مضامین

بھارت پاک کشید گی اور مسئلہ کشمیر

14فروری کو لیتہ پورہ پلوامہ میں کشمیر کی عسکری تاریخ کا سب سے خونین حملہ ہو نے کے بعد پہلے سے ہی کشیدہ بھارت پاک تعلقات میں مزید کڑواہٹ پیدا ہو ئی اور بھارتی اسٹیبلشمنٹ میں اس حملے کے بعد سے زبر دست ہیجانی کیفیت عیاں ہوئی۔ایک طرف اس حملے میں مارے جانے والے 40سے زیادہ سی آر پی ایف اہلکاروں کی ہلاکت پر بھارتی افواج کے ایک بڑے طبقے میں پاکستان کے خلاف بدلے کی آگ یکا یک بڑھک اٹھی اور دوسری جانب بھارتی مین سٹریم میڈیا نے جلدی پر تیل چھڑک کر پہلے سے ہی سخت گیر نظریا ت کی حامل بھارتی سیا سی قیادت خاص کر بی جے پی کے لیڈران کو پاکستان کو سبق سکھا نے اور مارے گئے فورسز اہلکاروں کے خون کا بدلہ لینے پر ابھارا۔نتیجہ یہ ہوا کہ وزیراعظم نریندر مو دی کی قیادت میں این ڈی اے سر کا ر نے یکے بعد دیگرے میٹنگیں کر کے اپنی افواج کو کھلی چھوٹ دے دی کہ وہ جب چاہیں اور جیسے بھی چاہیں پاکستان کے خلاف کارروائی کر کے مارے گئے نیم فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کا بدلہ لے لیں ۔ایک طرف یہ سب ہیجان چل رہا تھا کہ اس بیچ بھارت کی مختلف ریاستوں میں کاروبار ،روزی روٹی یا پڑھائی کے سلسلے میں مقیم یہاں کے باشندوں کو اس ساری صورتحال کا خمیازہ بھگتنا پڑا ۔ راجستھان، دہرادون ،ہریانہ،بہار ،اتر پر دیش اور باقی دیگر ریا ستوں میں مقیم کشمیریوں کو کہیں کاروبار سمیٹنے کی دھمکیاں دی گئیں اور کہیں کشمیری طلباء کو کالجوں سے نکلنے کا حکم دیا گیا ۔حد تو یہ ہے کہ جو کشمیری باہر کی ریاستوں میں کرایہ پر رہتے تھے انہیں وہاں سے کھدیڑ کر سر راہ لایا گیا۔سوشل میڈیا پر کشمیریوں کیخلاف چھیڑی گئی ایک نفرت انگیز جنگ کے بیچ کئی کشمیریوں کا زد و کوب بھی کیا گیا اور یوں سینکڑوں کشمیری طالب علموں کو آناً فاناً گھر لوٹ آنا پڑا۔
ابھی پلوامہ حملے کو ایک دو ہفتے ہی گزرے تھے کہ بھارتی فضائیہ نے 26فروری کی صبح ایک چونکا دینے والا اعلان کرکے پاکستان کے اندر بالاکوٹ علاقے میں فضائی حملے کر کے جیش محمد نامی ملی ٹنٹ تنظیم کے ایک تربیتی کیمپ کو تباہ کر نے کی خبر دی اور اتناتک کہا گیا کہ ان حملوں میں 3سو سے 4کے قریب ملی ٹنٹ ،اور ان کے تربیت کا ر و کمانڈر مارے گئے ۔بحر حال معاملہ کچھ بھی ہو تاہم پاکستان نے ان حملوں میں کسی ہلاکت سے تردید کر تے ہو ئے اس کے چوبیس گھنٹے سے کم مدت میں جوابی حملہ کیا اور اس دوران ہونے والی فضائی لڑائی میں بھارت کے دو تیاروں کو مار گرانے کا دعویٰ کیا جبکہ بھارتی فضائیہ کا ایک پا ئیلٹ ابھی نندن ورتھمان بھی پاکستانی افواج کے ہا تھوں گرفتار ہوا ۔ابھینندن کی گرفتاری کے محض 24گھنٹوں کے بیچ پاکستانی حکو مت نے اسے خیرسگالی جزبے کے تحت واپس اپنے ملک بھیجنے کا فیصلہ کیا اور یوںگزشتہ شام اس فیصلہ پر عملدر آمد بھی ہوا۔پاکستان کے فیصلۂ خیر سگالی پر جہاں پاکستانی عوام اور میڈیا نے اسے ایک خوش آئیند قدم قرار دیا وہیں بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستانی حکو مت کے اس فیصلے کی سراہناکی گئی تاہم جنگی جنون میں مست بھارتی میڈیا کا ایک حصہ جنگ کے شعلوں کو لگاتار ہوا دے رہا ہے اور میڈیا کا یہ سیکشن اسے پاکستانی کی کمزوری سے تعبیر کر تا آرہا ہے اور اس بات کا ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے کہ بھارتی حکو مت نے عمران خان کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے ۔خیر بات کچھ بھی ہو تاہم اس بیچ جو سوال پیدا ہو تا ہے وہ یہ ہے کہ بھارت اور پاکستان کے بیچ ہمیشہ سے تنائو کا باعث بننے والے مسئلہ کشمیر کا کیا ہو گا ۔کشمیر اور یہاں کے عوام بھی اگرچہ بھارت اور پاکستان کے بیچ تنائو کی کمی اور بہتر تعلقات کے خواہشمند ہیں تاہم یہاں ہر کسی کی زبان پر ایک ہی سوال ہے اور وہ یہ کہ دونوں ملک مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کب سنجیدہ کو ششیں کرینگے اور ان دونوں ملکوں کے تعلقات میں لگاتار کشید گی کا باعث بننے والا یہ مسئلہ کب حل ہو گا ۔
ریاست جموں و کشمیر خاص کر وادی کے جنوبی علا قے پچھلے کئی سال سے لگاتار شورش بلکہ جنگ جیسی صورتحال سے گزر رہے ہیں۔آئے دن فوج اور ملی ٹنٹوں کے بیچ ہو نے والی جھڑپوں میں نہ صرف ملی ٹنٹ اور فوجی اہلکار ما رے جا رہے ہیں بلکہ عام شہریوں کی ایک بڑی تعداد بھی گزشتہ کئی بر سوں سے اپنی جا نیں گنواں بیٹھی ہے۔اس دوران تعلیمی اداروں کے لگاتار بند رہنے کے باعث تعلیمی سطح پر بھی یہاں کے عوام ایک عظیم نقصان سے دوچار ہورہے ہیں ۔اسی صورتحال کے بیچ کشمیر کے کونے کونے سے یہی آوازیں آرہی ہیں کہ بھارت اور پا کستان کو مل بیٹھ کر اپنی رنجشوں کو دور کر نے کے ساتھ ساتھ 70سال سے حل طلب مسئلہ کشمیر پر با ت کرکے حل کی کو ئی راہ نکال لینی چاہئے تاہم جیسا کہ ہم پہلے ہی بتا چکے ہیں کہ سخت گیر قوم پرستانہ نظریا ت کی حامل بی جے پی اس سلسلے میں ایک قدم بھی آگے بڑھنے کے لئے تیا ر نہیں ہے اور ایک ایسے وقت میں جبکہ بھارت میں لوک سبھا انتخابات کے انعقاد میں کچھ مہینے ہی باقی ہیں بھارتیہ جنتا پارٹی اپنی قوم پرستی کی امیج میں کسی قسم کی خلش آنے کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ویسے بھی بھارت اور پاکستان کی قومی سیا ست میں انتخابات کے دوران مسئلہ کشمیر اور اس سے جڑے عوامل پارٹیوں کے ہاتھوں کا ایک قیمتی مہرہ بن جاتا ہے اور اسی بنیاد پر اکثر و بیشتر دونوں ملکوں کی پارٹیاں انتخابات جیت یا ہا ر جا تی ہیں ۔
ایسی صورتحال میں بھارتیہ جنتا پا رٹی پچھلے 4سال سے پیدا کئے گئے قوم پرستانہ بنانیے کو اپنے قابو میں رکھنے کے لئے مذ ید سخت گیر لائحہ عمل اپنا نے میں ہی اپنی عافیت سمجھے گی اور یوں ایسی صورتحال میں مسئلہ کشمیر پر دونوں ملکوں کے بیچ کسی بھی قسم کی کو ئی پیش رفت ہو نا ابھی قیا س سے بھی با ہر ہے ۔ بھارتیہ جنتا پا رٹی نے اپنے چار سالہ دور اقتدار میں ہر وقت اور ہر مو ڑ پر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ایک سخت گیر پا لیسی اپنا ئی ہوئی ہے اور پا رٹی سمجھتی ہے کہ کشمیر میں جا ری علیحدگی کی تاریخ کو بزور بازو ہی کچل دیا جا سکتا ہے تاہم اس عرصہ کے دوران یہاں کے زمینی حالات میں پیدا ہو نے والی خرابی اس بات کا عندیہ دیتی ہے کہ بھارت کی مر کزی حکو مت کی کشمیر کے حوالے سے Hawkishآئیڈیالوجی ابھی تک مطلوبہ اہداف کے حصول میں کا میاب کیا اس سمت میں ایک قدم بھی آگے نہیں چل پا ئی ہے ۔شاید یہی وجہ ہے کہ ریا ست میں پی ڈی پی اور بی جے پی کے درمیان مخلوط حکومت بھی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی اور دونوں پا رٹیوں کو اپنی راہیں الگ کر نا پڑیں ۔بھارتیہ جنتا پا رٹی کے کشمیر سے متعلق اپنا ئے گئے سخت گیر روئے کی وجہ سے اگر چہ اسے بھارت کے اندر اور باہر کئی موقعوں پر تنقید کا نشانہ بننا پڑا ہے تاہم یہ بات بھی سچ ہے کہ مسئلہ کشمیر کے ایک وکیل کی حیثیت سے پاکستان بین الاقوامی سطح پر اسکا کوئی فائدہ اٹھا نہیں سکا ہے جسکی سب سے بڑی وجہ شائد پاکستان کی خارجہ پالیسی کی کمزوری ہے۔اس کے علاوہ ایک اور وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ پوری دنیا میں اس وقت جا ری حالا ت کے تنا ظر میں کئی طاقتیں جن میں پاکستان کا کل مو سمی دوست چین بھی شامل ہے بھارت کو ایک بڑے بین الاقوامی پلئیر کی حیثیت سے دیکھ رہی ہیں اور ان بڑی طاقتوں میں ہر کو ئی مسئلہ کشمیر یا پھر پاکستا ن کی دوستی کے بدلے میں بھارت جیسی ابھر نے والی اقتصادی طاقت کیساتھ اپنے تعلقات خراب نہیں کر نا چا ہتی ۔
پاکستان میں بھی اکثر سیا سی جماعتیں مسئلہ کشمیر کو ایک انتخابی ٹرمپ کارڈ کی حیثیت سے استعمال کر تی آئی ہیں اور حکومت ملتے ہی وہاں کے حکمران اپنے داخلی اور خارجی امور میں اس قدر کھو جا تے ہیں کہ مسئلہ کشمیر انہیں تب تک یاد نہیں آتا جب تک کہ پلوامہ یا اس سے ہی مماثل کو ئی دوسرا واقعہ پیش نہیں آتا۔ اچانک اور غیر متوقع طور کسی صورتحال میں پھنس جا نا کسی بھی فرد واحد یا قوم کے لئے ایک اچھنبے کی بات ہو تی ہے اور اگر آپ پہلے سے اس صورتحال کے لئے تیا ر نہیں ہو تے تو پھر آپکے ذریعے ہو نے والے فیصلے یقینا کمزور رہتے ہیں اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بھی معاملہ کچھ ایسا ہی ہے ۔بحر حال اس ساری صورتحال کا کلی نتیجہ یہ ہو تا ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے ہوا میں معلق مسئلہ کشمیر طول پکڑتا جا رہا ہے اور کشمیر میں کشت و خون کا ج ولا امتنا ہی سلسلہ 1989میں شروع ہوا تھا اس میں آئے روز اضافہ ہی ہو تا جا رہا ہے اور صورتحا ل نے بد قسمتی سے اب اس قدر خوفناک رخ اختیا ر کر لیا ہے کہ ہمارا تعلیم یافتہ اور ایساطبقہ جس پر ہم مستقبل کے حوالے سے تکیہ کرسکتے تھے اس مسئلے کی بھینٹ چڑ رہا ہے۔