خبریں

امشی پورہ شوپیان مبینہ فرضی انکائونٹرمیں بڑی اور اہم پیش رفت/ بابر قادری قتل کی تحقیقات کیلئے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل

امشی پورہ شوپیان مبینہ فرضی انکائونٹرمیں بڑی اور اہم پیش رفت/   بابر قادری قتل کی تحقیقات کیلئے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل

امشی پورہ شوپیان مبینہ فرضی انکائونٹر میں جمعہ کو اُس وقت بڑی اہم پیش رفت ہوئی جب فوج کے بعد پولیس نے بھی اس جھڑپ پر فرضی ہونے کی مہر ثبت کرتے ہوئے اعلان کیا کہ راجوری کے لواحقین اور فرضی جھڑپ میں جاں بحق کئے گئے 3نوجوان کا ڈی این اے یکساں ہے اور اب آگے کی کارروائی کی جائے گی۔انسپکٹر جنرل آف پولیس کشمیر زون ،وجے کمار نے کہا ہے کہ راجوری کے تین گھرانوں کے ڈی این اے نمونوں کی جانچ رپورٹ حاصل کر لی گئی ہے جو اْن تین نوجوانوںسے میل کھاتی ہے جو امشی پورہ شوپیان میں مارے گئے تھے۔
آئی جی پی نے وادی کے معروف ایڈو کیٹ بابر قادری قتل کیس کے حوالے سے بتایا کہ اس معمہ کی تحقیقات کے لئے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی گئی ہے۔انہوں نے بتایا وادی میں سر گرم جنگجو امریکی ساخت بندوقیں استعمال کرتے ہیں جبکہ یہاں170سے200جنگجو سر گرم ہیں ۔ پولیس کنٹرول سرینگر میں جمعہ کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی پی وجے کمار نے کہاکہشوپیاں واقعہ کی تحقیقات کے سلسلے میں لئے گئے ڈی این اے نمونے جاں بحق کئے گئے 3نوجوانوں اور راجوری کے دعویٰ کرنے والے لواحقین کے ڈی این اے نمونے یکساں ہیں ۔ اس طرح اب یہ بات ثبوت کو پہنچی ہے کہ جنوبی ضلع میں جن 3 نوجوانوں کو جاں بحق کیا گیا اْن کا تعلق اْن کے والدین کے دعویٰ کے عین مطابق راجوری سے ہی تھا۔انسپکٹر جنرل آف پولیس ،کشمیر وجے کمار نے بتایا ’ہم نے راجوری کے تین گھرانوں کے ڈی این اے نمونوں کی جانچ رپورٹ حاصل کر لی ہے جو اْن تین نوجوانوںسے میل کھاتی ہے جو امشی پورہ شوپیان میں مارے گئے تھے۔ہم آگے کی کارروائی لوازمات پوری ہونے کے بعد ہی شروع کریں گے۔
یاد رہے کہ18جولائی کو امشی پورہ شوپیان میں فوج وفورسز نے دعویٰ کیا تھا کہ ایک جھڑپ میں 3عدم شناخت جنگجو جاں بحق کئے گئے ۔تاہم جاں بحق کئے گئے تین نوجوانوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں ،جسکے بعد راجوری کے تین گھرانے سامنے آئے جنہوں نے دعویٰ کیا کہ جاں بحق نوجوان اُنکے لخت جگر ہیں۔اس کے بعد سوشل میڈیا میں ایک بحث شروع ہوئی جسکے بعد فوج نے اس معاملے کی نسبت کورٹ آف انکوائری کا اعلان کیا ۔ادھر پولیس نے اس معاملے کی اپنی سطح پر تحقیقات شروع کردی اور تین ہلاکتوں کے پس منظر میں راجوری کے تین گھرانوں کے دعوئوں کے بعد ڈی این اے نمونے حاصل کئے گئے۔آج چالیس روز بعد ڈی این اے نمونوں کی جانچ رپورٹ حاصل ہونے کے بعد یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ راجوری کے تین گھرانوں کا دعویٰ صحیح ہے، جنہوں نے الزام عائد کیاہے کہ امشی پورہ شوپیان میں جاں بحق نوجوان اْن کے چشم و چراغ تھے جو بقول اْنکے مزدوری کیلئے جنوبی ضلع شوپیان گئے ہوئے تھے۔
یاد رہے کہ فوج نے بھی اس سے قبل اپنے ایک بیان میں اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ فوجی اہلکاروں نے امشی پورہ آپریشن کے دوران ضوابط کی خلاف ورزی کی تھی۔یہ تینوں نوجوان مزدوری کے لیے17 جولائی کو راجوری سے شوپیاں پہنچے تھے، جہاں انہوں نے ایک کمرہ کرائے پر لیا تھا اور اسی شام اپنے گھر والوں کو فون پر مطلع کیا تھا کہ انہیں ایک مقامی باغ میں کام مل گیا ہے جسے وہ اگلے روز شروع کر رہے ہیں۔اس کے بعد ان کا اپنے گھر والوں سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔ ان کے اہل خانہ نے پولیس اور صحافیوں کو بتایا تھا کہ وہ یہ سمجھے تھے کہ کشمیر میں چوں کہ فون اور دوسری مواصلاتی سروسز اکثر بند ہو جاتی ہیں، اس لیے ان کے عزیز ان سے رابطہ نہیں کر پا رہے۔ فوج نے 18 جولائی کو شوپیاں کے امشی پورہ نامی علاقے میں ایک آپریشن کے دوران تین مبینہ عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔اس حوالے سے پولیس حکام نے بتایا تھا کہ ہلاک کیے گئے ’ عسکریت پسندوں‘کی شناخت نہیں ہو سکی ہے اور ان کی لاشیں وصول کرنے کے لیے بھی کوئی سامنے نہیں آیا۔ تو انہیں بارہ مولا کے اس قبرستان میں دفن کر دیا گیا جہاں عمومی طور پر کشمیر میں سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے غیر ملکی عسکریت پسندوں کو دفن کیا جاتا ہے۔پولیس نے یہ بھی کہا تھا کہ تدفین سے پہلے ہلاک شدگان کے ڈی این اے نمونے حاصل کیے گئے تھے۔جب راجوری کے لاپتا نوجوانوں محمد امتیاز، ابرار احمد خان اور ابرار یوسف کے رشتے داروں کے لیے انتظار طویل ہونے لگا اور ان تک شوپیاں میں غیر شناخت شدہ مبینہ عسکریت پسندوں کو ہلاک کیے جانے کی خبر پہنچی تو ان کی بے چینی مزید بڑھ گئی۔انہوں نے مقامی پولیس تھانے جا کر ان نوجوانوں کی گمشدگی کے بارے میں رپورٹ درج کرائی اور اس کے ساتھ ہی یہ مطالبہ کیا کہ قبر کشائی کر کے مبینہ جھڑپ میں ہلاک کیے گئے افراد کی شناخت کئی جائے۔حکام نے ان کا یہ مطالبہ تو نہیں مانا البتہ پولیس اور فوجی حکام نے معاملے کی تحقیقات کرنے کا وعدہ کیا۔اس سلسلے میں پولیس نے اگست کے وسط میں لاپتا نوجوانوں کے قریبی رشتے داروں کے ڈی این اے نمونے حاصل کیے تھے۔ بعد ازں لاپتہ نوجوانوں کے والدین نے جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کو خط ارسال کیا جس میں یہ شکایت کی گئی کہ فوج اور پولیس تحقیقات کو بلاوجہ طول دے رہے ہیں اور اس سلسلے میں جان بوجھ کر غیر سنجیدگی اور کوتاہی کا مظاہرہ بھی کیا جا رہا ہے۔لاپتہ نوجوانوں کے والدین نے لیفٹیننٹ گورنر سے معاملے میں ذاتی مداخلت کی اپیل کی تھی۔
لیفٹیننٹ گورنر سنہا نے سرینگر میں ایک پریس کانفرنس میں صحافیوں کے استفسار پر یقین دلایا تھا کہ متاثرہ خاندانوں کو ضرور انصاف ملے۔ جب کہ جموں و کشمیر کے پولیس سربراہ دلباغ سنگھ نے بھی کہا تھا کہ ڈی این اے رپورٹس کے ملاپ کے نتائج کو بہت جلد منظر عام پر لایا جائے گا۔اس دوران فوج کے ایک بیان میں کہا گیا کہ جھڑپ سے متعلق شروع کی گئی تحقیقات مکمل ہو گئی ہیں۔بیان کے مطابق تحقیقات کے دوران معلوم ہوا ہے کہ آپریشن میں قواعد کی خلاف ورزی کی گئی اور آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ 1990 سے تجاوز کیا گیا۔اس خصوصی قانون کے تحت فوج کو جموں و کشمیر میںبے پناہ اختیارات حاصل ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ فوج کے وضع کردہ طریقہ کار کی بھی خلاف ورزی کی گئی جس کی پاداش میں اس آپریشن میں شامل افسران اور سپاہیوں کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔
اس دوران انسپکٹر جنرل آف پولیس،کشمیر رینج وجے کمار نے بتایا کہ ایڈوکیٹ بابر قادری کے قتل کی تحقیقات کیلئے پولیس کی ایک خصوصی ٹیم (ایس آئی ٹی )تشکیل دی گئی ہے جس کی سربراہی ایس پی حضرت بل کررہے ہیں۔یاد رہے کہ معروف وکیل بابر قادری کو جمعرات کی شام6بجکر20منٹ پر اْن کے گھر واقع حول سرینگر میں نامعلوم بندوق برداروں نے نزدیک سے گولیاں مار کر جاں بحق کیا۔آئی جی کشمیر نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ دو ماسک لگائے افراد ہاتھوں میں فائلیں لئے کسی کیس کو لیکر بات کرنے کے بہانے بابر قادری کے گھر پہنچے اور انہوں نے بابر پر پستول سے گولیاں چلاکر اْنہیں جاں بحق کیا۔آئی جی کشمیر کے مطابق بابر کو گولیاں مارنے کے بعد دونوں افراد نے ہوا میں بھی گولیاں چلائیں اور جائے مقام سے فرار ہوئے۔بی ڈی سی چیئرمین کھاگ بڈگام بوپیندر سنگھ کی ہلاکت کے حوالے سے آئی جی پی کا کہنا تھا کہ علاقے کا دورہ کرنے کے بعد بی ڈی سی چیرمین نے اُنکی حفاظت پر مامور پی ایس اوز کو آرام کرنے کے لئے کہا اور اکیلے ہی گھر لوٹ گئے ،شاید جنگجوئوں کواس کی نقل وحرکت کے حوالے سے علم تھا اور گھر کے باہر گولی مار کر ہلاک کیا۔انہوں نے کہا کہ اس ہلاکت میں لشکر طیبہ کے دو جنگجو یوسف کاندرو اور ابرار شامل ہیں،جنہیں بہت جلد پکڑا جائیگا ۔وڈی پورہ بڈگام میں سی آر پی ایس اہلکار کی ہلاکت کے حوالے سے آئی جی پی،وجے کمار کا کہنا ہے کہ جیش محمد کے جنگجوئوں نے ’ایم ۔4‘ رایفل کا استعمال کیا ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں170سے200جنگجو سر گرم ہیں جن میں40غیر مقامی ہیں ۔