سے بھی اطلاع ہے کہ لوگوں نے کم تعداد میں ووٹ ڈالے ۔ البتہ ہندوارہ اور کپوارہ سے ملی خبروں کے مطابق دونوں جگہوں سے پورے جذبے کے ساتھ لوگوں نے ووٹنگ میں حصہ لیا۔ یہ حلقے پیوپلز پارٹی کے روایتی ووٹ بینک رہے ہیں ۔ ان حلقوں سے عبدالغنی لون کو بڑی تعداد میں ووٹ ملتے تھے۔ اس بار ان کے بیٹے سجاد لون نے اس حلقے سے زوردار الیکشن مہم چلائی اور انہیں بڑے پیمانے پر لوگوں نے استقبال کیا ۔ یاد رہے کہ سجاد لون ہندوارہ سے اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے جبکہ کپوارہ سے بھی ان کا ہی اسمبلی ممبر کامیاب ہوا تھا ۔ اس بار ان کی طرف سے راجا اعجاز علی الیکشن میں حصہ لے رہاہے ۔ ان کے آبائی علاقے اوڑی سے بھی بھاری ووٹنگ کی اطلاع ہے ۔ اسی طرح قیوم وانی کے آبائی علاقے ٹنگمرگ سے بھی بڑے پیمانے پر لوگوں نے ووٹ ڈالے ۔ اس طرح سے مختلف علاقوں سے ووٹنگ کے حوالے سے مختلف رجحان سامنے آیا ہے ۔
کچھ علاقوں میں بڑے پیمانے کی پولنگ کی اطلاع ہے ۔ جبکہ اکا دکا علاقوں سے بائیکاٹ کرنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ پٹن میں ایک پولنگ بوتھ پر پتھرائو کی وجہ سے ایک عورت ووٹ ڈالتے ہوئے شدید زخمی ہوگئی ۔ اس عورت کو علاج معالجے کے لئے سرینگر کے صدر ہسپتال بھیج دیا گیا ہے۔ اسی طرح سوپور سے بھی معمولی تشدد کی اطلاع ہے۔ البتہ لنگیٹ میں ایک دلدوز واقعہ پیش آیا ۔ یہاں منڈی گام لنگیٹ میں فائرنگ کا ایک واقعہ پیش آیا جس میں مدثر نامی ایک کم سن طالب مارا گیا ۔ کہا جاتا ہے کہ پولنگ کے اختتام پر سیکورٹی فورسز اور شہریوں کے درمیان پر تشدد جھڑپیں ہوئیں ۔ فورسز نے پہلے ٹیر گیس کے گولے داغے اور بعد میں فائرنگ کی ۔ فائرنگ میں ساتویں جماعت کا ایک طالب علم مارا گیا جبکہ دوسرا زخمی ہوا ۔ پیلٹ لگنے سے بیس شہریوں کے زخمی ہونے کی خبر ہے ۔ ادھر نوگام سمبل میں ایک معمر خاتوں اپنا ووٹ ڈالنے کے بعد وفات پاگئی ۔ حاجن سمبل کے علاوہ سوپور سے بھی پر تشدد واقعات کی اطلاعات ہیں ۔ سخت سیکورٹی کے بیچ پولنگ کے اختتام پہنچنے پر سیکورٹی اداروں نے اطمینان کا سانس لیا ۔ اس طرح سے پہلے مرحلے میں ووٹنگ تسلی بخش قرار دی جاتی ہے ۔