اداریہ

اورساجھے داری توڑی

جب یکم مارچ2015 کو مفتی محمد سعید نے ریاست کے 12ویں وزیراعلیٰ کی حیثیت سے جموں یونیورسٹی کے زور آور سنگھ آڈیٹوریم میں حلف لیا اور کشمیری عوام کی 23 دسمبر 2014سے طویل انتظار کے بعد ساری قیاس آرائیاں حقیقت میں بدل گئی۔ اس طرح سے پی ڈی پی اور بی جے پی اتحاد کی سرکار معرض وجود میں لائی گئی اور دونوں پارٹیاں اقتدار میں ساجھے دار کے طور پر سامنے آگئیں۔ اُس وقت بحیثیت وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید نے وزیراعلیٰ بننے کے پہلے ہی دن بی جے پی پی ڈی پی مشترکہ ایجنڈے کے پس منظر میں پریس کانفرنس میں پُر امن چنائو حریت کانفرنس، جنگجوئوں اور پاکستان کے رول کی ستائش کر کے داخلہ اور خارجی پہلو حل کرنے کے لئے پاکستان کے ساتھ ساتھ مزاحمتی جماعتوں کے ساتھ بات چیت کی خواہش ظاہر کی ۔مفتی محمد سعید کے وزیراعلیٰ بننے کے اگلے روز یعنی 2 مارچ2015 کو ان کے بیان پر پارلیمنٹ میں ہنگامہ ہوا۔ پارلیمنٹ کے اجلاس میں اُس وقت ملک کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ حکومت اور بی جے پی مفتی کے اس بیان سے اتفاق نہیں کرتی۔ اگلے روز بھی مفتی اپنے بیان پر کار بند رہے اور کہا کہ میڈیا اس کو رائے کا پہاڑ بنا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا میرے بیان میں کچھ غلط نہیں، میں نے یہ کہا پاکستان اور حریت نے اس بات کو سمجھ لیا کہ گولیاں یا گرنیڈ نہیں بلکہ ووٹر سلپ میں لوگوں کی تقدیر بندھی ہے اور یہ ووٹر سلپ ہمیں آئین ہند نے دی ہے۔ ادھر مفتی کے بیان کی اُن کی بیٹی اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے تائید کی، ایک طرف مفتی محمد سعید نے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کر کے اقتدار کے مزے لینے چاہیے تو دوسری طرف ایسے بیان دینے شروع کئے تھے جس سے مرحوم سیدھے سادھے عوام کو بے قوف بنا کر ایسا تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ عوام کو ایسا محسوس ہو کہ یہ وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید کے بیان نہیں بلکہ حریت اور پاکستان کے ہیں، اُس وقت مرحوم مفتی محمد سعید اور اُن کی بیٹی کو یہ خیال تھا کہ وہ دوطرفہ کام چلتے رہیں گے ایک بی جے پی کے ساتھ حکومت کر کے مرکز سے مراعات حاصل کر لیں گے اور دوسری طرف عوام کو بیان بازی سے سبز باغ دکھائے گئے۔ بہر حال آج کل عوام بھی سمجھ بوج رکھتے ہیں اور عوام نے ایسا محسوس کیا کہ نئی سرکار جس کی کمان بظاہر پی ڈی پی پاس تھی، ابتدا سے ہی پی ڈی پی لیڈران کا خاص دھیان اسی بات پرتھا کہ ایک تو فی الحال اقتدار ہے دوسرا تو ایسے بیانیات دینے بھی شروع کئے جائیں جس سے اگر کبھی اس بات کی نوعیت بھی آئے کہ بی جے پی کے ساتھ ساجھے داری ختم کرنی پڑے گی لیکن عوام میں پی ڈی پی کے ساکھ مضبوط ہوں، پھر ساجھے داری ختم کرنے کی کوئی پرواہ نہیں۔ سیاست میں ہر کچھ یعنی کچھ بھی ممکن ہے جیسا کہ مفتی محمد سعید کا بھی کہنا تھا سیاست ممکنات کا کھیل ہے۔ پی ڈی پی نے گذشتہ سرکار یعنی کانگرنس پی ڈی پی ساجھے داری بھی توڑی ہے اس وقت بھی کسی کے وہم میں بھی نہیں تھا کہ ایسا ہونے والا تھا لیکن حالات بنائےگئے اور ساجھے داری ٹوٹ گئی۔ بہر حال ابھی پی ڈی پی اس پوزیشن میں نہیں کہ وہ بی جے پی کے ساتھ بھی ساجھے داری توڑ دیں ابھی اقتدار کے دو سال باقی ہیں، ہاں یہ اندازہ ہے کہ کچھ مہینے پہلے پی ڈی پی والے شاید وہی کرنے والے ہیں جو غلام نبی آزاد کے ساتھ کیا گیا تھا