اداریہ

ایسا کب تک؟

گذشتہ دنوںمبینہ طور فرضی جھڑپ کا ایک اور واقعہ اُس وقت پیش آیا، جب فوج نے مبینہ طور ہندوارہ میںایک طالب علم کو گرفتار کر کے اُسے جنگلوں میں لے کر ایک زردار جھڑپ کا ڈرامہ راچا کر اُس سے مار ڈا لا گیا۔ حالانکہ فوج کی طرف سے جھڑپ کا ڈرامہ کے ساتھ ہی عام لوگ اس شش و پنج میں پڑے تھے کہ آخر تصادم کا کیا مطلب ہے؟ علاقے میں ہر طرف چہ میگوئیاں ہو رہی تھیں، اور بالآخر وہی تھا جس کا علاقے کے لوگوں کو خدشہ ہوا تھا، ایک معصوم شہری جس کو حراست میں لے کر ایک فرضی انکائونٹر میں مار ڈالا گیا۔ آنا فاناً ہر طرف لوگ گھروں سے باہر آکر بے گناہ طالب علم کی ہلاکت پر غم و غصے کا اظہار کرنے لگے۔ حالانکہ مارا گیا یہ نوجوان ہندوارہ کے ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا تھا، اس گھرانے پر اس وقت قیامت ٹوٹ پڑی جب یہاں فوج نے فرضی جھڑپ میں ان کے نوجوان فرزند کومار ڈالا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ نوجوان جو کہ ایک طالب علم بھی تھے کے بارے میں کہا گیا کہ وہ پچھلے کئی روز سے لاپتہ تھا ۔ اہل خانہ کا الزام ہے کہ فوج نے اسے گرفتار کرکے فرضی انکائونٹر میں مار ڈالا ۔ فوج کا دعویٰ ہے کہ مارا گیا نوجوا ن جنگجووں کا ساتھی تھا اور ایک جھڑپ میں مارا گیا ۔ الزامات اور جوابی الزامات کے درمیان ڈپٹی کمشنر کپوارہ نے مذکورہ طالب علم کو ایک عام شہری قرار دیا اور عسکری سرگرمیوں میں ملوث نہ ہونے کی سند بھی فراہم کی۔ ہلاکت کے اس واقعے کی تحقیقات کرانے کا حکم بھی دیاگیا ہے۔لوگ اس بات پر حیرانی کا اظہار کررہے ہیں کہ ایک طرف گالی اور گولی کی پالیسی ترک کرنے کی یقین دہانی کی جارہی ہے ۔ دوسری طرف بے گناہوں کی ہلاکت کا سلسلہ جاری ہے ۔ کپوارہ کے جنگلو ں میں بے گناہ شہریوں کی ہلاکت کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے ۔اس سے پہلے بھی اس طرح کے کئی واقعات پیش آئے ۔ مژھل فرضی انکائونٹر کی گونج ابھی تک سنی جارہی ہے ۔ اس حوالے سے حال ہی میںکیس حتمی شنوائی کے لئے سپریم کورٹ میں درج کیا گیا ۔ حالانکہ ابتدائی تحقیقات میں ایک آفیسر سمیت پانچ فوجی اہلکاروں کو فرضی جھڑپ میں ملوث قراردے کر ان کے خلاف کاروائی کا فیصلہ سنایا گیا تھا جو بعد میں تحقیقات جاری رکھتے ہوئے فوجی عدالت نے فیصلہ بدل دیا اور ملوث اہلکاروں کو ضمانت پر رہا کیا گیا ۔ اس فیصلے کے خلاف اہل خانہ نے سپریم کورٹ میں مقدمہ درج کیا ۔ ابھی یہ خبر تازہ ہی تھی کہ داریل میں ایک جھڑپ کی سنسنی خیزخبر سامنے آئی۔ دو دن تک جاری رہنے والی مبینہ فرضی جھڑپ میں ایک غیر ملکی جنگجو کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا ۔ لاش کا پوسٹ مارٹم کرنے کے دوران یہ صاف ظاہر ہوا کہ مارا گیا نوجوان کوئی غیر ملکی جنگجو نہیں بلکہ مقامی کالج کا ایک طالب علم ہے ۔ اس کے بعد علاقے میں احتجاج شروع ہوا۔ کئی حلقوں کا الزام ہے کہ تحقیقات میں فوج کوئی تعاون نہیںکرے گی ۔ فوج کو جو اختیارات حاصل ہیں ان کے تحت اس کے خلاف عدالت میں فوج کے خلاف مقدمہ نہیں چلایا جاسکتا ہے اور کسی بھی ہلاکت کے لئے ان سے جواب طلب نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ اس طرح سے کیس کو آگے لے جانا بہت ہی مشکل ہے ۔ اس بات کی بہت کم توقع کی جاتی ہے کہ مظلوموں کو بہت جلدانصاف فراہم کیا جائے گا۔ لوگ اس بات پر حیران ہیں کی فرضی اور جعلی جھڑپوں کا یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا، اور ایسا کب تک ہوتا رہے گا؟