اداریہ

انتخابات کےلئے بائیکاٹ

یہ بات درست ہے کہ اگر ریاست کی مین سٹریم پارٹیاں پوری طرح الیکشن بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کرتی تو نہ صرف مرکزی سرکار دفعہ370 کے آرٹیکل35A کے حفاظت کی ضمانت دیتی بلکہ نئی دلی مین سٹریم جماعتوں کو اٹانومی دینے کے لئے بھی مجبور ہو جائے گی۔ شرط یہ ہے کہ سبھی مین سٹرمیم پارٹیاں ایک جٹ ہو کرتمام قسم کے انتخابات میں حصہ لینے کے لئے انکار کرتے ۔ تب مرکزی سرکار 35A کی حفاظت کےلئے سبھی لازمی اقدامات کرے گی اور اتنا ہی نہیں بلکہ مرکزی سرکار سچ مچ ان پارٹیوں کو اٹانومی دینے کے لئے تیار ہو گی۔ حالانکہ یہاں یعنی ریاست میں بلدیاتی اور پنچایتی الیکشن کرنے کی بات اس وقت سامنے آئی جب مرکزی سرکار کی طرف سے سپریم کورٹ میں اس کا انکشاف کیا گیا۔ سپریم کورٹ میںدفعہ 35اے کے حوالے سے دائر مقدمے کی سماعت کے دوران کہا گیا کہ سماعت ملتوی کی جائے ۔ سماعت ملتوی کرنے کے لئے یہ جواز پیش کیا گیا کہ ستمبر سے لے کر دسمبر تک ریاست میں میونسل کمیٹیوں اور پنچایتوں کے انتخابات کئے جارہے ہیں ۔ اس وجہ سے سماعت ملتوی کی جانی چاہئے ۔ سپریم کورٹ نے اس بات سے اتفاق کیا اور کیس کی سماعت ملتوی کی۔ یہ سماعت اب اگلے سال جنوری کے مہینے میں مقرر ہے ۔ اس دوران ریاست میں ایک سرکاری تقریب کا انعقاد کیا گیا جہاں ریاستی گورنر کے علاوہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ بھی موجود تھا ۔ فاروق صاحب نے انتخابات کے حوالے سے یہ بات دوہرائی کہ ان انتخابات کا مسئلہ کشمیر سے کچھ لینا دینا نہیں ۔ اس لئے انتخابات منعقد ہونے چاہئے ۔ لیکن اگلے ہی روز پارٹی میں سخت انتشار پیدا ہوگیا ۔کہا جاتا ہے کہ کئی سینئر رہنمائوں نے اس پر اعتراض کیا کہ فاروق عبداللہ نے مشورہ کئے بغیر الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان کیا ۔ اس حوالے سے انکشاف کیا گیا ہے کہ پارٹی کے جنرل سیکریٹری نے پارٹی چھوڑنے کی دھمکی دی ۔ اس دھمکی سے ڈرتے ہوئے کور کمیٹی کی میٹنگ بلائی گئی جہاں فیصلہ لیا گیا کہ انتخابات میں حصہ نہیں لیا جائے گا ۔ بعد میں ایک پریس کانفرنس بلائی گئی ۔ اس پریس کانفرنس میں مطالبہ کیا گیا کہ مرکزی سرکار پہلے آئین کی دفعہ 35A پر اپنا موقف ظاہر کرے۔ الیکشن میں شمولیت کے لئے یہ شرط رکھی گئی کہ اس دفعہ کی حفاظت کرنے کا ان سے وعدہ کیا جائے ۔ ایسا نہیں کیا گیا تو پارٹی الیکشن میں حصہ نہیں لے گی ۔