مضامین

برما کی سلگتی آگ اور عالمی سیاست کی دلچسپیاں

تحریر
عبدالمعید ازہری
Email:abdulmoid07@gmail.com
مذہب کے نام پر ہونے والے مظالم پر مذہبی نمائندوں اور رہنماؤں کی خاموشی سے مزید انتہا پسندی اور دہشت گردی کے واقعات پیدا ہوتے ہیں۔کیونکہ مذہب کے نام پر تشدد خود اس مذہب سے بغاوت ہے جو اس مذہب کی بنیادی تعلیمات کو چیلنج کرتی ہے۔تعلیمات کی توہین اور روایات کا مزاق اڑاتی ہے۔ ایسے میں اس کے لئے خود اسی مذہب کے ذمہ داروںکو آگے بڑھ کر مذہی افکار ونظریات کے تقدس کی حفاظت کرنی ہوتی ہے۔مذہب کے نام پر مضحکہ خیز بیانات کا سد بات کرنا ہوتا ہے۔اس کے بعد ہی دیگر قومیں یا کوئی دوسرا معاشرہ اس بیماری کے علاج میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔دور حاضر میں مذہب کے نام پر انسانوں کی تباہی ہر مذہب کے ذمہ داروں پران کی اہلیت اور قابلیت کو لے کر ایک بڑا سوال ہے۔دنیا میں نازل یا رائج تما م مذاہب کا بنیادی اور مرکزی تصور انسان کی خدمت اور انسانیت کی حفاظت ہے۔یا تو اس کی تعلیمات کے فروغ میں کہیں کچھ کمی ہے۔ اس کی تبلیغ میں کچھ کجی اور کوتاہی ہے، یا دین سے دور کرنے والے محرکات دین کی طرف راغب کرنے والے کردار سے زیادہ دلچسپ اور دل فریب ہیں۔یہ بھی ممکن ہے کہ دین کے محافظوں نے باغیوںسے سوداکر لیا ہو۔نتیجہ یہ ہے کہ انسان قتل ہو رہا ہے، انسانیت دم توڑ رہی ہے اور خود کو انسان کہنے والا سماج خاموش ہے۔
پاکستان، افغانستان، سیریا،عراق اور شام کی طرح نہ جانے کتنے ممالک اور وہاں کے لاکھوں انسانوں کا مذہب کے نام پر بہا دیا گیا۔ ایک ہی مذہب کے ماننے والوںنے مذہب کی حفاظت کے نام پر دوسرے ہم مذہب کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔یہ سازش بھی ہو سکتی ہے کہ انہیں ورغلایا گیا ہو، ان کے اہل خانہ کو اغوا کیا گیا ہو یا جرم پر آمادہ کرنے والے دیگر اسباب و ذرائع کا استعمال کیا گیا ہو۔ یہاں بھی نتیجہ تو یہی ہے کہ نشانہ لگانے والے اور اس کا ہدف بننے والے کا مذہب ایک ہے۔ پھر تو سوال ہر اس مذہبی اور تبلیغی تنظیم پر ہے کہ آخر ان کی تعلیمات کا اثر کہاں ہو رہا ہے۔ محنت کس پر ہو رہی ہے۔ اس کے کیا نتائج مرتب ہو رہے ہیں۔تبلیغ کا دعوی تو بندوق چلانے والا اور خود کو بم سے اڑانے والا بھی کر رہا ہے۔دنیا کے درجنوں ممالک کی مانند ہمارا ملک بھی مذہبی تشدد زد سے نہیں بچ سکا۔ یا اس ملک میں بھی مذہبی منافرت کی سازش کی گئی اور وہ قدرے کامیاب بھی ہے۔پچھلی دو دہائیوں سے جس قدر مذہبی تشدد کو فروغ ملا ہے۔اس میں عجیب بات یہ رہی ہے کہ تقریبا ہر مذہب کے پیروکاروں میں یکساں طور پر نفرت کو بڑھاوا ملا ہے۔انہیں دہائیوں میں ہندو آتنکواد اور مسلم انتہا پسندی کی اصطلاحوں کو نکسل واد اوار دہشت گردی سے زیادہ فروغ ملا۔ان تمام چیزوں کے پیچھے ایک ہی فکر کار فرما ہو تی ہے۔ وہ ہے جانے انجانے میں خدائی کا دعویٰ کرنا۔ اپنے اپنے خداؤںکی مملک اور ان کی بادشاہی کا انکار کرنا۔ اپنی تکنیکی ترقیوںکے آگے فطرت کی قدرت کا طابع کرنا۔تلخ پر حقیقت ہے۔
1984,92,93,2002 سے لے کر 2017تک کے خونی حادثات پر نظر دوڑائیں تو ایک بات صاف نظر آئی ہے کہ سیاسی اقتدار حاصل کرنے کی ہوڑ میںانسان اپنی فطرت اور دائرے کو بھول گیا۔ ایک دوسرے پر حکومت کرنے کے لئے ایک دوسرے کو قتل کرنا ہی ایک راستہ بنا لیا۔ کسی انجمن کی قیادت کرنا مذہبی تصور تھا۔ اس کے خلاف ان پر حکومت کرنا اس کے خلاف ایک تصور پیدا کیا گیا۔اس کے لئے مذہب کو ٹھکرایا گیا۔ بلکہ اس کا بے استعمال اور استحصال کیا گیا۔ ایسے ایمان فروشوں کی ٹولیاں تیار کی گئیں جن کے دل کبھی بھی مذہبی نہ تھے۔ مادیت کی چکا چوند کے آگے انسانی اقدار کو گھٹیا کرنا ان کا کام ہو گیا۔ ایسا کسی ایک مذہب کے ساتھ نہیں ہوا۔ یہ ایک آفاقی فکر تھی جو ہر معاشرے میں پائی گئی۔ تبھی کہیں ترشول اور کہیں تلوار نے مقابلے کئے۔ ٹوپی اور تلک آمنے سامنے ہوئے۔امن و محبت کی تعلیم دینے والے مذہبی رہنما نفرت پیدا کرنے لگے۔ رواداری کی بجائے معاشرے میں زہر گھولنے لگے۔ حکومت کے سائے میں اس فکر کو پناہ ملتی رہی۔ مذہبی اقدار کا زوال ہوتا رہا۔اسلام کی جائے پیدائش عرب اپنی بنیادی مذہبی تعلیمات کا باغی بنا تو سناتن شکشا کا سب سے قدیم گہوارہندوستان اپنے سناتنی اصولوں کی دھجیاں اڑانے لگا۔ جب صحیح علم سے معاشرہ دور کر دیا گیا تو ان کی اپنی مفاد پرست باتیں ہی مذہبی فرمان ہو گئیں۔ایک طرف قرآن کی حفاظت او ر پیغمبر کی عصمت کے بدلے میں خون بہا تو دوسری طرف دیوی دیوتاؤں کے مجسموںپر انسانوں کی بلی دی گئی۔ گائے کے نام پر انسان ذبح کئے جانے لگے۔ ذبح کرنے والے میں سے 99 فیصدی لوگوں کے بارے میں یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ انہیں خود کو اپنے مذہب کی تعلیمات معلوم نہیں۔ گائے میں عقیدت تو ہے کہ اس کی تاریخ سے نابلد ہیں۔
برما(میانمار) میں انسانیت سوز مظالم کے پیچھے کارفرما مذہبی تشدد کیا اپنی تعلیمات کو بھلا بیٹھی ہے؟ وہاں تو چرند و پرند اور کیڑوں مکوڑوں کو بھی مارنے کی اجازت نہیں۔ مہاتما بدھ کی زندگی کا کوئی بھی گوشہ ایسی کسی بھی سرگرمی کا حصہ کبھی نہیںرہا۔ خیراس میں مذہب کا استعمال ہے۔ اس کا اپنا کوئی کردار نہیںہے۔میری یہ تحریر بھی شاید کسی بدھ پرست تک نہ پہنچے۔ لیکن آ ج کی ٹکنالوجی کے زمانے امید تو کی جا سکتی ہے۔ حالات برما میں بھی دگرگوں نہیںہیں۔ طالبان کے ذریعے توڑے گئے بدھ کے مجسموں کا یہ رد عمل تو ہو سکتا ہے۔ لیکن اس رد عمل کو کب تک دہرایا جائے جائے گا۔ کس پر غصہ نکالا جائے گا۔ یوں تو ہر دہشت گردی کو جواز مل جائے گا۔ نکسل وادی اپنی جگہ درست ہوںگے۔ دہشت گرد بھی غلط نہیںہوںگے۔ یوں ہی آر ایس ایس، VHP اور گؤ رکشک دل سمیت دیگر انتہا پسند تحریکوں کو بھی جواز ملنا جانا غیر مناسب نہیںہوگا۔مسئلہ یہ ہے کہ مذہب کے نام پر ہونے والی انتہا پسندی خواہ کسی بھی ملک میں ہو اورکوئی قوم یا مذہب کے پیروکار اس میں ملوث ہوں، باپ کا بدلہ بیٹے سے نہیں لے سکتے۔برما میں ہونے والے مظالم کے پیچھے کوئی چھوٹے موٹے حادثے ذمہ دار نہیں ہیں۔ وہاں جس طرح بدھ بھکشکوں کی اپنے مذہب سے بغاوت ہے وہیںتبلیغی کارستانیاں بھی ہیں۔لیکن یہ سب تو ایک دکھاوا ہے اس کے پیچھے کا بین الاقوامی کھیل کچھ اور ہی ہے۔ ورنہ عراق، افغانستان ، سیریا اور ترکی میں انسانی حقوق کی پاسداری اور حفاظت کے نام پر اقوام متحدہ یا بہ لفظ دیگر امریکہ اور اسرائیل کی دخل اندازی ہو جاتی ہے۔ UNO میں ایک ریژولیوشن یا قرارداد پاس ہے کہ کسی بھی ملک میں انسانی حقوق اور انسانیت کی حفاظت کے تئیں عالمی برادری دخل اندازی کرے گی۔جسے R2P کہتے ہیں۔ یعنی حفاظت کی ذمہ داری۔
ویسے سوال تو یہ بھی ہے کہ امریکہ برما میں کیوں پہنچنا چاہتا ہے؟ چین اور روس کی کیا دلچسپی ہے؟ ہندوستان کا اپنا سیاسی موقف کیا ہے۔ ASEAN میں شامل ممالک میںبدھ مت کی اکثریت ہے۔ چین اس کا سرفہرست حصہ دار ہے۔اس میں ہندوستان نہیں ہے۔ ہندوستان کے پاس اس کے مقابلے میں SAARC ہے۔ ابھی حال ہی میں ملک کے وزیر اعظم یو پی کے وزیر اعلی کا دورا اور دونوں ملکوں کے مابین مضبوط رشتوں کے لئے بات چیت ہوئی ہے۔ اس کی کوشش پاکستا ن بھی کر چکا ہے۔ برما کی سو چی کے گلے میں امن کا ہار پہنا کر ان کی خوشامد کی جا چکی ہے۔ امریکہ نے افغانستا ن میں طالبان کا تجربہ کے کسی بھی مسلم ملک یا مسلم بشند ممالک میں داخلہ کا راستہ طے کر لیا ہے۔اس کا ایک اور کامیاب تجربہ خلافت عثمانیہ کے زوال میں کیا جا چکا ہے۔برما میں اس کے اثرات دیکھے جا سکتے ہیں۔
یہاں بھی نتیجہ یہی ہے کہ سب کے اپنے اپنے سیاسی مفاد ہیں۔ لیکن مارے جانے والے انسان ہیں۔ مسلمان ہیں۔انسانوں سے ہمدردی رکھنے والے تمام تنظیموں اور انفرادی ذمہ داروں کی تباہ کن خاموشی اس تباہی کی آگ میں گھی ڈالنے سے کم نہیں ہے۔اپنے سیاسی مفاد کے چلتے کسی بھی ملک کے بنیادی اصول انسان اور انسانیت کی حفاظت سے روگردانی بھی کسی دہشت گردی سے کم نہیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی اہم ہے کہ بدھ مت کے لوگ اپنے مت کے باغیوںنے ہاتھوںسے مذہبی تلوار چھینیں۔ کیونکہ وہ تلوں سرحد پار کچھ سیاہ سفید تلواروں کو مدعو کر رہی ہیں۔کئی دہشت گرد تنظیموںکو برما کی حفاظت کا خیال آرہا ہے۔ اس خیال سے محض سے روح کانب رہی ہے۔ خدایا کہیں داخلی خانہ جنگی کے آثار تو نہیںہیں۔ یاپھر برما کا قتم عام کسی جنگ کی تیاری اور یا ورک شاپ تو نہیں۔ جس کے شرارے ملک کے نہ جانے کتنے گوشوں کے جلانے کی طاق میں ہیں۔مدھم ہوا میں مسلسل مہکنے والی ان چنگاریوں کا ارادا نیک معلوم نہیں ہوتا۔ کئی آشیانے شعلوں کی زد میں ہیں۔ اس کے لئے کیا کرنا ہے، اس پر سب کو سوچنا ہوگا، مذہبی منافرت کے خلاف مذہبی ہم آہنگی کو کھڑا ہونا ہوگا۔ سوشل میڈیا کے ذریعے جہاد یا پھر قوم کی کسمپرسی کی ذمہ ادا کرنے والوں کو بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اس جانب سے شیئر کیا جانے والی کوئی بھی ویڈیو یا تصویر کتنی سچ ہے اور اس سے کتنا فائدہ یا نقصان ہو سکتا ہے۔ اس کشمکش کے ماحول میں پہلی فرصت میں احتیاط کو لازم پکڑنا اولین ذمہ داری ہوگی۔بچا سکو تو بچا لو ورنہ راکھ میں چنگاریاں سرد ہونے کو بے تاب ہیں۔ خدا کرے یہ خیال محض ہو۔