سرورق مضمون

امن گالی اور گولی سے قائم نہیں ہوسکتا (وزیراعظم)/ خصوصی پوزیشن پر مرکز واضح پالیسی اختیار کرے( یشونت سنہا)

ڈیسک رپورٹ
وزیراعظم نریندر مودی نے اعلان کیا ہے کہ کشمیر میںامن گالی اور گولی سے قائم نہیں ہوسکتا ہے ۔ ان کا اشارہ ہے کہ مسئلہ کو حل کرنے کے لئے باہمی اعتماد قائم کرنا ضروری ہے۔ مودی نے اس سے پہلے بھی کہاہے کہ کوئی بھی مسئلہ مذاکرات سے ہی حل ہوسکتا ہے ۔ انہوں نے ایک بار پھر یہ بات دہرائی ہے کہ کشمیر میں خراب صورتحال کو ٹھیک کرنے کے لئے امن کی آشا ضروری ہے ۔ یہ بات انہوں نے اس وقت کہی جبکہ کشمیر میں حالات سخت خراب ہیں۔ یہاں آئے روز ہڑتال ،کریک ڈاون، فائرنگ اورپتھر بازی ہوتی ہے۔ پچھلے کئی مہینوں سے روز عسکریت پسندوں کے خلاف کہیں نہ کہیں کاروائی کی جاتی ہے جس میں عسکریت پسندوں کے ساتھ ساتھ عام شہری بھی مارے جاتے ہیں ۔ علاحدگی پسندوں کے خلاف NIA نے وسیع پیمانے پر کریک ڈاون شروع کررکھا ہے ۔ کئی ممتاز علاحدگی پسند لیڈروں کے علاوہ تاجر وں کے خلاف بھی کارروائی کی جارہی ہے ۔ حال ہی میں معروف تاجر ظہور وٹالی کو گرفتار کرکے دہلی میں ایک کورٹ کے سامنے پیش کیاگیا جہاں سے انہیں دس دن کی تحویل میں دیا گیا ۔ وٹالی پر الزام ہے کہ دہشت گردوں کو مالی امداد کرنے میں ملوث ہے ۔ حریت لیڈر پہلے ہی ان الزامات کی تردید کرچکے ہیں ۔ ریاست کی ٹریڈرس فیڈریشن کا کہنا ہے کہ تاجر برادری کو بے بنیاد الزامات لگاکر تنگ کیا جارہاہے ۔ NIA کا کہنا ہے کہ اسے دستاویزی ثبوت ملے ہیں جن کی بنیاد پر کاروائی کی جارہی ہے ۔ اس کاروائی کے خلاف ریاستی سرکار نے کئی بار احتجاج کیا ہے ۔ لیکن ان کی ایک بھی چلنے نہیں دی گئی ۔
وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے اعلانیہ کہا ہے کہ تنگ طلبی سے حریت کی آواز کو دبایا نہیں جاسکتا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ زورزبردستی کرکے آزادی کی آواز ختم نہیں کی جاسکتی ہے ۔ بلکہ بات چیت سے مسائل حل کئے جاسکتے ہیں ۔ اب وزیراعظم نے بھی اعلان کیا کہ گالی یا گولی سے امن قائم نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ اس دوران کشمیر میں دفعہ 370اور35A پر مرکز کی طرف سے اپنائی گئی پالیسی پر سخت تشویش پائی جاتی ہے ۔ اس مسئلے پر سپریم کورٹ میں مقدمہ چل رہاہے ۔ ریاستی سرکار کی کوشش ہے کہ مسئلہ سلجھانے میں دہلی سرکار مدد دے ۔ لیکن وہاں سے کوئی واضح پالیسی سامنے نہیں آئی ہے ۔ اس پر تشویش کی جوصورتحال ہے اس کو دیکھ کر بی جے پی کے معروف مرکزی رہنما یشونت سنہا اپنے گروپ کے ساتھ کشمیر آئے ہوئے ہیں ۔ سنہا نے وزیراعلیٰ کے علاوہ گورنر سے ملاقات کی اور کئی معاملات پر بات چیت کی ۔ اس نے یہ بات زور دے کرکہی کہ مرکز کو کشمیر کی خصوصی پوزیشن کو لے کر اپنی پالیسی واضح کرنی چاہئے۔
وزیراعظم کا گالی اور گولی کا بیان لال قلعہ سے اس وقت دیا گیا جب ملک آزادی کا 70ویں سالگرہ کا جشن منارہاتھا ۔اس سے ایک روز پہلے پاکستان نے اپنا آزادی کا دن بڑے جوش وخروش سے منایا ۔ اس موقعے پر وادی میں بہت سی جگہوں پر پاکستانی جھنڈے لہرائے گئے اور خفیہ پریڈیں کی گئیں۔ بھارت کے یوم آزادی کے موقعے پر پورے سرینگر کو حصار میں لیا گیا تھا اور سخت حفاظتی انتظامات کے تحت کشمیر کے بخشی اسٹیڈیم میں اس حوالے سے تقریب منعقد کی گئی ۔ دہلی میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے اچانک کشمیر کا ذکر کیا اور اعلان کیا کہ کشمیر میں گالی یا گولی کی پالیسی کو چلنے نہیں دیاجائے گا ۔ ان کے اس بیان کا بہت سے حلقوں نے خیر مقدم کیا ہے۔
سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کا کہنا ہے کہ دیر سے ہی سہی کم از کم وزیراعظم نے ایک حوصلہ افزا پیغام دیا ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزیراعظم یہاں کے حالات سے بے خبر نہیں ہیں ۔ ریاست میں ایک سال سے سخت شورش برپا ہے ۔ پچھلے سال برہان وانی کی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاکت سے لے کر آج تک حالات میں سدھار نہیں لایا جاسکا ۔اس وجہ سے وادی میں سخت خوف کا ماحول پایا جاتا ہے۔ ریاستی سرکار کی قیادت کرنے والی جماعت پی ڈی پی کا کہنا ہے کہ امن مذاکرات جلد ہی بحال کئے جائیں گے ۔ لیکن حکومت میں شامل بی جے پی اس بات سے انکار کررہی ہے کہ علاحدگی پسندوں کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات ہونگے ۔ اس وجہ سے اصل روڑ میپ کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے ۔
ادھر علاحدگی پسندوں کے علاوہ اپوزیشن نیشنل کانفرنس الزام لگارہی ہے کہ ریاست میں بی جے پی ایجنڈا آگے لے جانے میں پی ڈی پی کا اہم رول ہے ۔ اس وجہ سے پی ڈی پی اپنے ووٹ بینک سے ہاتھ دھو رہی ہے۔ خاص طور سے جنوبی کشمیر میں اس پارٹی کے لئے گراونڈ کمزور ہورہاہے ۔ سیکورٹی فورسز نے عسکریت پسندوں کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس حوالے سے بڑے پیمانے پر کاروائیاں ہورہی ہیں ۔ پچھلے دو مہینوں کے دوران مبینہ طور ایک سو پانچ جنگجو مارے گئے جن میں کئی نامور کمانڈر شامل ہیں ۔ پچھلے دنوں آونیرہ شوپیان میں کاروائی کے دوران حزب المجاہدین کا کمانڈر یاسین ایتو مارا گیا ۔ ایتو حزب کا کشمیر میں آپریشنل کمانڈر تھا اور سب سے لمبی عمر کا جنگجو مانا جاتا تھا ۔ کہا جاتا ہے کہ ایتو نے 1996 میں بندوق اٹھایاتھا ۔ اس کے بعد کئی بار گرفتار اور رہا ہوا ۔ گرفتاری اور رہائی کے اس کھیل کے درمیان اس نے بار بار بندوق اٹھایا ۔ ایتو پچھلے دنوں آونیرہ میں دو اور کمانڈروں کے ساتھ مارا گیا ۔ ایتو اصل میں بڈگام ضلع سے تعلق رکھتا ہے ۔ آونیرہ میں کہا جاتا ہے کہ کچھ دوسرے کمانڈروں کے ساتھ میٹنگ کررہاتھا جب فوج نے مصدقہ اطلاع پر گائوں کا محاصرہ کیا ۔ تصادم کے دوران ایتو اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ مارا گیا ۔ ایتو کی ہلاکت کو فوج کی بڑی کامیابی قرار دیا جارہاہے۔
ادھر حریت رہنما مولوی عمر فاروق نے جمعہ کو اپنے خطبے کے دوران اعلان کیا کہ ایک جنگجو کو مار ا جائے تو دس اس کی جگہ بندوق اٹھانے کے لئے تیار ہیں ۔ ان کے اس بیان سے دہلی میں سخت تشویش پیدا ہوگئی ۔ حریت لیڈر کے بیان کے خلاف سب سے پہلا ردعمل کانگریس کی طرف سے سامنے آیا ہے ۔ کانگریسی لیڈر نے اپنے بیان میں مولوی عمر کے بیان پر سخت غصے کا اظہار کیا ہے ۔ تاہم یہ بات اہم ہے کہ ان کے بیان پر بی جے پی نے زیادہ ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے ۔
مرکزی سرکار جنگجووں کے خلاف کاروائی کو ضروری قراردیتی ہے ۔ اس دوران مذاکرات کا عمل جاری رکھنے کی حمایت بھی کررہی ہے ۔ مودی کے لال قلعے پر دئے گئے بھاشن پر کب عمل ہوگا ابھی کہنا کچھ مشکل ہے ۔ واقعی ان کایہ بیان سرکاری پالیسی ہے یا کشمیریوں کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش ہے کچھ کہنا مشکل ہے ۔ تاہم مودی کے بیان سے سیاسی حلقوں میں نئی امید پیدا ہوگئی ۔ اس کو عملی صورت دینے کی اشد ضرورت ہے ۔