سرورق مضمون

اورہندوارہ ابل پڑا/ فرضی انکائونٹر میں طالب علم کی ہلاکت پر احتجاج

ڈیسک رپورٹ
شمالی کشمیر کے ہندوارہ علاقے میں اس وقت لوگوں نے سخت احتجاج کیا جب ایک طالب علم کی فرضی انکائونٹر میں ہلاکت کی خبر پھیلی ۔ یہاں مبینہ طور ایک طالب علم اس وقت مارا گیا جب فوج نے علاقے میں دودن تک جاری رہنے والی جھڑپ میں ایک غیر ملکی جنگجو کے ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ۔ انکائونٹر ختم ہونے کے بعد نزدیکی پولیس اسٹیشن کے حوالے مذکورہ نوجوان کی لاش کی گئی ۔ پولیس نے لاش ہسپتال پوسٹ ماٹم کے لئے لی جہاں معلوم ہوا کہ مارا گیا نوجوا ن کوئی غیر ملکی جنگجو نہیں بلکہ داریل تارت پورہ (کپوارہ ) کا رہنے والا ایک عام شہری ہے ۔ پولیس نے لاش کی شناخت کے لئے اس کے گھر والوں کو بلایا جہاں مسخ شدہ لاش کی شناخت شاہد احمد ولد بشیر احمدمیر ساکنہ داریل رامحال کے طور ہوئی ۔ پولیس حکام نے یہ ماننے سے انکار کیا کہ مارا گیا نوجوا ن ایک عام شہری ہے ۔ اس کے بعد علاقے میں پرتشدد احتجاج بھڑک اٹھا۔ احتجاج میں شامل لوگوں نے لاش سڑک پر رکھ کر اسے دفنانے سے انکار کیا ۔ ڈپٹی کمشنر کپوارہ کی سرکاری گاڑی نظر آتش کرنے کے علاوہ دو سری کئی گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کی گئی ۔ بعد میں ڈپٹی کمشنر نے اس ہلاکت کی مجسٹریٹ کے ذریعے تحقیقات کرنے کا اعلان کیا ۔ جس کے بعد حالات میں کسی حدتک سدھار آگیا ۔ تاہم غم وغصہ جاری ہے ۔
شاہد بشیر کی ہلاکت اپنی نوعیت کا بہت ہی اہم واقعہ ہے ۔ اس علاقے میں جنگجو سرگرمیاں بہت پہلے ماند پڑگئی ہیں ۔ کئی مہینے پہلے پولیس اور فوج نے دعویٰ کیا کہ علاقے میں جنگجووں کا صفایا کرکے جنگجو سرگرمیاں ختم کی گئیں ۔ لوگوں کا بھی یہی کہنا ہے کہ علاقے میں کچھ عرصے سے جنگجوو ں کی نقل وحمل کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے ۔ اس کے باوجود فوج کو ایک عام شہری کے ہلاک کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی اس بارے میں سب لوگ خاموش ہیں ۔ کوئی سبب بتانا مشکل ہورہاہے ۔ کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ آپریشن آل آوٹ کے تحت جنوبی کشمیر میں کئی جنگجو کمانڈر مارے گئے ۔ شاید اسی کی دیکھا دیکھی میں یہاں کے آفیسر نے کوئی جنگجو ہاتھ نہ آنے کے بعد فرضی انکائونٹر کا ڈراما رچایا اور ایک عام شہری کو ہلاک کیا ۔ مارے گئے طالب علم کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ پچھلے سال 71 فیصد نمبرات حاصل کرکے بارھویں جماعت کا امتحان پاس کیا اور کالج میں داخلہ لیا ۔ 19 سالہ شاہد احمد بہت ہی ذہین طالب علم تھا اور گائوں میں اس کی شناخت ایک شریف نوجوان کے طور کی جارہی تھی ۔ شاہد پچھلے تین دنوں سے کالج سے غیر حاضر تھا اور جمعرات کو خون میں لت پت اس کی لاش اس کے گھر والوں کے حوالے کی گئی ۔ علاقے میں کہرام مچ گیا ۔ لوگوں نے گھروں سے نکل کر رامحال کا رخ کیا جہاں تشدد کے واقعات بھڑک اٹھے ۔ پولیس نے حالات پر قابو پانے کے لئے آنسو گیس کا استعمال کیا لیکن امن قائم کرنے میں ناکام رہی۔ اس کے بعد لوگوں نے شاہد کی لاش کو سڑک کے بیچوں بیچ رکھ کر اسے دفنانے سے انکار کیا ۔ ڈپٹی کمشنر کپوارہ نے حالات کو قابو میں رکھنے کے لئے پولیس سے فوج کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کے لئے کہا ۔ مارے گئے طالب علم کے حق میں بے گناہ ہونے کی سند جاری کی گئی اور واقعے کی مجسٹریل انکوئری کرانے کی یقین دہانی کی گئی ۔ شام دیر گئے شاہد کی لاش کو سپرد خاک کیا گیا ۔جنازے میں لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور پرنم آنکھوں سے شاہد کو رخصت کیا گیا ۔ علاقے میں ہڑتال جاری ہے اور بشیر میر کے گھر لوگوں کے آنے جانے کا تانتا بندھا ہوا ہے۔
حریت کانفرنس نے اس واقعے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اسے فوج کی سفاکت کا تازہ ترین واقعہ قراردیا ۔لبریشن فرنٹ نے اپنے بیان میں اس ہلاکت کی شدید مزمت کی اور غم زدہ خاندان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ہے ۔فرنٹ کے ضلعی صدر نے الزام لگایا کہ فوج نے شاہد کو پہلے گرفتار کیا اور بعد میں ایک فرضی جھڑپ میں ہلاک کیا ۔ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی شاہد کی ہلاکت پر اپنے دکھ کا اظہار کیا اور فرضی جھڑپ میں اسے مارے جانے کی مذمت کی ۔سالویشن مومنٹ نے اپنے بیان میں اسے کشمیر میں جاری نسل کشی کا سلسلہ قرار دیا ہے ۔
ادھر سرکار نے اس واقعے پر سخت دکھ کا اظہار کیا اور شاہد کے لواحقین سے ہمدردی ظاہر کی ہے ۔ ہندوارہ سرکار حامی علاقہ قراردیا جاتا تھا جہاں جنگجووں کی موجودگی کے متعلق کوئی جانکاری نہ تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ لوگوں نے ہفرڑہ کے جنگلوں میں جاری آپریشن اور جھڑپ پر پہلے ہی دن سے شک و شبہے کا اظہار کیا ۔ بعد میں ان کا شک صحیح ثابت ہوا اور ایک طالب علم کی ہلاکت کا بھانڈا اس وقت پھوڑا گیا جب ایک غیر ملکی جنگجو کے مارے جانے کا دعویٰ کیا گیا ۔ فوج نے عوام کا الزام ماننے سے انکار کیا ہے ۔ لیکن ضلعی انتظامیہ نے فوج کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کردیا ہے اور واقعے کی تحقیقات کا اعلان کیا ۔ یہ اعلان اس وقت کیا گیا جب علاقے میں شاہد احمد کی ہلاکت پر سخت احتجاج جاری تھی اور خطرہ تھا کہ احتجاج پوری وادی میں پھیل جائے گا ۔ اس کے تناظر میں ضلعی سربراہ نے معزز شہریوں کی ایک ہنگامی میٹنگ بلائی ۔ یہ میٹنگ ایک گھنٹے تک جاری رہی ۔ میٹنگ میں ہی فوج کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرنے ، واقعے کی تحقیقات کئے جانے اور لاش دفنانے کا فیصلہ لیا گیا ۔ میٹنگ کے بعد شاہد کی میت کو پرنم آنکھوں کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا ۔ تاہم اس بات پر شک و شبہے کا اظہار کیا جارہاہے کہ تحقیقات میں فوج کوئی تعاون کرے گی ۔ فوج کو جو اختیارات حاصل ہیں ان کے تحت اس کے خلاف عدالت میں فوج کے خلاف مقدمہ نہیں چلایا جاسکتا ہے اور کسی بھی ہلاکت کے لئے ان سے جواب طلب نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ ہفرڑہ میں فرضی جھڑپ کا یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب کچھ ہی دن پہلے مژھل انکائونٹر میں عام شہریوں کی ہلاکت میں ملوث فوجی اہلکاروں کو بے گناہ قرار دے دیا کیا گیا ۔ اس فیصلے کے خلاف ہلاک کئے گئے افراد کے اہل خانہ نے سپریم کورٹ میں اپیل کی جہاں درخواست قبول کرتے ہوئے مقدمہ کی شنوائی کرنے کا اعلان کیا گیا ۔ اب داریل کے شاہد احمد کا کیس درج ہوا ہے ۔ کیس کو آگے لے جانا بہت ہی مشکل ہے ۔ اس بات کی بہت کم توقع کی جاتی ہے کہ مظلوم کو بہت جلدانصاف فراہم کیا جائے گا ۔ لوگ اس بات پر حیران ہیں کی فرضی اور جعلی جھڑپوں کا یہ سلسلہ کیوں جاری ہے ؟