سرورق مضمون

امن کوششوں کو کمزوری نہ سمجھا جائے، ملک پہلے سے طاقتور ہے

امن کوششوں کو کمزوری نہ سمجھا جائے، ملک پہلے سے طاقتور ہے

سرینگر ٹوڈےڈیسک

وزیراعظم نریندر مودی جمعہ کو اچانک لداخ دورے پر پہنچ گئے جہاں انہوں نے لائن آف کنٹرول کے پاس قائم کئی چوکیوں کو معائنہ کیا ۔ اس موقعے پر ان کے ہمراہ فوج کے کئی اعلیٰ حکام تھے ۔ اس کے علاوہ مودی نے محاذ پر موجود کئی فوجیوں سے خطاب بھی کیا ۔ خطاب میں انہوں نے لارڈ کرشنا کی جنگی صلاحیتوں کا ذکر کیا اور فوجیوں کا حوصلہ بڑھانے کی کوشش کی ۔ اس سے پہلے وزیردفاع راجناتھ سنگھ کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ وہ لداخ جارہے ہیں ۔ لیکن آخری وقت پر ان کا دورہ ملتوی کیا گیا اور سنگھ کی جگہ وزیراعظم لداخ پہنچ گئے ۔ مودی کے اس لداخ دورہ سے سبھی حیران ہوکر رہ گئے ہیں۔ جب تک وزیراعظم لداخ کے نیمو علاقے میں لینڈ کرگئے اس وقت تک ان کے دورے کے بارے میں کسی کو ہوا بھی لگنے نہیں دی گئی ۔ پھر نیمو پہنچ کر انہوں نے سب کو حیران کردیا ۔ یہاں پر انہوں نے فوجی آفیسروں کے علاوہ فوجی جوانوں سے بھی بات چیت کی۔ اس موقعے پر بولتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا کہ ہندوستان کی امن کوششوں کو اس کی کمزوری نہ سمجھا جائے ۔ مودی نے کہا کہ دنیا جانتی ہے کہ ہندوستان ایک طاقتور ملک ہے اور اس کو کوئی طاقت جھکا نہیں سکتی ہے ۔ مودی نے زمینی فوج کے علاوہ ائیر فورس اور آئی ٹی بی پی کے آفیسروں سے تبادلہ خیال کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوستانی فوجی ملک کی سرزمین کی حفاظت کے لئے جس طرح سے جانوں کی قربانی دے رہے ہیں وہ بے مثال ہے ۔ فوجی جوانوں کی جرات کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے فوجیوں کو خراج عقیدت پیش کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے لوگ اس وجہ سے آرام سے گھروں میں ہیں کہ انہیں اپنے فوجیوں کے عزم اور حوصلے پر بھروسہ ہے۔گلوان وادی میں بیس فوجیوں کی ہلاکت کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے انہیں ملک کا فخر قرار دیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ جو بیس نوجوان یہاں مارے گئے وہ ملک کے مختلف حصوں کے رہنے والے تھے ۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ تمام ملک دشمن کے خلاف اکٹھے ہے ۔ یاد رہے کہ وزیراعظم کا یہ دورہ گلوان وادی میں ہندوستان اور چین کی فوجوں کے درمیان حالیہ تصادم کے تناظر میں بڑی اہمیت کا حامل ہے ۔ گلوان وادی میں اس وقت ہندوستان کے بیس فوجی مارے گئے اور دس اغوا ہوئے جب انہوں نے مبینہ طور چین کی طرف سے وادی کے کچھ علاقے پر قبضہ کرنے کی کوششوں میں رکاوٹ ڈالی ۔ اس پر دونوں طرف کی فوجوں کے درمیان سخت تصادم ہوا اویہ فوجی مارے گئے ۔ بعد میں دونوں ملکوں کی طرف سے لیفٹنٹ جنرل سطح پر بات چیت ہوئی اور تصادم آرائی کو قابو میں کیا گیا ۔ ہندوستان کے اغوا کئے گئے فوجی رہا کئے گئے ۔ تاہم خطے میں سخت تنائو پایا جاتا ہے ۔ دونوں طرف سے لداخ خطے میں فوجی دبائو بڑھایا گیا اور جنگی ماحول پیدا ہواتھا ۔ تاہم اب کہا جاتا ہے کہ دونوں ملک بات چیت سے تنائو ختم کرنے کے نزدیک پہنچ گئے ہیں ۔ اس دوران وزیراعظم نے اچانک لداخ کا دوراہ کیا ۔ جہاں ان کی دوسری سرگرمیوں کے علاوہ انہوں نے ایک لمبی تقریر بھی کی ۔ اپنے خطاب میں انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ امن و امان ہندوستان کی روایت رہی ہے ۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ جس کسی نے ہندوستان کے ساتھ چھیڑنے کی کوشش کی اسے سخت جواب ملا ۔ انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ ہندوستان امن کا جامن ملک ہے ۔ تاہم اس کو کسی بھی طور کمزوری نہیں سمجھا جانا چاہئے ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہندوستان ہر میدان میں طاقتور بن رہاہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ دوسرے ملکوں پر قبضہ کرکے سرحدوں کو وسعت دینے کا وقت گزر گیا ہے ۔ موجودہ وقت کو تعمیر وترقی کا وقت قرار دیتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ پچھلے کئی سالوں کے دوران ہندوستانی افواج بہت مضبوط اور طاقت ور بن گئی ہیں ۔ کسی کو بھی ملک کی طرف آنکھ اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت فوجیوں کی بہبودی کے لئے بہتر سے بہتر اقدامات اٹھارہی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ فوجیوں کے خاندانوں کو بھی کئی طرح کے مراعات فراہم کی جارہی ہیں ۔ اس موقعے پر انہوں نے لداخی کلچر کی بھی بڑی تعریف کی ۔ ان کا کہنا تھا کہ لداخ میں مہاتما بدھ کے ماننے والے ہیں جنہوں نے قربانی کی تعلیم دی ہے ۔