اداریہ

اور یوم جمہوریہ منایا گیا

وادی میں سخت حفاظتی بندوبست کے بیچ یوم جمہوریہ منایا گیا۔ یہاں پہلے ہی ہائی الرٹ کیا گیا تھا ۔ جنگجووں کی طرف سے ممکنہ کاروائی کو روکنے کے لئے سیکورٹی کے سخت انتظامات کے بیچ وادی میں یوم جمہوریہ کی تقریبات منائیں گئیں، حالانکہ جنگجووں نے لوگوں کو ان تقریبات میں شامل نہ ہونے کی اپیل کی تھی ۔ خاص طور سے طلبہ کو ایسی کسی تقریب میں شریک ہونے پر دھمکی دی تھی ۔ اس وجہ سے حالات انتہائی کشیدہ رہے، حالانکہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وادی میں نہ صرف 15 اگست اور26 جنوری کی تقریبات لوگوں کےلئے عذاب کے دن ہوتے ہیں بلکہ مختلف موقعوں پر اہم شخصیات کا وادی وارد ہونا بھی یہاں کے لوگوں کے لئے عذاب و عتاب کے باعث بنتا ہے۔15 اگست کی تقریب ہو ،26 جنوری کی تقریب ہو یا کسی اہم شخصیت کی وادی وا ردہونا ہو تو ان ایام میں یہاں نہ صرف لوگوں کو چلنے پھیرنے میں دشواریاں ہوتی ہیں بلکہ لوگوں کے روزمرہ ضروریات متاثر ہونا بھی لازم ملزوم بن جاتا ہے۔ سرکار ان ایام کے دوران موبائیل اور انٹرنیٹ سروس کو سرے سے ہی ٹھپ کر کے رکھنے کے ہدایات دیتے ہیں اور اس طرح سے عوام کو روزمرہ سہولیات سے بھی متاثر ہونا پڑتا ہے۔26 جنوری کی تقریب کو بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر لیا جا سکتا ہے۔ یہاں اس روز بھی سرکاری فورسز نے پہلے ہی جگہ جگہ تلاشی کاروائیاں شروع کی تھی ۔ شیرکشمیر اسٹیڈیم سرینگر جہاں یوم جمہوریہ کی تقریب منعقد کرانے کا پروگرام تھا ، پہلے ہی لوگوں کے لئے علاقہ غیر بنادیا گیا تھا ۔ اس طرف جانے والی تمام سڑکیں بند کی گئی تھیں اور لوگوں کو اس جگہ سے دور رہنے کے لئے کہا گیا تھا ۔ ادھرکئی طلبہ کے والدین نے اسکول انتظامیہ سے بچے ان تقریبات میں شامل نہ کرنے کی اپیل کی تھی ۔ لیکن متعلقہ حکام نے ان کی اپیل ماننے سے انکار کیا۔ اس حوالے سے معلوم ہوا کہ جنوبی کشمیر کے اننت ناگ ضلعے کے تین پرائیویٹ اسکولوں کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کی دھمکی دی گئی ۔ اس کے بعد بہت سے اسکولوں کی طرف سے طلبہ ان تقریبات میں شامل ہوئے ۔ سرینگر کے اسٹیڈیم میں جو تقریب منعقد ہوئی اس میں پہلی بار طالبات نے سر پر دوپٹہ پہن کر کلچرل شو میں حصہ لیا ۔ سب سے اہم واقعہ پلوامہ میں پیش آیا جہاں مبینہ طور جنگجو مقامی سرکاری اسکول کے پرنسپل کے گھر میں داخل ہوئے اور اسے طالبات کے ان تقریبات میں شمولیت نہ کرنے کےلئے دبائو کیا ۔ اس کے بعد طلبہ میں سخت خوف وہراس پیدا ہوگیا ۔ سرکار نے یوم جمہوریہ سے ایک دن پہلے ہی انٹرنیٹ سروس بند کی ۔ جبکہ یوم جمہوریہ کے موقعے پر صبح سویرے فون سروس بند کی گئی۔ وادی میں حریت ہڑتال کی وجہ سے ہوکا عالم تھا ۔ دکانیں بند تھیں۔ سرکاری دفاتر میں چھٹی تھی ۔ پورا کاروبار زندگی ٹھپ پڑا ہوا تھا ۔ اور اس طرح سے سخت خوف وہراس کے عالم میں یوم جمہوریہ منایا گیا۔