سرورق مضمون

بارہمولہ تصادم میں لشکر کے دو کمانڈر ہلاک ۔ پانچ ماہ بعد مذہبی مقامات کھولنے کی اجازت

بارہمولہ تصادم میں لشکر کے دو کمانڈر ہلاک ۔ پانچ ماہ بعد مذہبی مقامات کھولنے کی اجازت

سرینگر ٹوڈےڈیسک
کریری بارہمولہ میں تصادم آرائی میں کل آٹھ لوگ مارے گئے ۔ مارے گئے لوگوں میں تین جنگجو اور پانچ سیکورٹی اہلکار شامل ہیں ۔ اس حوالے سے کہا گیا کہ جنگجووں کی شناخت ہوگئی ہے ۔ دو مقامی عسکریت پسندوں کے علاوہ ایک پاکستانی جنگجو اس تصادم میں مارا گیا ۔ یہ تصادم اس وقت پیش آیا جب جنگجووں نے کریری بارہ مولہ میں سیکورٹی فورسز کی ایک ناکہ پارٹی پر حملہ کیا ۔ حملے میں دو سی آر پی اہلکار اور پولیس ٹاسک فورس کا ایک جوان مارا گیا ۔ فورسز نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ۔ اس دوران جنگجووں کے ساتھ ہوئے تصادم میں تین جنگجو اور دو فوجی اہلکار بھی مارے گئے ۔ مارے گئے جنگجووں میں لشکر طیبہ کا کمانڈر حیدر بھی شامل بتایا جاتا ہے ۔ حیدر کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ کئی حملوں اور ہلاکتوں میں ملوث تھا ۔ پولیس سربراہ نے اس حوالے سے جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ حیدر شمالی کشمیر میں معروف کمانڈر برہان وانی کی طرح بہت ہی چلتا پھرتا آدمی تھا ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حیدر اپنے علاقے میں جنگجووں کو بھرتی کرنے کا ماہر تھا اور کئی نوجوانوں کو عسکریت کے ساتھ جوڑنے میں کامیاب رہا ۔ حیدر کی ہلاکت فورسز کے لئے ایک بڑی کامیابی قرار دی جاتی ہے ۔ پاکستانی جنگجو عثمان کے حوالے سے کہا گیا کہ لشکر کا بڑا کمانڈر تھا ۔ اس طرح سے حیدر اور عثمان کی ہلاکت سے لشکر کو بھاری نقصان پہنچنے کا احتمال بتایا جاتا ہے ۔ یہ اپنی نوعیت کا ایک طویل تصادم تھا جو دو دن جاری رہا ۔ سوموار شام کو جنگجووں نے فائرنگ کی جس کے جواب میں فورسز نے گولی چلائی ۔ اس کے بعد خاموشی چھاگئی اور گولیوں کا تبادلہ بند ہوگیا ۔ رات ڈیڑھ بجے کہا جاتا ہے کہ دوبارہ فائرنگ شروع ہوگئی ۔ حالیہ وقت میں یہ ایک طویل مقابلہ آرائی بتائی جاتی ہے ۔ سوموار کو شروع ہوئے اس تصادم نے علاقے میں سخت خوف وہراس پیدا کیا ۔ اگرچہ دو جنگجو سوموار شام کو ہی مارے گئے ۔ لیکن تیسرے ملی ٹنٹ نے فورسز کو اگلے دن تک فائرنگ میں مشغول رکھا ۔ خیا ل کیا جاتا ہے کہ عثمان نامی جنگجو نے یہ طویل کاروائی کی ۔ پولیس کے انسپکٹر جنرل نے بتایا کہ جنگجو ادھر ادھر اپنی پوزیشن بدلتا رہا ۔ یہاں تک کہ منگلوار بعد دوپہر اسے ہلاک کیا گیا ۔ اس کے بعد تفصیلات سامنے لاتے ہوئے تین جنگجووں اور پانچ سیکورٹی اہلکاروں کے مارے جانے کی تصدیق کی گئی ۔ مارے گئے اہلکاروں کو پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ رخصت کیا گیا ۔ جنگجووں کی لاشیں پولیس کے حوالے کی گئیں ۔ ان جنگجووں کو پولیس نے اپنے طریقے سے دفن کیا ۔ اس طرح سے شمالی کشمیر میں یہ تصادم اختتام کو پہنچا۔ ادھر شوپیان میں 18 جولائی کو پیش آئے انکائونٹر پر شک و شبہات کا اظہار کیا جاتا ہے ۔ کچھ حلقے اسے ایک فرضی تصادم قرار دے رہے ہیں اور اس کی تحقیقات کی مانگ کررہے ہیں ۔ کئی سیاسی حلقوں نے اس پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے ۔ اس حوالے سے الزام لگایا جارہاہے کہ شوپیان علاقے میں مارے گئے نوجوان جنگجو نہیں بلکہ عام شہری تھی ۔ کہا جاتا ہے کہ یہ اصل میں راجوری کے باشندے ہیں جو مزدوری کرنے کے لئے شوپیان آئے تھے ۔ راجوری سے کچھ افراد سامنے آئے ہیں جن کا کہنا ہے کہ یہ نوجوان شوپیان آئے تھے اور یہاں اچانک لاپتہ ہوگئے ۔ ان کے لواحقین کا کہنا ہے کہ ان سے فون رابطہ منقطع ہونے کے بعد پولیس کو اطلاع دی گئی ۔ لیکن کئی دنوں تک کچھ پتہ نہیں چلا ۔ اب شک کیا جارہاہے کہ شوپیان کے امشی پورہ میں پیش آئے انکائونٹر میں جنگجو نہیں بلکہ یہی تین نوجوان ہلاک کئے گئے ہیں ۔ تازہ ترین رپورٹ یہ ہے کہ فوج نے اس واقعے کی تحقیقات کے لئے کورٹ آف انکوئری کا آڈر دیاہے ۔ فوج کے ترجمان کا دعویٰ ہے کہ تحقیقات کا آغاز کیا گیا ہے اور بہت جلد حقیقت سامنے آئے گی ۔ اس سے پہلے پولیس نے راجوری پہنچ کر ان خاندانوں کے کئی افراد کے DNA نمونے حاصل کئے جن کا الزام ہے کہ شوپیان انکائونٹر میں ان کے نوجوان مارے گئے ۔ تاحال صحیح صورتحال سامنے نہیں آئی ہے۔ تاہم کئی حلقوں کا خیال ہے کہ امشہ پوری تصادم ایک فرضی انکائونٹر ہے جس میں راجوری کے بے گناہ اور عام شہری مارے گئے ۔ فوج نے اعلان کیا کہ ابتدائی تحقیقات کے بعد اس کا دائرہ وسیع کیا جائے گا اور دوسرے لوگوں سے بھی بیانات لئے جائیں گے ۔ فوج کی طرف سے جاری کئے گئے بیان میں کہا گیا کہ قانون کے مطابق کاروائی عمل میں لائی جائے گی اور کسی بھی طرح سے تحقیقات کو متاثر نہیں ہونے دیا جائے گا ۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے حقایق منظر عام پر لائے جائیں گے اور جو کوئی بھی مجرم ثابت ہوگا اس کو بخشا نہیں جائے گا ۔ مارے گئے نوجوانوں کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ مارے گئے جن جنگجووں کے فوٹو سامنے لائے گئے وہ جنگجو نہیں بلکہ ان کے بے گناہ عزیز ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے عزیزوں کا عسکریت سے کوئی تعلق نہیں تھا اور وہ عام شہری تھے ۔ وہ یہ بھی الزام لگارہے ہیں کہ انہوں نے ایک آرمی کیمپ کے نزدیک کمرہ کرایے پر لیا تھا اور کام کی تلاش میں تھے ۔ اس دوران انہیں مار کر جنگجو ہونے کا دعویٰ کیا گیا جو مبینہ طور صحیح نہیں ہے ۔
ادھر کارونا وائرس کے حوالے سے لاگو لاک ڈاون میں یہ پیش رفت ہوئی کہ کشمیر انتظامیہ نے مذہبی مقامات کو عبادات کے لئے کھولنے کی مشروط اجازت دی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ کئی عبادت گاہوں میں لوگ بڑی تعداد میں عبادت کے لئے آئے ۔ سر ینگر سے اطلاع ہے کہ پانچ مہینوں کے طویل عرصے کے بعد جامع مسجد میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے جمعہ کی نماز ادا کی ۔ اسی طرح سے دوسری مساجد اور خانقاہوں میں بھی لوگوں نے حاضری دی ۔ لوگوں نے اس موقعے پر خوشی کا اظہار کیا ۔ انتظامیہ نے عبادت گاہوں کے علاوہ دکان کھولنے اور گاڑیوں کے چلنے کی بھی اجازت دی ہے ۔ تمام لوگوں سے احتیاط سے کام لینے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ ایک دوسرے سے دوری اختیار کرنے اور احتیاطی قدم اٹھانے پر زور دیا گیا ہے ۔ لوگوں سے کہا گیا ہے کہ صفائی اور دوری بنائے رکھنے کے علاوہ کھلی جگہوں پر ماسک کا استعمال کریں ۔ ان ہدایات پر عمل نہ کرنے کی صورت میں جرمانہ عائد کرنے کا حکم دیاگیا ہے ۔ اگرچہ ابھی تک کرونا وائرس پر قابو نہیں پایا گیا ہے ۔ روس کا دعویٰ ہے کہ اس نے اس کے لئے ویکسین تیار کیا ہے جو جلد ہی بازارمیں آسکتا ہے ۔ امریکہ اور دوسرے کچھ ممالک کا کہنا ہے کہ ویکسین بنانے کی کوششیں جاری ہیں ۔ ادھر ہندوستان کے وزیراعظم نریندر مودی نے یوم آزادی کے موقعے پر اپنی تقریر میں کہا کہ ان کے سائنسدان ویکسین بنانے کے قریب پہنچ گئے ہیں ۔ انہوں نے یقین دہانی کی کہ بہت جلد ویکسین بنانے میں کامیابی حاصل ہوگی ۔ یہ ویکسین کب بازار میں آئے گا وثوق سے کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے ۔ اس وقت تک احتیاط سے کام لینا ضروری ہے ۔