اداریہ

انتخابات اورمطلب کی بولیاں

ریاست میں فی الوقت گورنر راج کا نفاذ ہے اور گورنر انتظامیہ ریاست میں پنچایتی اور بلدیاتی چنائو کرانے کےلئے زبردست تگ دو میں ہیں۔ عوامی حلقوں کی رائے ہے کہ یہاں نئےگورنر کی تعیناتی اسی مقصد کےلئے کی گئی تاکہ ریاست میں یہ انتخابات کرانا ممکن بن سکیں۔ یہ بھی ایک لہر سی ہے کہ پُرانے گورنر یعنی این این ووہرا نے مرکزی سرکار کو فی الحال ریاست میں یہ چنائو کرانے کے لئے ماحول سازگار نہیں ہے کا سمجھائو دیا تھا، جس کے بلبوتے پر ہی ووہرا کو فی الفور گورنر کے عہدے سے ہٹایا گیا اور اپنے من پسند گورنر کو تعینات کیا گیا۔ تاہم نئے گورنر نے عہدہ سنبھالنے کے فورا بعد ریاست میں پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات کرانے کے لئے زبردست کوششیں کی۔ ریاست میں خاص طور سے وادی میں چنائو کرانے کے لئے ابھی ماحول سازگار نہیں ہے کے چلتے ریاست کی دو بڑی سیاسی پارٹیوں کے ساتھ ساتھ کئی یک نفری پارٹیوں نے بھی چنائو کےلئے ماحول سازگار نہیں ہے کی چتاونی دی۔ اور تب تک چنائو لڑنے سے انکار کیا جب تک کہ دفعہ370 کے آرٹیکل35A کی حفاظت یقینی بنانے کے لئے مرکزی سرکار کی طرف سے اقدامات کی ضمانت نہ مل سکیں۔ دفعہ370 کے آرٹیکل35A کا بہانہ بنا کر ان پارٹیوں نے انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا تاہم دوسری اوور عوامی حلقے اس بات سے بھی باخبر ہے کہ ان پارٹیوں کو دفعہ370 کے آرٹیکل 35A کے حفاظت کی کوئی پروا نہیں ہے بلکہ یہ پارٹیاں اپنے مستقبل یعنی آئندہ اسمبلی اور پارلیمانی انتخابات کے لئے ووٹ بنکنگ تیار کررہیں اسی کے چلتے فی الحال بلدیاتی اورپنچایتی چنائو کےلئے بائیکاٹ پر ہے۔ حقیقی معنوں میں دیکھا جائے تو سبھی پارٹیاں اپنے اپنے مطلب کی بولیاں بولتے ہیں۔