سرورق مضمون

الیکشن کا بگل بجنے اور پنچایت گھر جلانے کے بعد خوف وہراس کی لہر

ڈیسک رپورٹ
ریاست کی دو بڑی مین اسٹریم جماعتوں کے بائیکاٹ کی وجہ سے الیکشن سرگرمیاں تاحال نظر نہیں آرہی ہیں ۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے بلدیاتی انتخابات کے پہلے دو مرحلوں کے لئے شیڈول کا اعلان کیا گیا ہے۔ کئی حلقوں میں اکا دکا امیدواروں نے فارم بھی حاصل کئے ۔ اس کے باوجود الیکشن میں جو روایتی جوش وخروش ہوتا ہے کہیں نظر نہیں آتا ہے ۔ ریاست کی دو اہم سیاسی جماعتوں نے الیکشن میں حصہ لینے سے انکار کیا ہے ۔ سیاسی پنڈتوں کا خیال تھا کہ اس کے بعد الیکشن ملتوی کئے جائیں گے ۔ لیکن ایسا نہیں ہوا ۔ مرکز اور گورنر انتظامیہ نے ان دو بڑی سیاسی جماعتوں کے بغیر انتخابات کرنے کا فیصلہ کیا ۔ اس کے بعد الیکشن کے لئے مکمل شیڈول کا اعلان کیا گیا۔ اس سے پہلے مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے ریاست کا دورہ کیا ۔ اپنے دورے کے دوران سنگھ نے این سی اور پی ڈی پی سے اپیل کی تھی کہ وہ اپنا فیصلہ بدل کر الیکشن میں حصہ لیں ۔ دونوں پارٹیوں نے ان کا مشورہ ماننے سے انکار کیا ۔ بلکہ دونوں پارٹیوں کے لیڈروں کے طرف سے ان کے بیاں کو مسترد کرتے ہوئے الیکشن کرنے کے فیصلے کو مرکز کی غنڈہ گردی قرار دیا گیا ۔ ادھر سی پی آئی ایم کی طرف سے بھی الیکشن بائیکاٹ کا اعلان کیا گیا ۔ البتہ کانگریس نے کافی بحث و مباحثے کے بعد الیکشن میں اس شرط پر اترنے کا اعلان کیا کہ امیدواروں کو معقول سیکورٹی فراہم کی جائے گی۔ کانگریس ہائی کمان کی طرف سے جاری کئے گئے بیان میں کہا گیا کہ مذہبی نفرت پھیلانے والوں کے میدان کھلا نہیں چھوڑا جائے گا بلکہ الیکشن میدان میں اترکر ان کا مقابلہ کیا جائے گا ۔ اس بیان کے خلاف این سی کی طرف سے شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا ۔ اسے منافقت قرار دیتے ہوئے پارٹی بیان میں کہا گیا کہ کانگریس نے بھاجپا کی مددگار ہونے کا اعلان کیا ۔اس طرح سے اب خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ کانگریس اور بی جے پی کے درمیان کئی جگہوں پر براہ راست مقابلہ ہوگا ۔
انتخابات کے حوالے سے یہ بڑی اہم بات ہے کہ پہلی بار مین اسٹریم اور علاحدگی پسندوں کی طرف سے مشترکہ پالیسی اپنائی گئی اور بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا گیا ۔ حریت مشترکہ قیادت نے پہلے انتخابات کے بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی تھی ۔ اس کے بعد این سی نے یہی نعرہ دیا ۔ بعد میں پی ڈی پی کی طرف سے الیکشن میں نہ اترنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ تازہ فیصلہ سی پی آئی ایم کے لیڈر یوسف تاریگامی کا سامنے آیا ۔ تاریگامی نے بھی الیکشن بائیکاٹ کا اعلان کیا ۔ اس وجہ سے الیکشنوں میں بڑے پیمانے پر جوش وخروش کا کوئی امکان نظر نہیں آتا ہے ۔ تمام عسکری تنظیموں نے الیکشن میں حصہ لینے والوں کے خلاف سخت کاروائی کرنے کی دھمکی دی ہے ۔ اس وجہ سے ہر طرف خوف وہراس پایا جاتا ہے ۔ پولیس اور فوج کی طرف سے یقین دہانی کی جارہی ہے کہ الیکشن میں حصہ لینے والوں کو تحفظ دیا جائے گا ۔ کانگریس کی طرف سے بھی الیکشن میں اترنے کے لئے یہ شرط رکھی گئی کہ ہر امیدوار کو سیکورٹی فراہم کی جائے گی ۔ ورنہ کانگریس انتخابات سے پیچھے ہٹ جائے گی۔ ایسے کرنے میں پولیس کامیاب ہوجائے گی مشکل دکھائی دیتا ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر شخص کے لئے سیکورٹی فراہم کرنا پولیس کے لئے ممکن نہیں ہے ۔ اس کے باوجود الیکشن عمل شروع کیا جاچکا ہے ۔ کئی ضلعوں میں ملازمین کو ٹریننگ دی گئی ہے اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے ۔ سرینگر کے علاوہ جنوبی کشمیر میں سخت خوف وہراس پایا جاتا ہے۔ عسکریت پسندوں کے خلاف کاروائیاں جاری ہیں ۔ کئی جنگجوئوں کو مار گرایا گیا ۔ اس دوران سیول ہلاکتوں کے واقعات بھی پیش آئے ۔ پہلے مرحلے کے انتخاب پر بانڈی پورہ میں کئی امیدواروں نے فارم حاصل کئے اور الیکشن عمل کی شروعات کیں ۔ کہا جاتا ہے کہ پی پیپلز کانفرنس کے کئی کارکن الیکشن لڑنے کے لئے کمر بستہ ہیں ۔ انتخابات کا بائیکاٹ کرنے والوں نے مطالبہ کیا ہے کہ دفعہ 35A کے خلاف سپریم کورٹ میں جو مقدمہ چل رہاہے مرکزی سرکار اس مقدمے کو واپس لینے میں اپنا رول ادا کرے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کے بعد ہی انتخابات میں حصہ لیا جائے گا ۔ مرکزی کی طرف سے ان کے مطالبے پر کان نہیں دھرا گیا۔ جس کے بعد این سی نے انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ۔ پی ڈی پی نے بھی یہی راستہ اختیار کیا ۔ پی ڈی پی کی صدر اور سابق حکومت کی سربراہ محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ انہیں وزیراعظم کی طرف سے ریاست کی خصوصی پوزیشن بحال رکھنے کی یقین دہانی کی گئی تھی ۔ لیکن بعد میں وزیراعظم نے ایسا کچھ نہیں کیا ۔ مقدمے کے سماعت پہلے ہی اگلے سال تک ملتوی کی گئی ہے ۔ مرکزی سرکار نے ایک درخواست میں بلدیاتی اور پنچاتی الیکشن تک سماعت ملتوی ملتوی کرانے کی مانگ کی جسے قبول کیا گیا ۔ اس کے بعد سماعت ملتوی ہوئی ۔تاہم مقدمہ بدستور قائم ہے اور اس دفعہ کو منسوخ کرنے کی کوششیں جاری ہیں ۔ آر ایس ایس کے موہن بھاگوت نے کہا ہے کہ ان کی جماعت دفعہ 35A اور دفعہ 370 کو نہیں مانتی ہے ۔ ان کے اس بیان سے ریاستی عوام کے اندر سخت تشویش پیدا ہوگئی ہے ۔ اب نظریں انتخابات پر لگی ہیں ۔ دیکھتے ہیں کہ حالات کیا رخ اختیار کرنے والے ہیں ۔