اِسلا میات

انسانی شخصیت پردعا کے اثرات

انسانی شخصیت پردعا کے اثرات

ملک نذیر
دعا ماگنا بہت بڑی سعادت ہے قرآن و احادیث مبارکہ میں جگہ جگہ دعا مانگنے کی ترغیب دلائی گئی ایک حدیث پاک میں ہے، کیا میں تمھیں وہ چیز نہ بتائوں جو تمھیں تمھارے دشمن سے نجات دے اور تمھارا رزق وسیع کر دے رات دن اللہ سے دعا مانگتے رہو کہ دعا مومن کا ہتھیار ہے اور دعا دافعِ بلا ہے حضور پر نور آقادوجہاں کا فرمان مشکبار ہے،، بلا اترتی ہے پھر دعا اس سے جا ملتی ہے پھر دونوں قیامت تک جھگڑاکرتے رہتے ہیںعبادات میں دعا کا بہت مقا م ہے حضرت سیدنا ابو زر غفاری ارشاد فرماتے رہیں ،عبادا ت میں دعا کی وہی حیثیت ہے جو کھانے میں نمک کی ،رحمت دوعالمﷺارشاد فرماتے ہیںجو مسلمان ایسی دعا کرے جس میں گناہ اور قطع رہنے کی کوئی بات شامل نہ ہو تو اللہ تعالیٰ اسے تین چیزوں میں سے کوئی ایک ضرور عطا فرماتا ہے۔
یا اس کی دعا کا نتیجہ جلد ہی اس کی زندگی میں ظاہر ہو جاتا ہے، اللہ تعالیٰ کوئی مصیبت اس بندے سے دور فرما دیتا ہے اس کے لیے آخرت میں بھلائی جمع کی جاتی ہے ایک اور روایت میں ہے کہ بندہ جب آخرت میں اپنی دعا وں کا ثواب دیکھے گا جو دنیا میں مستجاب (یعنی مقبول نہ ہوئی تھیں)تو تمنا کرے گاکاش دنیا میں میری کوئی دعا قبول نہ ہوتی اورآ پ اپنے دل میں یہ اچھی طرح ارادہ کر لیں اگر کوئی آدمی دعا کرتا ہے تو دعا راہیگاں نہیں جائے گی اس کا اثر اگر دنیا میں ظاہر نہ ہوا تو آخرت میںاس کا اجر و ثواب مل ہی جائے گا لہٰذا دعا میں سستی کر نا مناسب نہیں اور قران پاک میں بھی ارشادباری تعالیٰ ہے۔
ترجمہ (کنزالایمان) مجھ سے دعا مانگا کرو میں قبول کروں گااور دعا مانگنا سنت ہے کہ ہمارے پیارے آقا مکی مدنی ﷺ اکثر اوقات دعا ما نگتے لہٰذا دعا مانگنے میںاتباعِ سنت کا بھی شرف حاصل ہو گا دعا مانگنے میں اطاعت رسولﷺ بھی ہے کہ آپﷺ دعا کی اپنے غلاموں کو تاکید فرماتے رہتے دعامانگنے والا عابدو ں کے گروہ میں داخل ہوتا ہے کہ دعا بزات خود ایک عبادت بلکہ عبادت کا بھی مغز ہے جیسا کہ ہمارے پیارے آقا ﷺ کی حدیث مبارکہ ہے جس کا ترجمہ یہ ہے دعا عبادت کامغز ہے دعا ماگنے سے یا تو اْس کا گنا معاف کیا جاتا ہے یا دنیا میں اس کے مسائل حل ہوتے ہیں۔یا پھر وہ دعا اس کے لیے آخرت کاذخیرہ بن جاتی ہے۔جب بھی خیال آتا ہے سوچتا رہتاہوں کے دعا بھی کیا چیز ہے۔
شاید عاجزی یا پھر امید یا حوصلہ ہے لیکن اس سے بھی بڑھ کر اللہ پاک سے گڑگڑا کر دعا ماگنا بہترین ذریعہ ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ دعا ایک غیرمرئی قوت ہے اگر اللہ تعالیٰ تمھاری دعاوئیں قبول کر رہا ہے تو یہ سمجھ لو کہ اللہ پاک آپ کو نواز رہا ہے اگر اس کے برعکس آپ کی دعائیں دیر سے پوری ہو رہی ہیںتو یقینا اللہ پاک تمھارا امتحان اور صبر بڑھا رہا ہے اور انسان کی دعا کبھی رد نہیں ہوتی اس کا صلہ ضرور ملتاہے اس لیے ہمیشہ اللہ پاک سے دعاماگتے رہا کرو جب آدمی اللہ پاک سے دعا مانگتا ہے توا للہ پاک کو وہ شخص بہت محبوب لگتا ہے اور سنا ہے کے دعا دستک کی طرح ہوتی اس کے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے اور واقعی اگر آدمی خلوص نیت سےا للہ پاک سے جو جائز دعا مانگے تو یقینا اللہ پاک ضرور پورا کرتاہے جب انسان کی ہمت جواب دے دیتی ہے کوئی اور آس امید نہیں ہوتی تو اْس کا آخری سہارا قادرمطلق کی ذات ہے۔
جس کے حضور دعا کر کے اپنا غم اور دکھ درد بیان کر کے اپنے گناہوں کی معافی مانگ کر اپنی شرمندگی کا اظہار کرتاہے اور توبہ کرتا ہے تو اللہ پاک اس کی دعا قبول کر لیتاہے اور اگر سچے دل سے آدمی توبہ کرتا ہے تو ضرور اس کی دعا قبول ہو تی ہے اور یقیناا للہ پاک دعائیں سننے اور قبول کرنے والا ہے اس لیے اللہ پاک سے رو کر اور گڑ گڑا کر دعا ماگنا چاہیے اور مومن کا یہ یقین ہے کہ جس دعا کے شروع اور آخر میں پیارے آقاﷺ کا درود شریف پڑھیںیقینا آپ کی دعا قبول ہو گی کیونکہ اگر آپ درود شریف پڑھنا بْھول گئے تو آپ کی دعا قبول نہیں ہو گی وہ دعا زمیں او ر آسمان کے درمیان لٹکی رہے گی دعائیں تو ہر وقت قبول ہوتی ہیں لیکن اگر آپ رات کے پچھلے پہر یعنی سحری کے وقت آپ جو دعا مانگے گے وہ کبھی رد نہیں ہو گی اور جمہ کے دن آپ کی دعا قبول ہو گی اور خاص کر جمہ کے دن عصر کاوقت بھی دعا کے لیے قبولیت کا وقت ہے اور روز مرہ کی زندگی میں اگر آپ کسی بیمار کی عیادت کے لیے جاتے ہیں تو آپ اس بیمار سے کہیں کے وہ ہمارے لیے دعا کرے بہت سی پریشانیاں اور مصبتیں دور ہو جائیں گی اگر آپ کسی کے لیے دعا کریں گے تو اللہ پاک اس کا اجر دے گا کچھ لوگ حسد اور بخیلی سے کام لیتے ہیں۔
کسی کے لیے دعا بھی نہیں کرتے ہیں حالانکہ دعا کرنے سے بہت سی مصتبیں اور بلائیں ٹل جاتی ہیں آپ سب کو معلوم ہے کہ صدقہ خیرات اور دعا سے ہر قسم کی بلائیں ٹل جاتی ہیں اور واقعی سچ ہے کہ دعا غم ٹال دیتی ہے اور جب ہم اور آپ لوگ مسجد میں باجماعت نماز ادا کرتے ہیں تو یقینا آپ امام کے ساتھ اجتماعی دعا مانگیں اور آپ اس کے ہر فقرے پر آمین کہا کریں کیونکہ امین دعا کی مہر ہوتی ہے اور آپ نورانی اور اللہ کے نیک لوگوں کی محفلیں Attend کیا کریں یقینا اللہ کے نیک لوگوں کی دعائیں قبول ہوتی ہیں بعض اوقات دعا کے بدلے میں وہ بھی مل جاتا ہے جس کی آرزو اور حسرت ہوتی ہے بلکہ انسان پریشان اور دنگ رہ جاتا ہے کہ میں کہاں تھا اس کے قابل جتنا میرے مالک نے مجھے نوازا ہے اور آپ نے اکثر دیکھا ہو گا۔
بہت سے کام دعا ئوں کے صد قے مْمکن ہوئے حضور پر نور آقا ﷺنے بھی اللہ پاک سے دعا کی تھی یا اللہ عمر بن ہشام اسلام لے آئے یا حضرت عمر بن خطاب اسلام قبول کر لے اس دعا کے بدلے میں مرادرسولﷺ حضرت عمر فاروق مسلمان ہوئے اور یقینا دعا ایک غیر مرئی طاقت ہے اور اگر اللہ پاک تمھاری دعائیں قبول کر رہا ہے تو تجھے انعام سے نواز رہا ہے اگر دعاوئیں دیر سے پو ری ہو رہی ہیں تو اللہ پاک تمھارا صبر آزمارہا ہے اور آپ پریشان مت ہوں اگر دعا قبول نہیں ہو رہی ہے تو اس میں اللہ کی رضا ہے مومن کی دعا کبھی رد نہیں ہوتی ہے اس کا اجر ضرور ملتاہے اور اپنے دوستوں ،عزیزوں اور رشتہ داروں سے کہتے رہنا چاہیے کہ ہمیں ہر وقت دعائوں میں یاد رکھیں کیونکہ دعا صدقہ جاریہ بھی ہے اور دعا ہمیشہ عاجزی اور انکساری سے کرنی چاہیے کیونکہ عاجزی اور انکساری اللہ پاک کو پسند ہے اور یہ کالم پڑھنے والے ہمیں بھی اپنی دعائوں اور محبتوں میں یاد رکھیں اللہ پاک آپ کا حامی و ناصر ہو۔