سرورق مضمون

اوردیوالی منانے وزیراعظم اچانک گریز سیکٹرپہنچ گئے/ کیا ریاستی سرکار ان کی آمد سے بے خبر تھی؟

ڈیسک رپورٹ
وزیراعظم نریندر مودی جمعرات کو اچانک کشمیر پہنچ گئے ۔ یہاں انہوں نے گریز سیکٹر میں تعینات فوجی اہلکاروں کے ساتھ دیوالی منائی ۔ انہوں نے پورا دن گریز میں فوج اور بی ایس ایف اہلکاروں کے ساتھ گھل مل کر گزارا ۔ اس موقعے پر انہوں نے اہلکاروں میں مٹھائیاں بانٹ دیں اور ان کے ساتھ گپ شپ کیا ۔ وزیراعظم بانڈی پورہ پہنچ گئے جہاں سے انہیں فوجی ہیلی کاپٹر میں سیدھے گریز لے جایا گیا ۔ دہلی سے ان کے ساتھ وزیراعظم دفتر کے کئی اعلیٰ عہدیدار بھی آئے تھے اور مل کر دیوالی منائی۔ ان کی آمد سے پہلے فوج کے سربراہ بپن راوت کشمیر پہنچ گئے تھے ۔ اس کے علاوہ شمالی کمان کے سربراہ اور کشمیر میں تعینات پندرہ کور کے کمانڈر بھی وزیراعظم کے ساتھ گریز میں موجود تھے ۔ یہاں سے وزیراعظم تلیل بھی گئے اور وہاں فوج کو دیوالی پر مبارک باد دی ۔ یہ دوسرا موقعہ ہے کہ وزیراعظم کشمیر دیوالی منانے آئے ۔ وزیراعظم ہر سال دیوالی فوجیوں کے ساتھ مل کر مناتے ہیں۔ اپنی اس روایت کو برقرار رکھتے ہوئے انہوں نے اس سال بھی دیوالی سرحدوں پر تعینات فوجی جوانوں کے درمیان رہ کر منائی ۔ اس موقعے پر جو تصاویر سامنے آئی ہیں ان میں وزیر اعظم کئی فوجی اہلکاروں کے درمیان کھڑے ہوکر نظر آتے ہیں ۔ وزیراعظم اپنے ہاتھوں سے فوجی اہلکاروں کو مٹھائی کھلاتے دیکھے جاسکتے ہیں ۔ اس کے علاوہ انہوں نے فوج کو دہائی دی ۔ ان کا حوصلہ بڑھایا اور ان کی خدمات پر انہیں شاباشی دی ۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سرحدوں پر فوج کی تعیناتی اور ان کی حفاظت کی وجہ سے ہی ملک کے لوگ دیوالی منانے کے اہل ہیں ۔ وزیٹرس بک میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم نے فوج کو دیوالی کی مبارک باد دی ۔ فوج کے درمیان دیوالی منانے کی وجہ بتاتے ہوئے انہوں نے فوج کو اپنی فیملی قراردیا اور کہا کہ ہر شخص دیوالی اپنی فیملی کے ساتھ منانا چاہتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ہر سال دیوالی فوج کے ساتھ ہی مناتے ہیں ۔ کشمیر میں فوج کے ساتھ مل کر دیوالی منانے کا یہ دوسرا موقعہ ہے ۔ اس سے پہلے 2014 انہوں نے لداخ آکر یہاں سیاچن کے مقام پر تعینات فوجیوں کے ساتھ دیوالی منائی تھی ۔ اس سال ریاست میں تاریخ کا سب سے خطرناک سیلاب آیا تھا جس میں فوج کا بھی کافی نقصان ہوا تھا ۔ فوج کے ساتھ ہمدردی ظاہر کرنے اور وزیراعظم پیکیج کا اعلان کرنے کے لئے انہوں نے لداخ میں دیوالی منائی ۔ اس کے بعد ہرسال انہوں نے فوج کے درمیان دیوالی منائی ۔ آج ایک بار پھر کشمیر آکر انہوں نے گریز میں یہ تہوار منایا ۔
وزیراعظم ایک ایسے موقعے پر دیوالی منانے کشمیر آئے جبکہ کشمیر میں حالات سخت پریشان کن ہیں ۔ بال تراشی کی وجہ سے عوام میں سخت بے چینی پائی جاتی ہے ۔ لوگ الزام لگارہے ہیں کہ اس کام میں فوج اور خفیہ ایجنسیاں ملوث ہیں ۔ پولیس اس الزام کو ماننے سے انکار کررہی ہے ۔ لوگوں نے مبینہ طور فوجی اہلکاروں سمیت کئی اشخاص کو چوٹیان کاٹتے ہوئے پکڑا اور پولیس کے حوالے کیا ، لیکن پولیس نے انہیں رہا کیا ۔ کہا جاتا ہے کہ ان کی رہائی مبینہ طور فوج کے دبائو میں آکر ممکن بنائی گئی ۔ اگرچہ اب تک اس بات کا کوئی واضح ثبوت نہیں ملا کہ اس کام میں کون ملوث ہے ۔ لیکن عوام میں یہ بات عام ہے کہ فوج اس کام میں ملوث ہے ۔فوج اس الزام سے انکار کررہی ہے ۔ ریاستی سرکار کا کہنا ہے کہ ملوث افراد کی تاحال نشاندہی کرنا ممکن نہیں ہوا ہے ۔ وزیراعظم کے اس موقعے پر کشمیر آمد کو معنی خیز قرار دیا جارہاہے ۔ کہا جاتا ہے کہ کشمیر سرکار کو وزیراعظم کی کشمیر آمد سے بے خبر رکھا گیا تھا ۔ وزیراعلیٰ نے دیوالی آر ایس پورہ جموں میں چھوٹے بچوں کے ساتھ منائی ۔ گورنر نے یہ تہوار اپنے دفتر میں منایا ۔ دیوالی سے چند روز پہلے گورنر نے دہلی میں وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ کے ساتھ ملاقات کی اور سیکورٹی کے حوالے سے گفتگو کی ۔ اس کے بعد ہی وزیراعلیٰ نے بھی دہلی میں وزیرداخلہ کے ساتھ ملاقات میں کئی امور پر بات چیت کی ۔ یہ معلوم نہ ہوسکا کہ ان میں سے کسی کو وزیراعظم کی کشمیر آمد سے باخبر کیا گیا تھا ۔ البتہ فوج کے اعلیٰ حکام اس دورے سے پہلے ہی باخبر کئے گئے ۔ فوجی سربراہ کی اس موقعے پر کشمیر میں موجودگی سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ تفصیلات سے واقف تھے ۔ اسی طرح بانڈی پورہ میں اس حوالے سے انتظامات سے پتہ چلتا ہے کہ فوج کو پہلے ہی اطلاع دی گئی تھی۔ البتہ کشمیر کی سیول سرکار کو اس دورے سے پوری طرح سے بے خبر رکھا گیا تھا ۔ اس کی وجوہات کے بارے میں کسی کے پاس کہنے کو کچھ بھی نہیں ہے ۔ حالانکہ ریاست میں بی جے پی سرکار کا اہم حصہ ہے ۔ پارٹی کارکنوں کو بھی وزیراعظم کی کشمیر آمد کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں تھی ۔ اس سے لگتا ہے کہ ریاستی بھاجپا سے بھی اس دورے کو خفیہ رکھا گیا تھا ۔ وزیراعظم نے دیوالی ماننے کے بعد کسی بھی سرکاری عہدیدار سے ملاقات کئے بغیر سیدھے دہلی کا راستہ اختیار کیااور کوئی بیان دئے بغیر دہلی پہنچ گئے ۔ ان کی آمد یا دہلی واپسی کے موقعے پر سیول انتظامیہ کا کوئی اہلکار موجود نہ تھا۔