خبریں

انسانی حقوق کی شدید پامالیوں پر گہری تشویش

انسانی حقوق کی شدید پامالیوں پر گہری تشویش

حریت کانفرنس (ع)کے چیرمین میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے حکمرانوں اور انتظامیہ کی آمریت اور تاناشاہی پر مبنی پابندیوں، قدغنوں اور رکاوٹوں کی پالیسیوں کیخلاف شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان ہتھکنڈوں سے ہمارے حق و انصاف کی آواز کو ہرگز دبایا نہیں جاسکتا اور نہ ہی اس طرح کے حربوں سے ہم اپنے بنیادی حق اور اصولی مطالبے سے پیچھے ہٹنے والے ہیں۔ میرواعظ ن نے حسن پورہ آرونی میں شہید کئے گئے نوجوانوں کوپُر نم آنکھوں سے شاندار الفاظ میں خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ شہیدوں اور آزادی پسند عوام کی بے مثال قربانیوں کے سبب مسئلہ کشمیر عالمی توجہ کا مرکز بن چکا ہے اب یہ قیادت اور عوام کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ شہداءکے مقدس مشن کی آبیاری کے ساتھ ساتھ تحریک حق خودارادیت کو اُس کے منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے بھر پور اتحاد ، یکسوئی اور عزم و استقامت کا مظاہرہ کرے۔
میرواعظ نے حسن پورہ آرونی میں مظاہرین پر شیلنگ اور پیلٹ فائرنگ سے زخمی کئے گئے شہریوں کی فوری شفایابی کی دعا کی۔ میرواعظ نے جموںوکشمیر میں انسانی حقوق کی شدید پامالیوں کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس خطے میں بنیادی انسانی حقوق کی پامالیاں روز بہ روز بڑھتی جارہی ہے اور10دسمبر کو جب بین الاقوامی برادری انسانی حقوق کے دن کے طور پر منا رہی ہے اور دنیا بھر میں انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے اور پامالیوں کو رکوانے کیلئے عہد اور معاہدے کئے جارہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جموںوکشمیر دنیا کے ان خطوں میں شامل ہے جہاںکھلے عام سرکاری سطح پر انسانی حقوق کی دھجیاں بکھیری جارہی ہیں۔ میرواعظ نے کہاکہ اقوام متحدہ نے قوموں کے حق خودارادیت، انہیں زندہ رہنے کے حق اور آزادی اور تحفظ کو اپنے دستور میں نہ صرف تسلیم کیا ہے بلکہ ہر ممبر ملک کو اسکا پابند بنایا ہے لیکن جموںوکشمیر کی سطح پر یو این او کے یہ عہد اوروعدے کھوکھلے اور بے معنی نظر آتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ طاقت کے بل پر کشمیری عوام کو ان کے پیدائشی حق، حق خودارادیت سے محروم رکھا گیا ہے ۔ عام زندگی عدم تحفظ کی شکار ہے اور حقوق کی پامالیوں کے ساتھ ساتھ جموںوکشمیر کی پوری آبادی کو حکومت ہند اوراسکے ریاستی اتحادی سرکار، ریاستی دہشت گردی اور پُر تشدد کارروائیوں سے عوامی احساسات اور خواہشات کو دبانے میں مصروف عمل ہے ۔یہاں کالے قوانین نافذ ہیں ، بڑی تعداد میں نوجوانوں کو زیر حراست قتل کیا گیا ہے اور ہزاروں کی تعداد میں کشمیری گمشدہ ہیں ، قتل عام، عصمت دری اور آبروریزی کے سینکڑوںشرمناک واقعات رونما ہو چکے ہیں اور ہرگزرتے موسم کے ساتھ ان افسوسناک پامالیوں میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ میرواعظ نے کہا کہ حالیہ پُر جوش عوامی تحریک کے دوران ہمارے سو سے زیادہ نہتے اور معصوم افراد کو شہید ، ہزاروں کو شدید زخمی اور پیلٹ گن سے سینکڑوں معصوم افراد جن میں بچے بھی شامل ہیں کو بینائی سے محروم کردیا گیا ہے ۔ جملہ مزاحمتی قیادت اور ہزاروں حریت پسند نوجوانوں کوگرفتار کرکے خانہ اور تھانہ نظر بند رکھا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ مجھے خود گزشتہ پانچ مہینوں سے اپنی رہائش گاہ میں نظر بند رکھا گیا ہے جبکہ اس دوران دو مہینے تک سب جیل میں حبس بےجا کے طور پر قید تنہائی میں بھی رکھا گیا ۔میرواعظ نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی جو بدترین صورتحال یہ پوری انسانیت کیلئے ایک چیلنج ہے اور امسال اقوام متحدہ نے بین الاقوامی حقوق کے دن کے موقعہ پر جو نعرہ دیا ہے وہ ہے” Stand up for someones rights today” یعنی ”آج کسی کے حقوق کی حفاظت کیلئے کھڑے ہو جانا“۔انہوں نے توقع ظاہر کی کہ اس نعرہ کے تناظر میں کشمیریوں کیلئے بین الاقوامی سطح پر حمایت اور سپورٹ کیلئے آواز اٹھے گی۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں پر سے جموںوکشمیر کے عوام کا اعتماد متزلزل ہو چکا ہے لہٰذااب عملاً اس ضمن میں اقدامات کئے جائیں گے تاکہ بین الاقوامی اداروں پر کشمیریوں کا اعتماد بحال ہوسکے ۔دریں اثنا حریت ترجمان نے حریت چیرمین میرواعظ، بزرگ رہنما سید علی شاہ گیلانی،جناب مختار احمد وازہ، ایڈوکیٹ شاہد الاسلام، انجینئر ہلال احمد وار اور دیگر حریت رہنماؤں اور کارکنوں کی خانہ و تھانہ نظربندی اور نوجوانوں کی گرفتاریوں، بانڈی پورہ، ترال، سوپوراور آرونی میں سرکاری فورسز کی پُر تشدد کارروائیوںکیخلاف شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ان کی مذمت کی اور کہا کہ ان اوچھے ہتھکنڈوں سے حکومت اور سرکاری کارندوں کو کچھ بھی حاصل ہونے والا نہیں ہے اور نہ ہی اس طرح کی کارروائیوں سے قیادت اور عوام کے حوصلوںکو پست کیا جاسکتا ہے۔