نقطہ نظر

ایک چھوٹی سی لیکن ہنگامہ خیز خبر

ایک چھوٹی سی لیکن ہنگامہ خیز خبر

مظفر حسین بیگ صاحب پی ڈی پی سے مستفعی،،،ایک چھوٹی سی لیکن ہنگامہ خیز خبر ہے ، مظفر صاحب کا اس پارٹی سے مستفعی ہونا سیاسی پنڈتوں کے لئے اچھنبے کی ہی بات ہوسکتی ہے ، ، ،ایک اور اہم بات انہوں نے یہ بھی کی کہ پی ڈی پی نے اس کے ساتھ مشورہ نہیں کیا ، جس سے پارٹی کو نقصان پہنچ چکا ہے اور یہ بھی کہ پی ڈی پی بنیادی اصولوں سے ہٹ کر (پاور ) کے لئے لوگوں کے مستقبل سے کھیل رہی ہے ، جس کے باعث پارٹی (بی )سے ڈی ٹیم ہوچکی ہے ، بی ٹیم اور ڈی ٹیم معنی خیز معاملات ہیں جس سے ہم اہل سیاست کی صوابدید پر ہی چھوڑتے ہیں ، بہرحال وہ اپنی پارٹی سے الگ ہوچکے ہیں بلکہ اس کی بنیادی ممبر شپ سے بھی مستفعی ہوئے ہیں ۔ پہلے یہ کہ مظفر حسین بیگ کی اس پارٹی میں کیا حیثیت تھی ،یہ اس پارٹی کے لئے ایک بڑا دھچکا کیسے ہے؟ ، یہ صاحب پہلے پہلے کبھی مر حوم عبدالغنی لون کے قریبی ساتھی رہے ہیںبلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب رہے گا کہ پیپلز کانفرنس بنانے میں لون صاحب کے شانہ بشانہ یہی بیگ صاحب تھے ، اس زمانے میں نیشنل کانفرنس کی دیوار میں سیندھ لگانا کافی مشکل تھا لیکن لون اور بیگ کی جوڑی نے یہ کرکے دکھایا تھا ۔ ۔ اور مرحوم لون صاحب ہی کی قرابت میں سیاسی اونچ نیچ اور نشیب و فراز کو سمجھتے رہے ، بہر حال بیگ صاحب ایک لمبے سیاسی سفر اور ،تجربے کے بعد مفتی مرحوم کے ساتھ شامل ہوئے اور ایک نئی پارٹی پی ڈی پی کی داغ بیل ڈالی اور بڑی جلدی مفتی کے دورِ حکومت میں ڈپٹی سی ایم بھی رہے ۔پی ڈی پی ہی کے دور میں ممبر پارلیمنٹ منتخب ہوئے ، بہت ہی ماہر اور زمانہ ساز سیاسی شخصیت ہیں ، یہ چونکہ زیادہ تر مرکز ہی میں رہتے ہیں اور مرکز ہی کی قر ابت میں رہتے ہیں اس لئے سمجھا جاتا ہے کہ یہ وقت کے بہاؤ اور سیاسی لہروں کے مزاج شناس ہیں اور جموں و کشمیر کی ہر سیاسی لہر کو ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ دیکھتے اور سمجھتے ہیں ۔۔اسی یوم جمہوریہ پر بھارت سے کوئی بہت بڑا ایوارڈ بھی پا چکے ہیں، پہلے پیپلز کانفرنس کو آگے بڑھانے میں کلیدی رول کیا ، اس کے بعد پی ڈی پی کے برتن بنائے اور اب پی ڈی پی سے بھی جان چھڑا چکے ہیں ، چونکہ الطاف صاحب کے سیاسی پیرومرشد مانے جاتے ہیں اس لئے اس استفعی کی ڈور کہیں نہ کہیں ’’اپنی پارٹی ‘‘سے جڑ ی ضرور ہوگی جس کے ماسٹر ما ئنڈ بھی یہی صاحب تسلیم کئے جاتے ہیں ۔ اس لئے ان کا پی ڈی پی سے علیحدہ ہونا دو باتوں کی طرف اشارہ کر رہا ہے ، ایک یہ کہ وہ پھر نئے سیاسی آشیانوں کی تلاش میں ہیں یا پھر سید الطاف بخاری کی’’ اپنی پارٹی ‘‘ کی مشین میں بجلی کی طرح ہی اس سے قوت اور انرجی فراہم کرتے رہیں گے ۔ محبوبہ کی پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس ، دونوں اگرچہ مینسٹریم اور ہند نواز پارٹیاں ہیں لیکن بی جی پی ان کے ہر قدم کو ایک عرصے سے’’ پاکستانی ‘‘لیبل کے ساتھ بیچ رہی ہے ، فاروق عبداللہ کے ساتھ محبوبہ کا اتحاد مرکزی اور بی جے پی حلقوں میں نہ صرف ناپسند کیا جارہا ہے بلکہ اس میں ہر زاوئے سے ہلالی رنگ ، تلاش کر کے انہیں معتوب ٹھہرایا جارہا ہے ،، یہ اہم بات جو بیگ نے کی ہے کہ ان کے ساتھ مشورہ نہیں ہوا۔ کیا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ گپکار اتحاد میں شامل ہونا اختلاف کی وجہ ہوسکتی ہے ؟ یہ استفعیٰ اور پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ اسوقت آیا ہے جب ، گپکار اعلامیہ کے اتحادی ، ضلع ترقیاتی کو نسل نشستوں کی بندر بانٹ میں مصروف ہیں ، وقت کے تعین میں بھی سسپنس ،، اور استعجاب باقی ہے ، جس کے پردے اٹھنے میں کئی دن اور مہینے بھی لگ سکتے ہیں لیکن مظفر صاحب بہت بڑے اور ویٹرن سیاست داں ہیں جن کی جڑیں کشمیر میں کم اور مرکز میں زیادہ گہر ی ہیں اس لئے یہ شطرنج کی کوئی معمولی چال نہیں ہوسکتی ، میرے لئے ان باتوں میں کوئی وزن نہیں جو انہوں نے کی ہیں ، فیصلے کرنے ہوں تو لاکھ بہانے اور باتیں تراشی جاتی ہیں ، دوسری طرف الطاف بخاری نے بھی اسی پس منظر میں ایک پریس کانفرنس کی ہے جس سے دلچسپ اور اہم بھی قرار دیا جاسکتا ہے ، الطاف صاحب نے طنزیہ لہجے میں یہ بات کہی کہ یہ لوگ ( گپکار اتحادی ) کل تک انتخابات سے دوری بنائے رکھنے کا عندیہ دیتے تھے اور آج ضلع ترقیاتی کو نسل کے لئے نشستوں پر کئی روز سے بندر بانٹ کے لئے اجلاس میں مصروف ہیں ، اور دوسری اہم بات یہ کہ شیخ محمد عبداللہ کو انتخابی سیاست تک پہنچنے میں بائیس برس لگے تھے اور انہوں نے یہ منزل بائیس دنوں (مطلب بہت کم عرصے میں طئے کی) اس بات میں کوئی شک نہیں کے کہ شیخ محمد عبداللہ کو انتخابات تک پہنچنے میں با ئیس برس لگے تھے ، یہ ایک حقیقت ہے ، شیر کشمیر جیسے قدآور لیڈر نے اس لمبے عرصے کو صحرانوردی قرار دیا تھا ، لیکن یہاں تو فاروق و عمر فاروق اور محبوبہ وغیرہ سیاسی طور پر بالغ بھی ہیں ، اس زمانے میں بھی نہیں جہاں سیکورٹی کونسل میں پاس شدہ قرادادوں کی اہمیت کو نظر انداز کرنا مشکل ہو ، اب لاٹھی اور بھینس کی سیاست کے سوا اور بچا ہی کیا ہے ؟ یہ شروع سے ہی ہندنواز رہے ہیں اس لئے ان کی نظر یں اپنے اہداف سے ادھر اُدھر نہیں ہوئی ہیں اور نہ انہوں نے برسوں خفا رہنے اور ناراضگی جتانے میں زندگی کے انمول دن ضائع کرنے کے فیصلے کئے ہیں بلکہ فی الفو ذہنی طور پر پھر ایک بار اقتدار کی جنگ کے لئے میدان میں آگئے ہیں ۔ الطا ف صاحب کا اپنا کوئی سیاسی بیک گراونڈ نہیں جب وہ اپنے نتائج اپنے ڈھنگ سے اخذکرسکتے ہیں اور کشمیر کے اسوقت کے سینئر کو سامنے رکھ کر اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکتے ہیں تو شیخ خاندان اور مفتی خاندان کا تو سیاست اوڑھنا بچھونا رہا ہے ، اس لئے یہ طنز کرنا کہ انہوں نے انتخابی سیاست میں بڑی جلدی قدم رکھا ہے کوئی معنی نہیں رکھتا کیونکہ مینسٹریم کے لئے ہر حال اپنی پارٹیوں اور اپنی اپنی سیاسی بساطوں کو گردش میں رکھنا لازمی اور ناگزیر ہے اور ان کے اہداف بڑے واضح رہے ہیں اس کے باوجود کہ انتخابی نعروں نے کبھی سبز رومالوں ، نمک کی ڈلیوں ، راولپنڈی روڈ،اٹانومی ، سیلف رول اور اسطرح کے انتخابی ، فریبی اور زمینی سطح پر نابود نئے کشمیر‘‘ کی اختراح کے سہانے سپنوں کو زمین پر اتارا ہے لیکن یہ جمہوری انداز حکومت کا طرہء امتیاز ہے اور کہاں اور کس دیش میں نہیں ہوتا ، بس فرق یہ ہوا ہے کہ کبھی بیس پچیس برس پہلے یہ رازو نیاز ، اور خرید و فروخت حجابات میں ہوا کرتے تھے اور اب کھلے عا ہوتے ہیں جس سے عوام نے بھی تسلیم اور قبول کیا ہے ، الطاف صاحب نے اپنے بارے میں اس پریس کانفرنس میں یہی کہا کہ عوام کے مفادات کی حفاظت ہمارا مقصد ہے، بالکل اس کے ساتھ محبوبہ جی نے بھی اپنے ایک بیان میں اس بات کو دہرایا کہ ضلع ترقیاتی انتخابات ہمارے اہداف نہیں بلکہ ہمارے سامنے ایک عظیم مقصد ہے کہ لو گوں کے مفادات کا تحفظ کیا جائے ،، یہ سارے بیانات سلسلہ وار صرف دو تین دنوں میں آئے ہیں اور ان سب کا جائزہ لیا جائے تو عجیب و غریب نتائج بر آمد ہوتے ہیں جو خلاف توقع تو نہیں لیکن اس کے باوجود اپنی جگہ پر ایک معمے کی حیثیت رکھتے ہیں ، کسی بھی پارٹی کے بیانات اور اہداف اس کے خدو خال اور عناصر تراکیبی میں ہی پائے جاتے ہیں اور ۵ اگست ۲۰۱۹ کے بعد کشمیر میں کوئی سیاسی آواز باقی نہیں بچی۔ نہ ہند نواز اورنہ ہند بیزار کشمیری عوام ایک طرح کے ٹروما سے گذر رہے ہیںاور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سوچ و فکر ان کے لئے لایعنی سی بات ہوکر رہ گئی ۔ اس دور میں ساری قوت اور ساری انرجی مرکزی قیادت میں سمٹ چکی ہے جہاں ریاست جموں وکشمیر کے بغیر بھی ریاستوں میں ایک طرح کی بے بسی کا واضح عندیہ مل رہا، کشمیر تو اس سے پہلے بھی مرکزی رحم و کرم پر ہی سانسیں لے رہا تھا ، اب یہ معاملات بھی بدل چکے ہیںاور اب با ضابطہ طور پر کشمیر کو وینٹیلیٹر پر رکھا گیا ہے اور آکسیجن پائپ کی کمانڈ بھی مرکزی ہاتھوں میں ہے ، ایسے میں مینسٹریم کے پاس اس کے بغیر کیا آپشن ہے کہ وہ کسی طرح اپنے آپ کو اپنی خمیر کی بوباس سے قریب تر رکھتے ہوئے واضح کرتی رہے کہ وہ ہند نواز بھی ہیں اور دوسری طرف کشمیر نوازی اور کشمیر کے مفادات کی راگنی بھی گاتے رہیں ، ، ایک اور اہم بات یہ ہوئی ہے کہ گپکار اعلامیہ اتحاد میں کانگریس بھی شامل ہوئی ہے ،،، یہ کم حیران کن بات نہیں ہے جب کہ بی جے پی ،گپکار اتحاد ہی کو پاکستانی منصوبہ سمجھتی ہے تو کانگریس نے یہ قدم کیسے اور کس کی اجازت سے اٹھا یا ہے ، میرے خیال میں کانگریس کی مرکزی قیادت نے ابھی تک اس پر کچھ نہیں کہا ، کیا یہ صرف کشمیر کانگریس نے اپنے طور پر فیصلہ لیا ہے ؟ اور اگر اس میں ان کی مرکزی کمانڈ کی مرضی شامل ہے تو یہ ایک بہت بڑا قدم تصور کیا جاسکتا ہے ،بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ انتہائی خطرناک ، اور ناقابل فہم قدم ہے جس کے چھپے ہوئے اہداف کو کسی بھی طرح سمجھنا بڑا مشکل ہوگا ، کانگریس ہی نے اپنے ادوار میں کشمیر کے بڑے بڑے رہنماؤں اور بڑی بڑی پارٹیوں کو گھٹنوں کے بل ہی نہیں بلکہ سجدوں میں گرنے پر مجبور کیا ، اور اس دور میں کانگریس کے کئی مرکزی رہنماؤں نے ۳۵ اے اور ۳۷۰ کے خاتمے کو نہ صرف جائز ٹھہرایا بلکہ یہ بھی کہا کہ اب ان دفعات کی واپسی کا کبھی سوال ہی نہیں ہوسکتا ، ظاہر ہے کہ کانگریس نے ۵ اگست کے بعد بی جے پی کی کشمیر پالیسی پر مہر ثبت کی ہے ، اور ہمارے مینسٹریم اب بھی اور ان دنوں بھی کسی بڑے مقصد کی بات کرتے ہیں ، گپکار اتحاد میں کانگریس کی شمولیت اس اتحاد کے مقاصد پر سوالیہ نشانات لگاتی ہے اور کھل کر اس اتحاد کی اصل اور اس خمیر کی بو باس کو نہ صرف واضح کرتی ہے بلکہ اس اتحاد کے مقاصد کو بھی بے حجاب کرتی ہے ، کانگریس نے واضح کردیا ہے کہ ہمارا تعاون محظ ضلع ترقیاتی انتخابات تک ہی محدود ہے ، جس کا مطلب یہ ہے کہ کانگریس اس اتحاد میں محظ چند سیٹوں کی خواہاں ہے اور اس کے بغیر اس کی کوئی منزل نہیں اور نہ ہی وہ گپکار اتحاد کے کسی اور پروگرام میں شرکت کرے گی ،، تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ گپکار اتحادیوں کو محظ سیٹوں کی بندر بانٹ میں کانگریس کو کیوںاور کن بنیاوں پر قبول کرنا پڑا ہے اس سارے گورکھ دھندے میں ان کا کہاں اور کیا رول بنتا ہے ۔ ، اس کے پیچھے کیا عوامل ہوسکتے ہیں؟گپکار اتحادی ، مینسٹریم جماعتوں پر محیط ایک اتحاد ہے جو نئے حالات اور تقاضوں کے پریشر اور دباؤ میں اپنا سیاسی بازار اگر گرم نہیں تو کم سے زندہ رکھنا چاہ رہے ہیں ، تاکہ کبھی کے یہ سیاسی گلستاں دیکھتے دیکھتے مکمل طور پر ویراں نہ ہوں۔یہ ایک مجبوری بھی ہے اورتمام ان سیاسی پارٹیوں کی بقا بھی اسی بات میں ہے کہ سیاسی ’’جام ‘‘ گردش میں رہیں ۔ کشمیر کے مفادات ، تحفظ اور اسے متعلق باقی معاملات کی کلی اور قطعی مالک مرکزی سرکار ہے ، جس کے سنگ آستاں پر اقتداری سیاسی پارٹیاں سجدہ ریز ہونے کے سوا اور کوئی بات سوچ نہیں سکتے۔