مضامین

انڈین ائرفورس کو جنگی صورتحال سے نمٹنے کی بھر پور صلاحیت

ہند پاک کے درمیان سرحدی ،سفارتی کشیدگی اور تناؤ کے ساتھ ساتھ الفاظی جنگ کے بیچ برصغیر کی دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان ایک اُور جنگ کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔ اور بھارتی فضائیہ کے سربراہ بی ایس دھنوا نے سالانہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگلی سرجیکل اسٹرائیک میں پاکستان کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی فضائیہ پاکستان کی نیوکلائی تنصیبات کو بہ آسانی نشانہ بنا سکتا ہے۔ان کا کہناتھا کہ بھارتی فضائیہ سرحد پار پاکستان کی جوہری تنصیبات کو ڈھونڈ کر نشانہ بنانے کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار پاکستان کے ساتھ جنگ یا اگلی سر جیکل اسٹرئیک کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا ۔ ائر چیف بی ایس دھنوانے کہا’ اگر حکومت ہند اگلی سر جیکل اسٹرائیک کا فیصلہ لیتی ہے ،تو سرحد کے اُس پار پاکستان کے جوہرے ہتھیاروں کو تباہ کیا جاسکتا ہے اور اِسکی فضائیہ بھر پور صلاحیت رکھتی ہے‘۔ان کا کہناتھا کہ بھارتی فضائیہ ’’مکمل سپیکٹرم آپریشن ‘‘ کیلئے تیار ہے۔تاہم انہوں نے کہا کہ اگلی سر جیکل اسٹرائیک ،جس میں وہ فضائیہ کو بھی شامل ہونا چاہئے ،کے حوالے سے حتمی فیصلہ حکومت ہی لے سکتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ مکمل سپیکٹرم آپریشن کیلئے بھارتی فضائیہ کو’’42جنگی سکواڈرن‘‘ کی ضرورت ہے ،اگر بیک وقت2محاذوں پر جنگ چھڑ جاتی ہے۔ان کا کہناتھا کہ بھارتیہ فضائیہ کو یہ سہولیت2032میں فراہم ہوگی ۔تاہم ان کا کہناتھا کہ بھارتی فضائیہ 2محاذوں پر جنگی صورتحال سے نمٹنے کیلئے بھر پور صلاحیت رکھتی ہے۔
بھارتی فضائیہ کے سربراہ نے کہا کہ چین کے ساتھ جنگ کی صورت میں بھی بھارتی فضائیہ بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ڈوکلم سرحد کشیدگی کے حوالے سے ائر چیف کا کہناتھا کہ چھم بی وادی میں اب بھی چینی فوج موجود ہے ،امید ہے کہ وہ اپنی سرگرمیاں مکمل کرکے یہاں سے واپس جائیگی ۔ادھر پاکستان کا کہنا ہے کہ اگرہم پر جنگ مسلط کی گئی تو دندامِ شکن جواب دیا جائیگا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے ہم پر امن ملک ہیں اور کسی قسم کی جنگ نہیں چاہتے لیکن جنگ مسلط کی گئی تو بھر پور جواب دیں گے۔راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں جغرافیائی لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے اور پچھلی 4 دہائیوں سے افغانستان میں جنگ جاری ہے، پاکستان نے مجاہدین اور امریکا کے ساتھ ملکر سویت یونین کے خلاف جنگ لڑی اور جس طرح نائن الیون کے بعد یہ جنگ ملک میں داخل کی گئی اس کا سب کو علم ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کا 50 فیصد سے زائد کا علاقہ ان کی حکومت کے کنٹرول سے باہر ہے اور اس کا اثر پاکستان پر بھی ہوتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بدقسمتی سے بھارت کا رویہ درست نہیں، بھارت نے شرانگیزی کی قیمت بھی چکائی ہے اور اگر وہ باز نہ آیا تو اسے مزید قیمت چکانی پڑے گی جب کہ ہم پر امن ہیں اور کسی قسم کی جنگ نہیں چاہتے لیکن ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو بھرپور جواب کا حق رکھتے ہیں اور ضرورت پڑی تو جواب بھی دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کشمیر میں مظالم سے توجہ ہٹانے کے لیے سرحدوں پر کارروائیاں کررہا ہے اور وہ شہری آبادی کو نشانہ بناتے ہیں لیکن ہم ایسا نہیں کرتے کیوں کہ اس طرف بھی ہمارے کشمیری بھائی ہی ہیں جب کہ اپنے معصوم شہریوں کو بھارتی شلنگ سے بچانا ہمارے لیے ایک چیلنج ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان اور خطے کے اقتصادی مفادات پاکستان سے ہو کر گزرتے ہیں اور آج ہماری سرحدوں پر خطرات منڈلارہے ہیں لیکن دہشت گردی کا بہادری سے مقابلہ کیا اور ان کے خلاف بلاتفریق آپریشن کررہے ہیں جب کہ اس وقت پاکستان میں کسی دہشت گرد تنظیم کامنظم ٹھکانہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی سرحدوں پرنئی پوسٹیں بنائی ہیں اور ٹی ٹی پی اور داعش کے باعث مغربی سرحد پرفوج رکھنے پرمجبورہیں،2 لاکھ سے زائد فوج مغربی، ایک لاکھ فوج مشرقی سرحد پرتعینات ہے۔میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ ہماری سرحدیں ایران اور افغانستان سے ملتی ہیں، ہمیں ایران اور افغانستان سے کوئی خطرہ نہیں لیکن سرحد پر موجود غیر ریاستی عناصر سے خطرات موجود ہیں اور ہمارے تمام آپریشن کسی بھی ملک کی حکومت یا فوج کے خلاف نہیں بلکہ دہشت گردوں کے خلاف ہے جو تینوں ممالک کے مشترکہ دشمن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عنقریب آرمی چیف ایران کا دورہ کرکے سیکورٹی کا ایشو اٹھائیں گے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ناموس رسالت پر پاک فوج کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور کشمیر،فلسطین، میانمارمیں جو کچھ مسلمانوں کے ساتھ ہورہا ہے، ریاست کے طور پراخلاقی مدد جاری رہے گی جب کہ خاموشی کی اپنی زبان ہوتی اسی لئے کورکمانڈرکانفرنس کا اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا۔