سرورق مضمون

این سی کا انتخابات میں شمولیت سے انکار

ڈیسک رپورٹ
نیشنل کانفرنس کی طرف سے الیکشن میں حصہ لینے سے انکار پر لوگ حیران ہیں۔ این سی نے الیکشن بائیکاٹ کا اعلان ایک پریس کانفرنس میں کیا جہاں پارٹی سربراہ ڈاکٹر فاروق کے علاوہ پارٹی کے جنرل سیکریٹری علی محمد ساگر اور سینئر لیڈر رحیم راتھر موجود تھے ۔ڈاکٹر فاروق نے ایک تحریری بیان پڑھتے ہوئے اعلان کیا کہ پارٹی آنے والے میونسپل اور پنچایتی انتخابات میں حصہ نہیں لے گی ۔ اس سے پہلے فاروق عبداللہ نے گورنر کے ساتھ ایک تقریب میں بولتے ہوئے بیان دیا تھا کہ ان انتخابات کو مسئلہ کشمیر سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ انتخابات انتظامی امور انجام دینے کے لئے کرائے جاتے ہیں ۔ اس نے زور دے کر کہا تھا کہ ریاست کے تعمیر وترقی کے لئے انتخابات منعقد کرانا ضروری ہے ۔ اس کے بعد اندازہ لگایا جارہاتھا کہ نیشنل کانفرنس بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات میں بڑے پیمانے پر حصہ لے گی ۔ لیکن ایسا نہیں ہوا ۔ اگلے ہی روز پریس کانفرنس بلاکر انتخابات میں حصہ لینے سے انکار کیا گیا۔ پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ جب تک مرکز سپریم کورٹ میں داخل 35A کے خلاف مقدمہ میں کشمیریوں کا دفاع کرنے کا اعلان نہیں کرے گی این سی الیکشن میں حصہ نہیں لے گی ۔
ریاست میں بلدیاتی اور پنچایتی الیکشن کرنے کی بات اس وقت سامنے آئی جب مرکزی سرکار کی طرف سے سپریم کورٹ میں اس کا انکشاف کیا گیا ۔ سپریم کورٹ میںدفعہ 35اے کے حوالے سے دائر مقدمے کی سماعت کے دوران کہا گیا کہ سماعت ملتوی کی جائے ۔ سماعت ملتوی کرنے کے لئے یہ جواز پیش کیا گیا کہ ستمبر سے لے کر دسمبر تک ریاست میں میونسل کمیٹیوں اور پنچایتوں کے انتخابات کئے جارہے ہیں ۔ اس وجہ سے سماعت ملتوی کی جانی چاہئے ۔ سپریم کورٹ نے اس بات سے اتفاق کیا اور کیس کی سماعت ملتوی کی۔ یہ سماعت اب اگلے سال جنوری کے مہینے میں مقرر ہے ۔ اس دوران ریاست میں ایک سرکاری تقریب کا انعقاد کیا گیا جہاں ریاستی گورنر کے علاوہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ بھی موجود تھا ۔ فاروق صاحب نے انتخابات کے حوالے سے یہ بات دوہرائی کہ ان انتخابات کا مسئلہ کشمیر سے کچھ لینا دینا نہیں ۔ اس لئے انتخابات منعقد ہونے چاہئے ۔ لیکن اگلے ہی روز پارٹی میں سخت انتشار پیدا ہوگیا ۔کہا جاتا ہے کہ کئی سینئر رہنمائوں نے اس پر اعتراض کیا کہ فاروق عبداللہ نے مشورہ کئے بغیر الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان کیا ۔ اس حوالے سے انکشاف کیا گیا ہے کہ پارٹی کے جنرل سیکریٹری نے پارٹی چھوڑنے کی دھمکی دی ۔ اس دھمکی سے ڈرتے ہوئے کور کمیٹی کی میٹنگ بلائی گئی جہاں فیصلہ لیا گیا کہ انتخابات میں حصہ نہیں لیا جائے گا ۔ بعد میں ایک پریس کانفرنس بلائی گئی ۔ اس پریس کانفرنس میں مطالبہ کیا گیا کہ مرکزی سرکار پہلے آئین کی دفعہ 35A پر اپنا موقف ظاہر کرے۔ الیکشن میں شمولیت کے لئے یہ شرط رکھی گئی کہ اس دفعہ کی حفاظت کرنے کا ان سے وعدہ کیا جائے ۔ ایسا نہیں کیا گیا تو پارٹی الیکشن میں حصہ نہیں لے گی ۔ پارٹی کو خطرہ ہے کہ اس کے کارکنوں پر حملے ہوسکتے ہیں۔ پارٹی لیڈروں کا کہنا ہے کہ الیکشن میں امیدوار اتارنا بہت مشکل ہے ۔ ان کی حفاظت بہت زیادہ مشکل ہے ۔ ریاست میں امن وقانون کی ابتر صورتحال ہے ۔ دس سالوں کے دوران پہلی بار جنگجووں کی تعداد 300 سو سے تجاوز کرگئی ۔ پہلے یہ سرگرمیاں جنوبی کشمیر تک محدود تھیں ۔ اب یہ سرگرمیاں جموں تک بھی پھیل گئی ہیں ۔ ڈوڈہ سے دونوجوانوں نے حزب المجاہدین کے لئے بندوق اٹھانے کا اعلان کیا ہے ۔ ان کی تصویریں وائرل ہوچکی ہیں ۔ ادھر حزب المجاہدین کے کمانڈر ریاض نائیکو نے دھمکی دی ہے کہ جو بھی امیدوار بلدیاتی یا پنچایتی انتخابات میں حصہ لے گا اس پر حملہ کیا جائے گا ۔ ان سے کہا گیا کہ وہ فارم بھرتے وقت اپنے لئے کفن ساتھ لے کر آئیں ۔ اسی طرح ایسڈ پھینک کر ان کی آنکھوں کی بینائی چھیننے کا اعلان کیا گیا ۔ اس کے بعد بہت مشکل ہے کہ امیدوار بغیر سیکورٹی کے انتخابات میں حصہ لیں ۔ نیشنل کانفرنس نے جس طرح سے انتخابات سے دور رہنے کا اعلان کیا وہ بہت ہی حیران کن بات ہے ۔ پہلے خیال تھا کہ این سی کو مشورے میں لے کر مرکز نے انتخابات کا اعلان کیا ۔ نیشنل کانفرنس کا انتخابات میں حصہ لینے سے انکار مرکز کے خلاف اعلان جنگ ہے ۔ اس بات سے شہہ پاکر پی ڈی پی نے بھی انتخابات سے دور رہنے کا اشارہ دیا ہے ۔ پارٹی ترجمان رفیع میر نے انتخابات کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔ اب اس پارٹی کے لئے انتخابات میں اترنا بہت مشکل ہے ۔ اگرچہ سرکاری طور ابھی باضابطہ کوئی نوٹفکیشن جاری نہیں ہوئی ہے ۔ لیکن اندازہ یہی ہے کہ انتخابات ایک مشکل مرحلہ ہے ۔ نیشنل کانفرنس کے انکار کے بعد دوسری پارٹیوں کے لئے مشکل ہے کہ اس میدان میں اترپڑیں ۔ مشترکہ حریت قیادت نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی ہے ۔ اس طرح سے انتخابات کے خلاف بڑا محاذ بن گیا ہے ۔ نیشنل کانفرنس اور دوسری مین اسٹریم پارٹیوں کے لئے بہت مشکل ہے کہ انتخابی عمل سے دور رہیں۔ ان کے لئے اس حوالے سے مرکز کا دبائو قبول کرنا بہت مشکل ہے ۔ ان کے لئے اس عمل سے دور رہنا مصیبت کو دعوت دینے کے برابر ہے ۔ انتخابات سے دوررہنا اور ان میں شریک ہونا دونوں ان کے لئے سخت فیصلے ہیں ۔عجیب بات ہے کہ پولیس ابھی تک خاموش ہے ۔ کئی ضلع سربراہوں نے پہلے ہی الیکشن کی تیاریاں شروع کی ہیں ۔ ملازموں کو سخت دبائو مین لاکر انہیں ٹریننگ مراکز پہنچادیا گیا ہے ۔ پلوامہ میں کئی سو ملازموں کو پہلے ہی ووٹنگ مشینوں کے حوالے سے خوب تریننگ دی گئی۔ یہ سلسلہ جاری ہے ۔ ادھر سیاسی جماعتوں کو تحفظات ہیں دوسری طرف الیکشن ٹریننگ جاری ہے ۔ اندازہ نہیں ہورہاہے کہ آگے جاکر کیا ہونے والا ہے ۔ یہ بہت ہی مشکل مرحلہ ہے۔ خون ریزی کا خطرہ ظاہر کیا جارہاہے ۔ اس کے باوجود مرکز کی کوشش ہے کہ الیکشن کرائے جائیں ۔ یہ بہت ہی فیصلہ کن مرحلہ ہے ۔