مضامین

برما کی آگ اور بھارت کی سیاست

عبد المعید ازہری
Email:
abdulmoid07@gmail.com

دن ڈھل چکا تھا۔ میں دفتر سے گھر کی طرف واپس آ رہا تھا۔سورج غروب ہو نے کے بعد شفق کی آخری مدھم سی روشنی بکھری ہوئی تھی۔ میں اتنا تھکا ہوا تھا کہ کہیں دور کا شور، چیخ اور آہ فریاد کی صدائیں بھی سن کے کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھا۔جیسے جیسے میں گھر کے قریب ہو رہا تھا آواز بلند ہو رہی تھی۔ قریب کی بستی سے اٹھتا دھواں اور اس میں جلنے کی عجیب سی بدبو سے طبیعت مضطرب ہونے لگی تھی۔ ایک وقت تو ایسا بھی لگا شاید پڑوس ہی میں کہیں آگ لگی ہو۔ اچانک سے میری دل کی دھڑکنین تیز ہو گئیں۔ پچھلے 20دنوں کے منظر ایک ایک کر کے سامنے آنے لگے۔یہ اور بات ہے کہ اکثر حادثات کی منظر کشی موبائل سے ہوئی تھی۔ سوشل میڈیا کے ذریعے آئی لوٹ مار اور قتل و غارت گری نے ایک سے زائد بار جذباتی بنا کر ہلاکت میں اضافہ کر چکے تھے۔ اس کے بعد اس میڈیا نے آج ہمیں اتنا ہراساں کر دیا ہے کہ میں اپنی موت کا انتظار کر رہا ہوں۔اب تک نذر آتش ہونے والے محلوں ، قصبات اور علاقوں کی تعداد بیس سے اوپر ہو چکی ہے۔ یہ وہ فہرست ہے جو اس بار کی قیامت کے ہیں۔ اس سے پہلے کی قیامت کو ہم بھول چکے ہیں۔ان جلی ہوئی بستیوںمیںبچوں کے سلگتے جسم، برہنہ عورتوں کے لہولہان بدن، مردوں کے کٹے ہوئے اعضاء اور بزرگوں کا خاک و خون میں مٹتا وجود ہے۔وہ منظر بھی خون بن کر آنکھوں سے بہنے لگا جب ہتھیار بند جتھا قریب کی بستی میں گھسا تھا۔گھر کو بند کر کے اس میں آگ لگا دی گئی۔ زندہ انسان چیختے رہے۔ آگ کے شعلے ان کی چیخوں سے اور بھڑکتے رہے۔جس نے گھر سے بھاگنے کی کوشش کی اسے واپس کاٹ کر اس میں پھینک دیا گیا۔اب میں سمجھ گیا تھا کہ اب تک میں جس حادثے کا انتظار کر رہا تھا شاید وہ وقت قریب آگیا ہے۔ہمت جواب دے چکی تھی۔ہاتھ پاؤں شل ہو گئے تھے۔ایسا لگا سامنے سے بھڑکتے ہوئے شعلے میری طرف لپک رہے ہیں۔ ان شعلوں کے درمیان برچھیاں تلوارویںاور ترشول نظر آرہے تھے۔ ایک سرد سی لہر پورے وجود میں کسی بجلی کی مانند کوند گئی۔ لڑکھڑاکر شاہراہ سے نیچے گر گیا۔
ارد گرد کالی رات کے کسی سنسان علاقے کی مانند خاموش سناٹا تھا۔ پرندوں کی چہچہاہٹ اور کتوں کے بھونکنے کی آوازیں شور کر رہی تھیں۔ انسانی لاشوںکے جلنے کی وجہ سے پوری فضاآلودہ اور پراگندہ ہو چکی تھی۔ صبح نمودار ہونے کو تھی۔پورا جسم کمزرو لگ رہا تھا۔ذرا ساآنکھ کھولنے کی ہمت کی تو ایک بزرگ بغل والی درخت سے ٹیک لگائے ملے۔ ان آنکھوں کے اشک خوشک ہوچکے تھے۔ پتلیوں میں ویرانی صاف جھلک رہی تھی۔میں نے نڈھال سی آواز میں کہادادا یہ سب کیا ہو رہا؟ یہ لوگ ہمارے اور ہمارے مذہب کے پیچھے کیوںپڑے ہوئے ہیں؟ کیا اب سمجھ لیا جائے کہ مسلمانوں کے جینے کاحق نہیں ہے؟یہ بدھسٹ مسلمانوں کے دشمن کیوں ہیں؟ آخرم ہم نے کیا بگاڑا ہے؟ ہمارا جرم کیا ہے؟ بزرگ کی بیزار آنکھیں یک لخت میری طرف اٹھیں اور کچھ کہتے کہتے رک گئیں۔میرے بارہا جھنجھلاتے ہوئے سوال سے تنک آکر انہوں نے کہا۔یہ بدھسٹ نہیں ہیں۔ میں سنبھل کر بیٹھ گیا۔میں کچھ جواب دینے ہی والا تھا کہ انہوں نے کہا کہ یہ سب کالے سائے ہیں ۔ ان کا کوئی دھرم اور مسلک نہیں ہے۔یہ باغی ہیں۔ یہ باغیانہ فکر صرف اسی قوم میں نہیں ہے بلکہ آج تقریبا ہر مذہب کے پیروکاروںمیں یہ فکر تیزی سے پھیل رہی ہے۔یہ وہ فکر ہے جو پوری دنیا کے مذہب کے خلاف کھڑی ہے۔نفس، ہوس، دولت،طاقت،عیش وعشرت اور آزادی کے نشے میں چور یہ فکرپوری دنیامیں ایک مذہب مخالف فکر کو کھڑی کر رہی ہے۔ان سب کے دین اور اس کی فکر کا سب بڑا ذریعہ آج کی سوشل میڈیا ہے۔ آج اس ذرائع سے جڑاہوا ۸۰ فیصد انسان اس ذرائع سے نشر کی جانے والی خبروں کی تصدیق نہیں کرتا۔ یہاں سب کچھ موجود ہوتا ہے۔ دین بھی لوگ یہیں سیکھنے لگے ہیں اور اس سے بغاوت بھی۔اس جال میں آج کا نوجوان پوری طرح گھر چکا ہے۔ وہ ایک ریموٹ کنٹرول کے سہارے ہے۔مجھے اس کی باتیں بور کر رہی تھیں۔ لیکن دل اتنا اچاٹ اور طبیعت اتنی چور ہو چکی تھی کہ تاریک وحشت سے بچنے کیلئے بس کسی کا ساتھ درکار تھا اور وہ بولتا ہوا ساتھ ہو تو زیادہ سکون بخش ہوتا۔انہوںنے کہا یہی فکر پورے عرب کو کھارہی ہے۔پچھلے دس برسوںمیں بیس لاکھ سے زیادہ بے گناہ انسان مارا جا چکا ہے۔یہی حال تمہارے ملک ہندوستان پاکستان اور افغانستان کا بھی ہے۔ ایک لمبی اکھڑتی اور کپکپاتی ہوئی سانس لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے دیکھا ہے ان بدھسٹوں کو انسانی خدمات کی مثالیںقائم کرتے ہوئے۔انسان تو انسان کسی جانور کو بھی کوئی تکلیف پہنچ جائے تو چیخ اٹھتے تھے۔ لیکن آج وہ سب خاموش ہیں۔ ہو سکتا ہے مجبور ہوں جیسے ہم اس وقت خاموش اور مجبور تھے جب طالبان نے بدھسٹوں کے مذہبی مجسمے گرائے تھے۔ہم کچھ نہ کر سکے اور نہ ہو کچھ کہہ سکے۔پوری دنیا میں دہشت گرد مذہب کے نام پر دہشت گردی پھیلاتے رہے۔سارے مسلم ممالک خاموش رہے۔ ایک ایک کر کے جب وہ خود اس کا شکار ہونے لگے تو پڑوسی خاموش رہا۔ دعوت وتبلیغ کی ساری تنظیمیں خاموش رہیں۔یہاںبھی آئے تھے ہمیں دین سکھانے کے لئے۔ لیکن وہ تو ہمیں کچھ اور ہی سکھا گئے ۔ کچھ نوجوانوں کوبندوق دے گئے۔ آج پوری قوم مظلوم ہے۔مجھ سے رہا نہ گیا میں نے پوچھ لیا کہ آخر یہ سب ہے کیا؟ کس کی کیا دلچسپی ہے؟ عالمی برادری کیوں خاموش ہے؟ ملک کے وزیر اعظم کا دورا بھی ہوا۔ یہ سب کچھ دیکھ کر وہ بھی خاموش رہے۔ ایسا کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ اب صحیح علم تو خدا ہی کو ہے البتہ اتنا تو طے ہے کہ اس برما سے سب کی اپنی اپنی سیاسی دلچسپیاں وابستہ ہیں۔یہاں تک کہ مارنے والوں کو بھی اب مذہبی جذبہ متاثر کئے ہوئے نہیں ہے بلکہ انہیں بھی سیاست استعمال کر رہی ہے۔انہوں نے بڑی گہری نظر میری آنکھوں میں ڈالتے ہوئے کہا کہ آپ کو خلافت عثمانیہ کے زوال کی تاریخ اور ہینفرے کے اقرار نامے کے متعلق کچھ معلومات ہے؟ میں نے غیر یقینی طورپر سر اوپر نیچے کر کے دائیں بائیں بھی ہلادیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ، نے یا یہودیوںنے بانٹو راج کرو کی سیاست کو سب سے پہلے مسلمانوں پر آزمایا۔ کافی محنت کے بعد وہ اس میںکامیاب ہوئے۔ اس کا ایک کامیاب تجربہ افغانستان میں طالبان بنا کر کر چکے ہیں۔ اب جہاں کہیں بھی امریکہ کو جانا ہوتا ہے۔ وہاں دہشت گردی کے حملے اور فرقہ وارانہ فسادات اس محبوب ترین ذریعہ ہے۔ اس کے لئے ماحول سازی میں دعوت و تبلیغ کا بڑھیا استعمال ہوتا ہے۔
اطمینان سے بیٹھ کر وہ اپنی ہی روانی میں کھو گئے اور لگا کہ کوئی کہانی سنا رہے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کہیں سے کوئی خبر آئی کہ برما میں بھی تیل ملا ہے۔برما کی جگہ ایشیا میں بالکل ایسے ہی ہے جیسے عرب ممالک میں سیریا اور ترکی ہے۔ہر آدمی اپنی جگہ بنانا چاہتا ہے۔کیونکہ برما یعنی میانمار ASEANمتحدہ ممالک میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ چین اس کا سب سے بڑا حامی اور پیشوا بھی ہے۔ ملیشیا اور تھائی لینڈ سمیت اس اتحاد میں شامل ممالک کی مجموعی آبادی میں بدھ مت کے ماننے والے اکثریت میں ہیں۔اسی بیچ چین کی طرف سے ایک پروجیکٹ لانچ ہونے کی خبر بھی سامنے آئی کہ ان ممالک کو جوڑنے کیلئے وہ سمندر سے ایک راستہ بنائے گا۔ اب تو روس اور اسرائیل کے ساتھ امریکہ کی دلچسپی ہونا لازمی ہے۔اس مدعے پر گفتگو پھر کبھی۔
میںجھٹ سے پوچھا کہ یہ سب تو ٹھیک ہے مگر ہندوستان کا اس سے کیا تعلق ہے۔ انہوں برجستہ کہا کہ جس ملک میں بھی مذہب کے خلاف باغیانہ فکر موجود ہے،ہر اس ملک کی دلچسپی ہے۔ انہوں نے کہاکہ میں نے سنا ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ دلتوں کو بھی وہاں ظلم کا شکار کیا گیا ہے۔ بدھ مت کا آج کے نام نہاد ہندوتو سے بہت پرانا بیر اور دشمنی ہے۔یہ ملک ہند مخالف رہا ہے۔ اب ایسا بھی سننے میں آیا ہے کہ تم لوگ دلت مسلم اتحاد کی بھی باتیں کرنے لگے ہواور کچھ جگہوں پر اس کی طاقت کا مظاہرہ بھی کیا ہے۔یہاں کے دورے اور بدھسٹوں کو ہندوستان میں ملنے والی سہولتیںسب ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔چونکہ ہندوستان خود ASEANکا حصہ نہیں ہے۔اس لئے اس نے SAARC بنایا۔اب اگر مسلمان پلٹ کر وار کرتے ہیں، تو دونوں میں کشیدگی پھیلتی ہے۔ تو اس کا سیاسی اثر سب سے پہلے تو یہی ہوگا کہ ان دونوںکے درمیان اتحاد کے امکانات فوری طورپر ختم ہو جائیںگے۔دسرا یہ کہ ہندی چینی بھائی بھائی کا ایک اور راستہ نکل آئے گا۔ انہوں نے ذرا لہجہ بدلتے ہوئے کہا کہ ویسے یوگی جی بھی یہاں آ چکے ہیں۔میں نے ایک گہری سانس لی۔ ابھی سانس پوری طرح چھوڑی بھی نہیں تھی کہ انہوں نے برجستہ کہا کہ اس طرح کے حادثات کے لئے تیار رہو۔ بلکہ اس سے بھی بدتر حالات کا سامنا کرنا ہوگا۔ ہم نے کہا کوئی حل؟ ہنسنے لگے۔ اچانک سنجیدہ ہو کر کہنے لگے حل تو ہے لیکن ذرا مشکل ہے۔ جب تک لوگ سوشل میڈیا سے دین سیکھ کر سوشل میڈیا پر ہی دین کی حفاظت کرتے رہیںگے، جب تک مذہبی نااہلوں کی قیادت تشدد اور انتہا پسندی کے فروغ کا حصہ بنتی رہے گی اور جب تک ہم اپنے پڑوسیوںکے ساتھ بیٹھے اور بین المذاہب گفتگو سے دور ہوتے رہیں گے، ایسی تباہیوں سے کوئی نہیں روک سکتا۔ابھی اس پر میں کسی رد عمل کا اظہار کر پاتا کہ ایک تیز شور قریب ہی سے سنائی دیا ایسا لگا بس سر پر کوئی وار کرنے والا ہے۔ میں نے بزرگ کی طرف دیکھا وہ مسکرا رہے تھے۔ دل کی تیز دھڑکنیں مجھے سنائی دے رہی تھیں۔دھیرے دھیرے ان بزرگ کا چہرہ آنھوں سے دھندلہ ہو رہا تھا لیکن ان کی کہی ہوئی ایک ایک بات کسی نشتر کی طرح چبھ رہی تھیں۔ ایسا لگا میں کسی گھنے اور تاریک جنگل میں پھنس گیا ہوں۔ چاروں طرف سے انجان اور غیر مرئی طاقتیں مجھے اندر سے ڈرا رہی تھیں۔ پسینہ سے پورا جسم طر ہو گیا تھا۔ایک عجیب سے بھنور میں قید ہو گیا۔ وہا ںسے نکلنے کی کوئی سبیل نکلتی نظر نہیں آرہی تھی۔ کسی مدد یا اس طرف سے گزرنے والے شخص کا بے صبری اور شدت سے انتظار کر رہا تھا۔ دوڑتے دوڑتے پر جواب دے گئے۔ ہر بار میں اپنے آپ کو اسی جگہ پاتا۔ تھک ہار کر غش کھاکر اسی درخت سے ٹکراکر اسی بزرگ کی گود میں گر گیا۔آنکھ کھلی تو دیکھا میری باہوںمیں ان کا ہاتھ اور اس کی کمر ہے۔ جسم سے دونوں پیر الگ ہیں۔کرتا پورا سرخ ہے۔ آنکھیں بالکل دھنسی ہوئی ہیں۔ خون سوکھ کر کالا پڑ چکا تھا۔ مجھے یہ سمجھنے میںدیر نہ لگی کہ میں عالم بے ہوشی میں اس سے باتیں کر رہا تھا۔کیونکہ ان کا خون ہوئے تو کافی عرصہ ہوئے معلوم ہوتا ہے۔ ذرا سا سنبھالا لے کر گھر کی طرف بے تہاشا بھاگا۔ پوری قوت سے بھاگا۔ لیکن پانچ سو میٹر کا راستہ ختم ہونے کا نام نہیںلے رہا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کوئی راستہ طویل کر رہا ہے کہ مجھے پکڑے ہوئے ہے اور آگے بڑھنے نہیں دے رہا ہے۔میں زور زور سے چلانے لگا۔پانی کے چھینٹیں منہ پر پڑے تو چاروںطرف میرے دوست مجھے نیم کھلی آنکوں سے مجھے گھور رہے تھے۔ میرا پورا جسم تپ رہا تھا اور پسینے سے تربتر تھا۔
آنکھیں کھلی تھیں لیکن ابھی بھی پوری طرح ہوش میں نہیں تھا۔مجھے ابھی بھی یاد آ رہا تھا کہ بزرگ کے ساتھ ہوئی گفتگو کے بعد میں آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ کے بانی و قومی صدر سید محمد اشرف کے کئی بیانوں کو کھنگال رہا تھا۔ جہاں انہوں نے کہا تھا کہ دوسروںکے گھر کی صفائی کی مہم سے پہلے اپنے گھر کی صفائی ضروری ہے۔ ہمارے مذہب کے نام پر بھی کچھ چند ایک سرپھرے اس مذہب مخالف فکر اور نظریے کا شکار ہو رہے ہیں۔جو فکر تبلیغ کے نام پر اٹھتی ہے اور ایک ظالم طاقت بن کر درگاہوں، خانقاہوں اور امام بارگاہوںکو توڑنے اور مسلمانوں ہی کو قتل کرنے لگتی ہے۔پوری دنیا میں دہشت و وحشت کا کاروبار کرتی ہے۔ جس کی وجہ سے اس کے مخالف ایک فضا قائم کی جاتی ہے۔ یہ فکر مذہبی تشدد پر آمادہ کرنے کے ساتھ رواداری ختم کرنے پر زور دیتے ہیں۔دھیرے دھیرے ایک طویل عرصے سے ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں ساتھ رہنے والوں کے بیچ نفرت یا کم از کم بے زاری کی دیوار کھڑی ہو جاتی ہے۔میرے دوست مسلسل مجھے دیکھے جا رہے تھے۔ انہوں نے مجھے جنجھوڑا۔ میری آنکھیں پوری طرح سے کھل چکی تھیں۔ پورا جسم پسیے سے بھیگا ہوا تھا۔ سب کی سوالیہ نگاہیں میری طرف تھیں۔ میں نے کہا کہ بھائی ایک برا سپنا تھا۔ خدا کرے سچ نہ ہو۔
صبح کے اخبار میں روہنگیا سے جان بچا کر بھاگے مظلوم پناہ گزینوں کے متعلق حکومت وقت کا موقف دیکھ کر حیرانی تو نہیں ہوئی لیکن افسوس ضرور ہوا۔ یہ ہمارے گاندھی، آزاد، نیتا جی اور سردار کے خوابوں کا ملک تو نہیں ہے۔ ہمارے سوامی وویکا نند اور بابا بھیم راؤ کی فکر کے مخالف یہ بیان تھا کہ ان مظلوموں سے ملک کو خطرہ ہے۔انسان کے دل رکھنے والے انسان کے لئے یہ ایک بڑا چیلنج ہے۔ ملک کے ان مجاہدوں کے خوابوں کا ہندوستان بنائیں یا ملک کو اس ظالم فکر کے حوالے کر دیں۔