نقطہ نظر

بھارتی مسلمان علیحدہ بستیوں میں منتقل ہو رہے ہیں

بھارتی مسلمان علیحدہ بستیوں میں منتقل ہو رہے ہیں

کلدیپ نائیر
کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی کا یہ کہنا درست نہیں کہ سارے بھارت پر خاندانوں کی حکومت ہے یعنی مرکز میں اقتدار خاندانی سیاست کا ہے۔ صرف جواہر لعل نہرو کے خاندان کو خاندانی اقتدار کا موقع ملا ہے۔ نہرو نے 17 سال بھارت پر حکومت کی ان کی بیٹی اندرا گاندھی نے 18 سال حکومت کی اور اندرا کا بیٹا راجیو گاندھی 5 سال حکمران رہا۔ چنانچہ یہ خاندان 40 برس تک بھارت کے سیاہ سفید کا مالک رہا جو کہ اگست 1947ء میں آزادی کے بعد سے آدھے سے زیادہ وقت تک حکومت کرتا رہا۔
نہرو نے اس بات کا اہتمام کیا کہ ان کے بعد ان کی بیٹی حکومت کرے، بے شک ان کے فوراً بعد نہیں لیکن اپنی باری آنے پر ضرور حکومت بنائے۔ جب میں وزیر داخلہ لال بہادر شاستری کا انفارمیشن آفیسر تھا تو نہرو پر دل کی بیماری کا حملہ ہوا۔ تب میں نے شاستری سے کہا کہ وہ حکومت سنبھالنے کے لیے تیار ہو جائیں، لیکن شاستری کا کہنا تھا کہ ’’نہرو کے من میں تو ان کی پُتری ہے‘‘ اور ساتھ میں یہ بھی کہا کہ یہ آسان نہیں ہو گا۔ لیکن شاستری کا کہنا تھا کہ وہ پنڈت جی کو چیلنج نہیں کریں گے بلکہ واپس الہ آباد چلے جائیں گے، لیکن مرار جی ڈیسائی اندرا گاندھی کی حکمرانی قبول نہیں کریں گے۔ نہرو کی وفات کے بعد یہی ہوا۔
کامراج اس وقت کانگریس کے صدر تھے اور وہ نہرو کے پکے پیروکار تھے۔ اس نے اس کلید کا کھوج لگا لیا تھا جس سے کئی تالے کھلتے تھے۔ جنوبی ہند سے سنجیوا ریڈی‘ کلکتہ سے اٹولیا گھوش اور بمبئی سے ایس کے پاٹیل اپنی اپنی جگہ پر بہت اہمیت رکھتے تھے لیکن اس کے ساتھ ہی وہ شاستری کو قبول کرنے پر بھی تیار تھے البتہ شاستری نے خود کو زیادہ پر جوش انداز میں پیش نہیں کیا تا کہ دوسرے یہ نہ سمجھیں کہ ان کی حیثیت کم ہے۔
میں اس وقت انڈین ایکسپریس اخبار میں سیاسی وقایع نگار کے طور پر کام کر رہا تھا۔ اس وقت میں نے لکھا ’’1963ء کی موسم گرما کی رات کو 5 افراد اس الگ تھلگ بنگلے پر اکٹھے ہوئے جو کہ جنوبی ہند کے شہر تروپتی میں واقع تھا۔ ان میں سے ایک خاصے بھاری بھر کم جسم کا تھا‘ دوسرا کھلاڑی لگتا تھا‘ تیسرا تیز طرار‘ چوتھا دبلا پتلا جب کہ پانچواں ایک پہلوان نما شخص تھا۔ یہ تمام لوگ مختلف سمتوں سے آئے تھے تاکہ ان کا تعاقب نہ کیا جا سکے اور یہ اس میں کامیاب رہے۔ سڑکوں پر بھی زیادہ لوگ نہیں تھے۔ زیادہ تر لوگ سونے کے لیے گھروں میں جا چکے تھے تاکہ صبح سویرے مندروں کی گھنٹیاں بجتے ہی اٹھ سکیں۔
شاستری کی موت کے بعد اقتدار واپس نہرو خاندان کے پاس چلا گیا‘‘۔ راہول گاندھی اس اعتبار سے درست ہیں جب وہ وزیراعظم نریندر مودی پر نکتہ چینی کرتے ہیں کہ انھوں نے ملک میں عدم برداشت کی فضا پیدا کر دی ہے اور ملک کے سترہ فیصد سے زائد مسلمانوں کی کوئی حیثیت نہیں۔ ان کا وجود پبلک میں بھی محسوس نہیں ہوتا۔ اور ایسے لگتا ہے جیسے انھوں نے بھی اپنے ہی ملک میں اپنی بے حیثیتی کو تسلیم کر لیا ہے۔
دوسری طرف ہندوؤں نے مجموعی طور پر مسلمانوں کو تقسیم کا ذمے دار تصور کرتے ہوئے انھیں معاف نہیں کیا، حتیٰ کہ آج بھی جب کبھی پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی پیدا ہوتی ہے تو مسلمانوں کو عدم اعتماد کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ انھیں شہروں کی کچی آبادیوں کی طرف دھکیل دیا گیا ہے۔
جہاں تک ملازمتوں کا تعلق ہے تو ان کی تعداد ہاتھ کی انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے۔ مقابلے کے امتحانوں میں ان کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ جسٹس سچر کمیشن میں صاف کہا گیا تھا کہ مسلمانوں کی حالت دلتوں سے بھی بدتر ہے۔ ہندوؤں میں جو غربت کی دلدل میں پھنس جاتے ہیں انھیں بڑی منصوبہ بندی سے نکال لیا جاتا ہے لیکن مسلمانوں کو بے یارو مدد گار چھوڑ دیا جاتا ہے۔
مذہب کے نام پر تقسیم نے مسلمانوں کے گرد ایک لائن کھینچ دی ہے اور سب سے زیادہ نقصان جن کا ہوا ہے وہ مسلمان ہی ہیں۔ ان کے ساتھ نہایت تعصب کا سلوک کیا جا رہا ہے۔ پہلے تومسلمان بھی دوسری برادریوں کے ساتھ مل جل کر رہتے تھے مگر اب مخلوط آبادیاں کم سے کم رہ گئی ہیں اور مسلمان اپنی الگ بستیوں میں ہی خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں۔
وزیراعظم نریندرا مودی کی حکومت میں مسلمانوں کے ساتھ خلیج میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے اور مسلمانوں کا مخلوط کمیونٹی میں رہنا دوبھر ہو چکا ہے۔ آر ایس ایس کے لوگ اس بات کا خاص خیال رکھتے ہیں کہ پبلک سیکٹر میں کسی مسلمان کے پاس کوئی کلیدی منصب نہیں ہونا چاہیے۔ مجھے یاد آتا ہے کہ ایک مسلمان انجینئرمجھے سری نگر ایئرپورٹ پر اپنی گاڑی میں چھوڑنے آیا۔ اس نے مجھ سے شکایت کی کہ وہ ملازمت کی تلاش میں بنگلور تک گیا لیکن مسلمان ہونے کی وجہ سے اسے سرے سے ہی مسترد کر دیا گیا۔
بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کا کہنا تھا کہ دونوں ملک جو ہندو اور مسلم اکثریت کی عکاسی کرتے ہیں ان کے آپس کے تعلقات میں مذہب کا کوئی عمل دخل نہیں ہونا چاہیے۔ یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ اب بھارت میں کانگریس کی بھی وہ حیثیت نہیں رہی حالانکہ وہ سیکولر معاشرت کی نمایندہ ہے۔ راہول گاندھی کو زیادہ سے زیادہ احساس کرنا چاہیے کہ ان کی پارٹی اگراس روٹ پر کام کر کے سیکولر ازم کو معاشرے پر نافذ کرے۔
بھارت نے مہاتما گاندھی اور پنڈت جواہر لعل نہرو کی قیادت میں سیکولر جمہوری ملک کے قیام کے لیے جدوجہد کی تھی۔ اب بھی ہمارا فرض ہے کہ عوام کو جن میں ہندو اور مسلمان دونوں شامل ہیں یہ باور کرانا چاہیے کہ ان کی میراث مل جل کر رہنے کی ہے۔
یہ حیرت کی بات ہے کہ نہرو کے نام کو بھی بٹہ لگا دیا گیا ہے۔ آزاد خیال بی جے پی لیڈر اٹل بہاری واجپائی کے پر جوش پیرو کار تھے۔ ایک دفعہ جب واجپائی وزیراعظم تھے تو میں رکن پارلیمنٹ کی حیثیت سے ان کے کمرے میں ملنے گیا۔ انھوں نے بڑے فخر سے مجھے بتایا کہ انھیں وہی کرسی مل گئی ہے جو نہرو کے استعمال میں تھی۔ لیکن آج بی جے پی نہروکا نام ہی تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور نہرو میموریل سینٹر کا نام بدلا جارہا ہے۔ اگرچہ بعض اسکالر اس کوشش کی مزاحمت کر رہے ہیں مگر یہ معاملہ وزیراعظم کے دفتر کو بھیج دیا گیا ہے جس کا حتمی فیصلہ وہیں سے ہو گا۔
ان سب کو یاد رکھنا چاہیے کہ نہرو تحریک آزادی کا ایک نمایاں لیڈر تھا جنہوں نے برطانوی حکمرانی سے ملک و قوم کو نجات دلائی۔ آزادی کی اس جدوجہد میں نہرو کو کئی مرتبہ جیل کی ہوا کھانا پڑی مگر اس کے عزم میں کمی نہ آئی، ملک کی آزادی کی جدوجہد مسلسل جاری رہی۔
راہول گاندھی اس عظیم لیڈر کے خانوادے کا رکن ہیں وہ نہرو کی بیٹی اندرا کے پوتے ہیں اور اب یہ ان کا فرض ہے کہ وہ اپنے پردادا کی کتاب زندگی کا ایک ورق پھاڑیں لیکن اپنے خاندانی تسلط کو پروان چڑھانے کے لیے نہیں بلکہ ان خوبیوں کو اجاگر کرنے کے لیے جو تحریک آزادی کی جدوجہد میں بنیادی اہمیت رکھتی ہیں، یعنی جمہوریت اور سیکولرازم کی خوبیاں۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب بھارت کے عوام کانگریس پارٹی کی طرف راغب ہو سکیں گے۔ اہم چیز نظریاتی ورثہ ہے یعنی سیکولر ازم و جمہوریت۔
(ترجمہ: مظہر منہاس)