خبریں

بھارت سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب

بھارت سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب

بھارت سلامتی کونسل کی غیر مستقل نشست پر رکن منتخب ہو گیا جبکہ دوسری جانب ترکی کے ولکان بزکیر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر منتخب ہو گئے ہیں۔بھارت کو اقوام متحدہ کے192 میں سے 184 ممالک نے ووٹ دیے جس کے بعد بھارت یکم جنوری 2021 سے 31 دسمبر2022 تک کے لیے سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب ہوا ہے جبکہ آئرلینڈ، میکسیکو اور ناروے بھی غیر مستقل نشست پر سلامتی کونسل کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔ اس دوران ترکی کے ولکان بزکیر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر منتخب ہو گئے ہیں۔
بھارت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب ہوگیا ہے۔ اسے دو تہائی اکثریت کے لیے 192 رکن ممالک میں سے 128 ووٹ درکار تھے، لیکن اسے184 ووٹ ملے۔امریکہ کے شہر نیو یارک میں بدھ (17 جون) کو اقوام متحدہ میں سلامتی کونسل کے غیر مستقل اراکین کے لیے جنرل اسمبلی کی خفیہ ووٹنگ ہوئی جس میں ایشیا پیسیفک خطے سے بھارت آئندہ دو سال کے لیے منتخب ہوا ہے۔بھارت کے علاوہ آئرلینڈ، میکسیکو اور ناروے بھی سکیورٹی کونسل کے انتخابات میں سرخرو ہوئے ہیں۔ کینیڈا کو ان انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔بھارت آخری بار2010 میں سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب ہوا تھا جب اس نے 190 میں سے 187 ووٹ حاصل کیے تھے۔بھارت نے آٹھویں مرتبہ یہ رکنیت حاصل کر لی ہے۔ سکیورٹی کونسل میں اس کے نئے سفر کا آغاز جنوری سنہ 2021 سے ہوگا اور دسمبر 2022 میں اختتام پذیر ہوگا۔سنہ2002 میں بھارت کے اقوام متحدہ میں مستقل مندوب وجے نمبیار عراق میں مداخلت کے مسئلے پر اپنے ملک کا مؤقف بیان کرتے ہوئے یہ سب ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جبکہ بھارت کی شمالی سرحدوں پر اس کی اور چین کی فوجیں آمنے سامنے کھڑی ہیں اور جھڑپوں میں کئی فوجیوں کی ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے۔گو کہ پاکستان نے اس سے قبل کبھی بھارت کی رکنیت پر اعتراض نہیں اٹھایا تھا تاہم اس بار ایسا نہیں ہے اور پاکستان نے بھارت کی مستقل رکن یا غیر مستقل رکن بننے کی اہلیت پر اعتراضات اٹھائے تھے۔اس دوران ترکی کے ولکان بزکیر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر منتخب ہو گئے ہیں۔

اس دوران وزیراعظم نریندر مودی نے اقوام متحدہ سکیورٹی کونسل میں بھارت کی رکنیت کے لئے زبردست حمایت کرنے کے لیے عالمی برادری اور اقوام متحدہ رکن ملکوں کا شکریہ ادا کیا۔بھارت کو 2 سال کی مدت کے لیے اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے غیر مستقل ممبر کی حیثیت سے منتخب کیا گیا ہے۔بھارت کے ساتھ ساتھ آئر لینڈ، میکسیکو اور ناروے نے بھی ووٹنگ کے دوران سلامتی کونسل میں جیت حاصل کی۔ بھارت2021-2022 تک کی مدت کے لیے ایشیا بحرالکاہل زمرے سے ایک غیر مستقل نشست کے لیے امیدوار تھا۔ اس کی جیت یقینی تھی کیونکہ وہ اس گروپ سے واحد سیٹ کے لیے اکیلا امیدوار تھا۔ پچھلے سال جون میں55 رکنی ایشیا بحرالکاہل گروپ کی طرف سے بھارت کی امیدواری کی متفقہ طور پر توثیق کی گئی تھی۔ بھارت کی دو سال کی مدت ایک جنوری 2021 سے شروع ہوگی۔ یہ آٹھواں موقع ہے کہ جب بھارت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا غیر مستقل ممبر بنا۔ وزیراعظم اور وزیر داخلہ نے متفقہ طور پر بھارت کی حمایت کرنے کے لیے رکن ملکوں کا شکریہ ادا کیا۔وزیراعظم نریندر مودی نے اقوام متحدہ سکیورٹی کونسل میں بھارت کی رکنیت کے لئے زبردست حمایت کرنے کے لیے عالمی برادری اور اقوام متحدہ رکن ملکوں کا شکریہ اداکیا ہے۔ایک ٹوئیٹ میں انھوں نے اس بات کی توثیق کی کہ بھارت، عالمیامن، سلامتی اور مساوات کو فروغ دینے کی غرض سے تمام رکن ملکوں کے ساتھ مل کر کام کریگا۔وزیر داخلہ امت شاہ نے اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں متفقہ طور پر بھارت کی رکنیت کی حمایت کرنے کے لیے رکن ملکوں کا شکریہ ادا کیا ہے۔ ایک ٹوئیٹ میں وزیرداخلہ نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی جیسے مضبوط اور بصیرت کے حامل رہنماکی قیادت میں بھارت واسودھیو کٹمبکم کے اپنے منتر کو قائم رکھے گا۔
ادھر پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت کے سلامتی کونسل کا رکن بننے سے کوئی آسمان نہیں ٹوٹ پڑے گا۔انہوں نے کہا ’بھارت اس سے پہلے بھی7بار سلامتی کونسل کا عارضی رکن بن چکا ہے لیکن اس سے کشمیر کے مسئلے پر کوئی اثر نہیں پڑا۔‘ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہم اس موقع پر جو نکتہ اٹھانا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرنے والے ملک کو سلامتی رکن میں رکنیت نہیں ملنی چاہیے۔اس بار بھارت اور پاکستان میں ایسی باتیں ہو رہی ہیں کہ بھارت سلامتی کونسل میں اس مرتبہ غیر مستقل رکن بننے کا فائدہ اٹھا سکتا ہے، خاص کر سلامتی کونسل کا مستقل رکن بننے کی اپنی کاوشوں میں۔اب جبکہ بھارت نے جموں اور کشمیر ریاست کی آئینی حیثیت کو بدل دیا ہے تو چین اور پاکستان دونوں ہی اس متنازعہ پیش رفت کے بعد اس خطے کی ایک نئی جہت میں داخل ہوچکے ہیں، لیکن کیا بھارت واقعی اس رکنیت سے فائدہ حاصل کر سکتا ہے؟۔غیر مستقل رکن!:بھارت گذشتہ دہائی سے سلامتی کونسل کا مستقل رکن بننے کی کوشش کر رہا ہے جس کے لیے وہ اقوام متحدہ میں اصلاحات کی کوششوں میں پیش پیش ہے،لیکن اب تک کی پیش رفت اور کووِڈ۔19 کی وجہ سے جس طرح کی رکاوٹیں پیدا ہوگئی ہیں، ان سے یہ نظر آرہا ہے کہ ہنوذ دلّی دوراست۔