خبریں

بندشوں کے باوجود عاشورہ کے جلوس برآمد

بندشوں کے باوجود عاشورہ کے جلوس برآمد

گذشتہ روز یعنی 10 محرم الحرام کے دن دین حق کی سربلندی کیلئے حضرت امام حسینؓاور ان کے رفقا کی عظیم قربانیوں کی یاد میں یوم عاشور ہ وادی بھر میں عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا،جس دوران 10 محرم الحرام کو عزاداران امام عالی مقامؓ اور ان کے رفقا کی عظیم قربانیوں کی یاد میں ماتم و گریہ زاری کی گئی جبکہ مختلف علاقوں میں چھوٹے بڑے جلوس برآمد ہوئے، جن کی سیکورٹی کے لئے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے ۔ یوم عاشورہ کے موقع پر تاریخی لال چوک کے آبی گذر سے برآمد ہونے والے یوم عاشورہ کے مرکزی ماتمی جلوس کو بھی برآمد ہونے سے روک لیاجبکہ شہر سرینگر کے قدیم اور سیول لائنز کے بیشتر علاقوں میں امن وقانون کی صورتحال برقرار رکھنے اور سیول لائنز میں ماتمی جلوس کی برآمد گی کو روکنے کیلئے دفعہ144کے تحت پابندیاں ،بندشیں اور سخت ترین ناکہ بندی کی گئی ۔
اس دوران سیول لائنز میں ماتمی جلوس نکالنے کی کئی کوششیں کی گئیں ،تاہم پولیس ان کوششوں کو ناکام بنایا اور درجنوں عزاداروں کو پولیس نے احتیاطی طور پر حراست میں لیا تھا۔
دریں اثناء حریت (ع) چیئرمین میرواعظ عمر فاروق کو خانہ نظر بند رکھا گیا جبکہ مرکزی جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔
وادی بھر میں یوم عاشور جمعہ کوعقیدت و احترام کے ساتھ منایاگیا۔اس موقع کا اہتمام حق کی سربلندی کے لئے حضرت امام حسینؓاور ان کے رفقا کی عظیم قربانیوں کی یاد میں کیا جا تا ہے۔محرم الحرام کے روایتی جلوس اور عزاداری کے اہتمام کے ساتھ وادی کے کئی علاقوں سے تعزیئے نکالے گئے۔اس سلسلے کی مناسبت سے مساجد، امام بارگارہوں اور دیگر مقدس مقامات پر مجالس عزا منعقد کی گئیں، جہاں علمائے کرام اور ذاکرین عظام نے حضرت امام حسینؓ کی سیرت طیبہ پر روشنی ڈالی۔
ادھر سیول لائنز میں آبی گزر سرینگر سے 10محرم الحرام کے سلسلے میں عاشورہ جلوس کی برآمد گی پر عائد پابندی کو انتظامیہ نے برقرار رکھا تھا جبکہ کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کیلئے سیول لائنز کے2پولیس تھانوں کوٹھی باغ اور مائیسمہ کے حدود میں پابندیاں ،بندشیں اور سخت ترین ناکہ بندی کی گئی ۔آبی گزر کی طرف جانے والے راستوں کو خار دار تاروں سے سیل کیا گیا ۔سیول لائنز میں ناکہ بندی کے باعث جمعہ کو کاروباری اور تجارتی سرگرمیاں متاثر ہو کر رہ گئیں جبکہ عام تعطیل کے باعث تعلیمی ادارے بھی بند رہے ۔
ادھر یوم عاشورہ یعنی 21ستمبر 2018کے روز زولجنا جلوسوں کے پیش نظر سرینگر پولیس نے ٹریفک ایڈوائزری جاری کی تھی۔اس دوران شہرخاص کے 5پولیس تھانوں رعناواری ، نوہٹہ،خانیار ،ایم آر گنج اور صفاکدل کے تحت آنے والے علاقوں میں بھی بندشیں اور پابندیاں عائد کی گئیں ۔
مرکزی جامع مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی جبکہ حریت(ع) چیئرمین میر واعظ عمر فاروق کو خانہ نظر بند رکھا گیا۔اس دوران پولیس نے جمعہ کو سیول لائنز میں عاشورہ جلوس نکالنے کی کوشش کے دوران کئی عزاداروں کو احتیاطی حراست میں لیا۔ بتایا جاتا ہے کہ سخت ترین بندشوں کے باوجود درجنوں عزادار لالچوک پہنچنے میں کامیاب رہےاور ‘یا حسین یاحسین، یا عباس یاعباس کی صدا بلند کرتے ہوئے آگے بڑھنے لگے،جس دوران انہوں نے10 محرم الحرام کے سلسلے میں عاشورہ جلوس نکالنے کی کوشش کی ۔یہاں پہلے سے تعینات پولیس کی بھاری نفری نے اس کوشش کو ناکام بنایا اور کئی عزاداروں کو حراست میں لیکر تھانہ نظر بند کیا ۔
بتایاجاتا ہے کہ حریت (گ) لیڈر نثار حسین راتھر درجنوں عزاداروں کے ساتھ بڈشاہ چوک لالچوک میں نمودار ہوئے ،جہاں سے انہوں نے آبی گزر سرینگر پہنچنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے راتھر سمیت درجنوں عزاداروں کو حراست میں لیا۔اس سے قبل سرینگر میں 10 محرم الحرام کے پیش نظر بند قدیم شہر کے پانچ پولیس تھانوں رعناواری ،نوہٹہ ،خانیار ،ایم آر گنج اور صفاکدل کے حدود میں بندشیں،پابندیاں اور سخت ترین ناکہ بندی کی۔سیول لائنز کے کوٹھی باغ اور مائسمہ تھانوں کے تحت علاقوں میں جزوی طور پر بندشیں اور پابندیاں عائد کی گئیں۔
اس دوران پولیس اور سی آر پی ایف کی بھاری نفری شہر میں تعینات کی گئی ۔سیول لائنز میں1989 میں انتظامیہ نے 8اور10 محرم الحرام کے ماتمی جلوسوں کی برآمدگی پر پابندی عائد کی گئی ،جو ہنوز جاری ہے ۔ان جلوسوں پر سیکیورٹی وجوہات کی بناء پر پابندی عائد کی گئی ہے ۔ادھریوم عاشورا کے موقعہ پر انجمن شرعی شیعیان کے اہتمام سے وادی بھر میں جلوس ہائے عاشورا برآمد کئے گئے ۔ عاشورا کا سب سے بڑا جلوس تنظیم کے سربراہ حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن کی قیادت میں جامعہ باب العلم میر گنڈ بڈگام سے برآمد ہوکر مرکزی امام باڑہ بڈگام میں اختتام پذیر ہوا۔نماز گاہِ عاشورا بہشت زہراؑ پارک میں دسیوں ہزار عزاداروں نے آغا سید حسن الموسوی کی پیشوائی میں نماز جمعہ ادا کی۔ اس موقعہ پر آغا حسن نہ معرکہ کربلا کے اسباب و علات بیان کرتے ہوئے کہا کہ امام عالی مقام کا مقدس قیام اسلامِ ناب کے دائمی تحفظ کیلئے ناگزیر تھاکیونکہ ایک فاسق اور بدکردار حکمران خلافت اسلامیہ کے منصب پر مسلط ہوچکا تھا جو حکومتی سطح پر قرآن و سنت کا تمسخر اڑاتا اور جبروتشدد کے بل پر مسلمانوں سے بیت کا تقاضا کررہا تھا۔ ایسی صورتحال میں جب حکومت کے خوف ودہشت سے ملت اسلامیہ پر سکوت چھایا تھا۔حاکم وقت کی انتہائی اسلام اور شریعت دشمن پالیسیوں کو ٹوکنے کیلئے حالات ایک عظیم قربانی کا تقاضا کررہے تھے۔ اس موقعہ پر آغاحسن نے ریاست جموں و کشمیر میں جاری بھارتی جبروبربریت اور مداخلت فی الدین کے حربوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے عاشور کے دن جامع مسجد سرینگر کو مقفل کرنے کی حکومتی کاروائی کو بھارتی سیکولرزم اور جمہوریت کے دعووں کی اصل حقیقت سے تعبیر کیا ۔ عاشورا کا دوسرا بڑا جلوس عاشورا امام باڑہ بوٹہ کدل گلشن باغ سے برآمد ہوکر خانقاہ میر شمس الدین اراکیؒ جڈی بل سرینگر میں اختتام پذیر ہوا جس کی سربراہی آغا سید منتظر الموسوی نے کی۔ جن دیگر مقامات پر تنظیم کے اہتمام سے جلوس ہائے عاشوار برآمد کئے گئے ان میں ضلع بڈگام کے گوجرہ، چھاترگام، یارستھرو، سایہامہ، بابا پورہ ماگام، وتہ ماگام بیروہ، اچھہ ہامہ کھاگ، چائرہ، غوطی پورہ، تالہ پورہ، بوگہ چھل، جہامہ ، اتنہ، سونہ پاہ، حیات پورہ، دندوسہ بٹہ چک، اسکندرپورہ، بٹہ پورہ، یائل راولپورہ، سٹھسو کلان، سنزی پورہ، کینہ ہامہ، شالنہ، ہردووامنہ بیروہ ، ضلع سرینگر کے گنڈ حسی بٹ،ضلع بانڈی پورہ کے گامدو، اندرکوٹ، اندکھلو، اوڑینہ، نوگام پائین، گنڈ نوگام، بڈی پورہ، چھانہ محلہ نوگام، ضلع بارہمولہ کے ملہ پورہ دسلی پورہ، سونم، کانل، یال، کھنہ پٹھ، زاڈی محلہ، اوچھلی پورہ، دیورہ، نورکھاہ قاضی پورہ، شاہدراہ کمل کوٹ اوڑی، دھنی سیداں ، چھولاں کلساں، ضلع پلوامہ کے وکھرون، پنیر جاگیر ترال،ضلع اننت ناگ کے چھترگل وغیرہ شامل ہیں۔
ادھر ایک بیان کے مطابق آبی گزر لالچوک سرینگر سے برآمد ہونے والے تاریخی جلوس عاشورا پر حکومتی قدغن کو نظر انداز کرتے ہوئے اور شہر سرینگر کی شدید ناکہ بندیوں کے بیچوں بیچ انجمن شرعی شیعیان جموں وکشمیر کے سینکڑوں کارکنوں نے مولانا آزاد روڑ پر اچانک نمودار ہوکر جلوس عاشورا برآمد کیا۔ انجمن شرعی شیعیان کے سینکڑوں کارکنوں نے حجۃ الاسلام آغا سید احمد الموسوی الصفوی کی سربراہی میں جلوس عاشورا برآمد کیا ۔ موقعہ پر موجود فورسز کی بھاری جمعیت نے جلوس کو منتشر کرنے کیلئے جلوس پر دھاوا بول دیا جس کے نتیجے میں کئی عزادار زخمی ہوئے۔ آغا سید احمد الموسوی الصفوی سمیت درجنوں عزاداروں کو گرفتار کرکے مختلف تھانوں میں مقید کیا گیا۔ اس دوران انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ اور سینئر حریت رہنما حجۃا لاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے بڈگام میں عظیم الشان جلوس عاشورا سے خطاب کرتے ہوئے لالچوک سرینگر میں عزاداروں پر پولیس تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ آغا حسن نے کہا کہ لالچوک سرینگر میں برآمد ہونے والے 8 اور 10 محرم کے تاریخی جلوس ہائے عاشورا وادی میں نہ صرف ملی اتحاد بلکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور رواداری کی علامتیں تصور کی جاتی ہیں۔ ان جلوسوں پر بلاجواز قدغن بنیادی انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ آغا حسن نے کہا کہ مذکورہ تاریخی جلوس ہائے عزا پر 3 دہائیوں سے متواتر قدغن سے کشمیر میں بھارتی سیلولرازم اور جمہوریت کی اصل حقیقت عیاں ہورہی ہے۔ ادھر جموں اور کرگل ،لہیہ میں بھی ماتمی جلوس برآمد ہوئے ۔