خبریں

انتخابات نہیں حق خودارادیت ہمارا واحد مطالبہ

انتخابات نہیں حق خودارادیت ہمارا واحد مطالبہ

حریت کانفرنس(ع) کے چیرمین میرواعظ محمد عمر فاروق نے اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کونسل کی چیرمین Michelle Bachelet کے حالیہ بیان کومبنی برحقیقت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بات بڑی خوش آئند ہے کہ بین الاقوامی سطح پر جموں وکشمیر کے حالات کی نسبت زبردست فکر و تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے اور اسی ہفتے اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کی نو منتخبہ کمشنر نے یہ بات برملا کہی کہ جموں وکشمیر میں بھارت کا حقوق انسانی کا ریکارڈ انتہائی تشویشناک ہے، یہاں بے دریغ انسانی حقوق کی پامالیاں ہو رہی ہیں اور یہ کہ کشمیری عوام کو ان کا پیدائشی حق ،حق خودارادیت دیا جائے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کر سکیں۔مرکزی جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ سے قبل ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے میرواعظ نے Michelle Bachelet کے بیان کا اپنی اور کشمیری عوام کی طرف سے خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات باعث افسوس ہے کہ حکومت ہندوستان نے موصوفہ کے اس بیان کو ایک بار پھر مسترد کردیا لیکن وہ اس بات کو محسوس نہیں کرتے کہ اقوام متحدہ ، او آئی سی یا ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے کشمیر کے حوالے سے شائع ہو رہی رپورٹوں کو مسترد کرنے سے حکومت ہندوستان کی انسانی قدروں اور جمہوریت کے دعوے سراب ثابت ہو رہے ہیں ۔ میرواعظ محمد عمر فاروق نے کہا کہ حکومت ہندوستان اپنی غلطیوں سے سبق حاصل نہیں کرتی اور وہ وہی غلطیاں دہرا رہے ہیں جو وہ ۱۹۴۷ء سے آج تک دہراتے آرہے ہیں ، وہ سمجھ نہیں پا رہے کہ آج کشمیریوں کی چوتھی نسل اپنا حق مانگ رہی ہے۔ بھارت کی ارباب سیاست نہ عالمی برادری اور نہ اپنے لوگوں کو گمراہ کرسکتے ہیں جہاں تک کشمیری عوام کی بات ہے تو وہ اس بات کو بخوبی سمجھ رہے ہیں کہ بھارت اصل مسئلہ کی جانب توجہ دینے کے بجائے فروعی معاملات میں وقت ضائع کررہا ہے ۔ میرواعظ نے کہا کہ جموں وکشمیر میں سب سے بڑا مسئلہ یہاں بھارت کا بے پناہ فوجی جماؤ ہے یہاں لاکھوں کی تعداد میں فوج اور فورسز موجود ہیں اور جب تک جموں وکشمیر سے فوجی انخلاءBlack Laws ، Bunker اور watch Tower ہٹائے نہیں جاتے تب تک یہاں حالات میں بہتری کے امکانات پیدا ہونا ناممکن ہے ۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں فوجیوں اور فورسز کی تعداد کم کرنے کے بجائے یہاں مزید فورسز کو لایا جارہا ہے اور اس کا سب سے بڑا مقصد یہ ہے کہ کشمیری عوام کی آواز کو دبایا جائے ۔ میرواعظ نے کہا کہ ہم یہ بات واضح کرنا چاہتے ہیں کہ حکومت ہندوستان جتنی زیادہ قوت کے ساتھ ہماری آواز کو دبانے کی کوشش کرے گی اتنی ہی شدت کے ساتھ یہ آواز ابھرتی جائیگی، ہمارا واحد مطالبہ حق خودارادیت ہے اور اس کے حصول تک ہماری جدوجہد جاری رہیگی۔ جہاں تک نام نہاد انتخابات کا تعلق ہے تو یہ پنچایتی انتخابات ہوں یا میونسپل ، نام نہاد اسمبلی کے انتخابات ہوں یا پارلیمنٹ کے جموں وکشمیر کے عوام ان انتخابات کو مسترد کرتے ہیں اور یہاں کے عوام کا اس لاحاصل عمل سے کوئی لینا دینا نہیں۔میرواعظ محمد عمر فاروق نے کہا کہ ہمارا ایک ہی نعرہ ہے کہ کوئی انتخابات نہیں صرف حق خودارادیت اور یہی ہمارا واحد مطالبہ ہے جویہاں کی متحدہ قیادت نے دیا ہے اور اسی Slogan کو بنیاد بنا کر آئندہ ذرائع ابلاغ ، Social Media یا دیگر ذرائع کے ذریعے نام نہاد انتخابی عمل کیخلاف مہم چلائی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا حق خودارادیت کا مطالبہ پورا ہونے تک ہماری جدوجہد ہر سطح پر جاری و ساری رہیگی۔ اس دوران نماز جمعہ کے بعد مشترکہ مزاحمتی قیادت کے احتجاجی پروگرام کی پیروی میں بڑی تعداد میں حریت کارکنوں نے نام نہاد بندوق برداروں کی جانب سے قتل و غارت کیخلاف صدائے احتجاج بلند کیا۔دریں اثنا حریت ترجمان نے کشتواڑ میں پیش آئے خوفناک سڑک حادثے جس میں ۱۷ کے قریب قیمتی انسانی جانیں تلف ہوئیں اور دیگر درجنوں زخمی ہوئے پر شدید رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق ہوئے افراد کے لواحقین کے ساتھ تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا اور زخمیوں کی فوری شفایابی کے لئے دعا کی۔
ادھرحریت کانفرنس(گ) کی طرف سے ریاست جموں کشمیر میں تحریک حقِ خودارادیت کے حوالے سے سیاسی اور پُرامن سرگرمیوں میں مصروف راہنماؤں اور کارکنوں کی چنیدہ ہلاکتوں، عسکریت پسند نوجوانوں کو زیرِ حراست قتل کرنے اور غیر سیاسی مفکرین اور سول آبادی سے تعلق رکھنے والے لوگوں بالخصوص نوجوان نسل کو قتل وغارت گری کا نشانہ بنائے جانے کی شرمناک کارروائیوں کے خلاف حیدرپورہ سرینگر کے مین چوک میں ایک زوردار احتجاجی مظاہرہ کیا۔
اس دوران مظاہرین بومئی سوپور کے حاکم الرحمان سلطانی، اشفاق احمد وانی اور ڈاکٹر عبدالاحد کو بھارتی ایجنسیوں کی طرف سے شہید کئے جانے کی بزدلانہ کارروائیوں پر روک لگائے جانے کے لیے عالمی انسانی حقوق کے اداروں اور اقوامِ متحدہ کی اس ضمن میں مناسب اور بروقت کارروائی کئے جانے کا مطالبہ کررہے تھے۔ ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڈ اٹھائے ہوئے حریت راہنمائوں اور کارکنان نے ریاست میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں کے خلاف زوردار نعرے بلند کررکھے تھے۔ احتجاجی مظاہرے میں حریت مجلس شوریٰ کے ارکان یا نمائندوں کے علاوہ سینکڑوں نوجوانوں اور کارکنوں نے شرکت کی۔ مظاہرین حراستی ہلاکتوں اور قتل عام کو بند کرو کے نعرے بلند کرنے کے علاوہ الیکشن مخالف نعرے بھی دے رہے تھے۔ احتجاجی مظاہرین کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مظاہرین نے بھارت کی قابض انتظامیہ کی طرف سے ریاستی عوام کے خلاف ظلم وتشدد، بربریت اور قتل وغارت گری کو انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ ان مذموم حربوں سے حریت پسندوں کا کاروان اپنی مقدس تحریک حقِ خودارادیت سے دستبردار نہیں ہوسکتے۔ حریت راہنمائوں نے نوجوان مزاحمتی راہنما حاکم الرحمان سلطانی کو بھارتی ایجنسیوں کی طرف سے انتہائی بے دردی کے ساتھ شہید کئے جانے کی بہیمانہ کارروائی کو بزدلانہ حرکت قرار دیتے ہوئے انہیں شاندار الفاظ میں خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ ظالم حکمرانوں کے سامنے حاکم الرحمان جیسے شعلہ بیان مقرر اور نیک صفات کے مالک کردار کے علاوہ ایک سماجی اصلاح کار کے حوالے سے ان کی جوان بیوی اور پانچ کم سن بیٹیوں کو سرراہ کسمپرسی کی حالت میں مبتلا کیا جانا کِسی چنگیز یا ہٹلر کے حاشیہ خیال میں بھی نہ آیا ہوگا۔ حریت راہنما نے سیاسی راہنماؤں کی چنیدہ ہلاکتوں کو بھارت کے قابض افواج کی طرف سے ریاستی عوام کو خوفزدہ کرنے کی شاطرانہ چال کو ردّ کرتے ہوئے کہا کہ ایسی چالوں سے کشمیری قوم پچھلے 70برسوں سے آگاہ ہوچکی ہے اب اس قوم کو کسی بھی سودا بازی کے دام فریب میں لایا نہیں جاسکتا۔ حریت راہنما نے ڈاکٹر عبدالاحد جیسے ریسرچ اسکالر کو پُراسرار طور پر سرکاری ایجنسیوں کے ذریعے قتل کرانے کا مقصد یہاں کے حریت پسند دانشوروں کی زبان بندی کرکے یہاں قبرستان کی سی خاموشی کو نافذ کرنے کی ایک سعی لاحاصل قرار دیتے ہوئے انہیں شاندار الفاظ میں خراج عقیدت ادا کیا۔ مظاہرین نے الیکشن بائیکاٹ کے حق میں بھی زوردار نعرے بلند کئے۔