نقطہ نظر

بھارت کی اجتماعیت کے لیے چیلنج

کلدیپ نائر
دہلی کے آرچ بشپ انیل جوزف تھامس گوٹو اپنے ساتھی عیسائیوں کو یہ بات کہنے میں جتنے بھی حق بجانب کیوں نہ ہوں کہ مرکز میں حکومت کی تبدیلی کے لیے دعا کریں مگر انھوں نے سیاست میں مذہب کو خلط ملط کرکے بہت بھاری غلطی کی ہے۔ پاسٹر کی طرف سے بھیجے گئے مکتوب میں انھوں نے اپنے ساتھی پادریوں سے کہا ہے کہ وہ 2019ء کے انتخابات میں تبدیلی کے لیے عبادت کریں اور روزہ رکھیں کیونکہ بھارت کو آیندہ کی سیاست میں ملک کی جمہوریت کے لیے بہت بڑا خطرہ درپیش ہے۔
آج جب بھارت کو قومی اعتبار سے انتہا پسند اور متعصب تنظیموں کی طرف سے خطرہ ہے لہٰذا مذہبی رہنماؤں کا فرض ہے کہ وہ اس خطرے کے خلاف کھل کر بات کریں کیونکہ یہ بھارت کے صحت مند معاشرے کے لیے اچھی بات نہیں ہے لیکن اگر مختلف برادریوں کے مذہبی رہنما سیاسی میدان میں اتر آئیں گے تو وہ سیاست سے اپنا فاصلہ برقرار نہ رکھ پائیں گے جو کہ انھیں رکھنا چاہیے۔
وزیراعظم نریندر مودی جو ہندو جنونیت کا تمغہ سینے پر سجائے پھرتے ہیں انھوں نے عوام کو اس قدر تقسیم کردیا ہے جتنا پہلے کبھی نہ تھا۔ اس حد تک کہ بہت سے مسیحی لیڈروں نے بھارتی جنتا پارٹی کی حکومت پر متعصب ہندو عناصر کی کھلم کھلا حمایت کا الزام لگایا ہے جوکہ بھارت کو ایک ہندو ریاست کے روپ میں ڈھالنا چاہتے ہیں۔ اس حوالے سے انھیں دیگر مذہبی اور نسلی برادریوں کی کوئی پرواہ نہیں۔ انھوں نے یہ الزام بھی لگایا ہے کہ مودی کے برسراقتدار آنے کے بعد مسیحیوں پر حملے بڑھ گئے ہیں۔ 2017ء میں عیسائیوں کے خلاف 736 حملے ریکارڈ میں شامل ہیں جب کہ 2016ء میں ان حملوں کی تعداد 348تھی۔ یہ اعدادو شمار باقاعدہ ریکارڈ سے حاصل کیے گئے ہیں۔
ہم ملک کی سیاسی فضا میں ایسے حالات دیکھ رہے ہیں جس سے ہمارے آئین کے طے شدہ اصولوں کے لیے خطرہ ہے اور قوم کا سیکولر لبادہ تار تار ہو رہا ہے۔ اس بات کا تحریری اظہار کرسچین پروٹیکٹر نے کیا۔ یہ ہمارا نام نہاد طرز عمل ہے کہ ہم ملک اور اس کے لیڈروں کے لیے دعاگو رہتے ہیں لیکن ایسا بالعموم اس وقت کیا جاتا ہے جب عام انتخابات سر پر آجاتے ہیں۔
پاسٹر نے جو مکتوب لکھا ہے اس میں قوم کے تحفظ کے لیے خصوصی عبادت پر زور دیا گیا ہے۔ اس میں عیسائیوں کے اداروں اور کیتھولک انسٹیٹیوشنز سے اپیل کی گئی ہے کہ ہر جمعہ کے دن خصوصی عبادت کا اہتمام کریں۔ اور ان مشکل حالات میں ہمارے سیاسی رہنما تاریکی کے ان بادلوں کے چھٹ جانے کی خلوص دل سے دعا مانگیں تاکہ سچائی، انصاف اور آزادی کی روشنی کے لوٹ آنے کا اہتمام کیاجا سکے۔
دہلی کے آرچ بشپ نے بھارت کے کیتھولک اور کرسچین لیڈرز کا خیر مقدم کرتے ہوئے توقع ظاہر کی ہے کہ دیگر برادریاں بھی اس موقع پر اسی طرح تقلید کریں تاکہ ملک ان مصائب کی آماجگاہ سے باہر نکل سکے۔ مسلمان لیڈروں کو خاص طور پر بھارت کے آئینی تقاضوں کو پورا کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ جیسے کہ تقسیم سے قبل مسلم لیگ کے لیڈروں کا وتیرہ تھا۔ حیدر آباد سے لوک سبھا کے رکن اسد الدین اویسی نے پہلے ہی تقسیم سے قبل کے مسلم لیگی لیڈروں کے انداز میں بولنا شروع کر دیا۔ شاید دوسری اقلیتی برادریاں بھی اپنے مسائل کے اظہار کے لیے یہی طریقہ اختیار کریں اور ملک کے آئین کو جو چیلنجز درپیش ہیں ان سے نمٹنے کی راہ نکالیں۔
اسد الدین اویسی کو یقین ہے کہ فرقہ وارانہ ماحول غالباً اسے ملک گیر اہمیت دے سکتا ہے لیکن انھیں چاہیے کہ وہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے اتحاد کی بات کریں۔ حال ہی میں، میں نے علی گڑھ کا دورہ کیا اور مسلم یونیورسٹی کو دیکھ کر مجھے خوشی ہوئی کیونکہ وہ خود کو بھارت کا شہری قرار دیتے ہیں۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اپنی قدیمی روایات پر قائم ہے اور اسلامی اتحاد کے لیے پروگرام وضع کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ وہاں پر دو روزہ کانفرنس میں مجھے یہ دیکھنے کا موقع ملا کہ بھارتی مسلمان خود کو مستقبل میں کس شکل میں دیکھتے ہیں۔
کانفرنس کے مقررین میں سے ایک مقرر کا تعلق مصر سے تھا جس کا کہنا تھا کہ ہمیں ساری دنیا کے لیے متحدہ اسلام کا نظریہ پیش کرنا چاہیے۔ جہاں تک بھارت میں بڑھتے ہوئے ہندو غلبہ کا تعلق ہے تو اس کا مقابلہ بڑھتے ہوئے اسلامی غلبہ سے نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی بڑھتے ہوئے مسیحی غلبہ سے کرنا چاہیے۔
آرچ بش نے ملک میں ہم آہنگی کی خاطر جس دعا کا ذکر کیا ہے اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ ملک کی اقلیتوں کی 80 فی صد ہندو آبادی کے ساتھ کس قدر ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے۔ ہماری اقلیتوں کو اس موقع سے فائدہ اٹھا کر ہم آہنگی کو فروغ دینے کی کوشش کرنی چاہیے اور یہاں میرا اشارہ کسی مخصوص کمیونٹی کی طرف نہیں ہے۔ اویس الدین کے بیان سے ہمیں یہ اندازہ بھی ہوتا ہے کہ ہم سیکولرازم کے اپنے آئینی وعدے سے کس قدر دور جاچکے ہیں۔ یہ وعدے ہم نے آزادی کی قومی تحریک میں بھی کیے تھے۔ لہٰذا آرچ بشپ کے بارے میں ہمیں ایسا ہرگز نہیں سوچنا چاہیے کہ انھوں نے ملک میں فرقہ وارانہ تقسیم کی بات کی ہے بلکہ ان کا مقصد اس سے برعکس ہے۔
یہ وہی منظر نامہ ہے جو پوپ کے میکسیکو کے دورے کے موقع پر سامنے آیا تھا جو امریکا کے صدارتی انتخابات سے پہلے کیا گیا تھا۔ پوپ نے اس موقع پر کیتھولک عیسائیوں کی ایک بڑی عبادت کا اہتمام کیا جس میں میکسیکو کی جانب سے دو لاکھ سے زیادہ افراد شریک ہوئے جب کہ اس میں 50 ہزار امریکن بھی شامل تھے جو سرحد کی دوسری طرف سے آئے تھے۔ یہ ایسا موقع تھا جس کا امریکا کی سیاست پر بھی بہت اثر ہوا۔ یہ وہ وقت تھا جب امریکا اپنا نیا صدر منتخب کر رہا تھا۔
مجھے یاد آتا ہے کہ اس انتخابی بحث میں تارکین وطن کا موضوع سرفہرست تھا۔ لیکن پوپ کے بارے میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ اس موقع پر تاریکن وطن کے مسئلے کو اجاگر کرنا چاہتے تھے۔ امریکی صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی تارکین وطن کی پالیسی کے باعث وہ موضوع زیر بحث تھا۔ ٹرمپ کی انتخابی تقریر میں اس نے دعویٰ کیا تھا کہ اگر میں منتخب ہوگیا تو میں میکسیکو اور امریکا کے درمیان ڈھائی ہزار کلو میٹر لمبی دیوار بنا دوں گا۔ اس کے ساتھ ہی یہ اعلان بھی کیا کہ میں 11 ملین غیر قانونی تارکین وطن کو امریکا سے ڈی پورٹ کر دوں گا۔
پوپ نے میکسیکو میں جو بیان دیا اس کا مطلب بھی کسی حد تک ٹرمپ کے بیان سے ملتا جلتا تھا۔ پوپ نے کہا جو شخص پل بنانے کے بجائے دیواریں کھڑی کرنے کی بات کرتا ہے وہ صحیح معنوں میں مسیحی نہیں ہے۔ بہرحال پوپ نے بعد میں کہا کہ وہ ووٹ دینے یا نہ دینے کے بارے میں کچھ نہیں کہیں گے کیونکہ میں سیاست میں ملوث نہیں ہونا چاہتا۔ میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ آدمی (ٹرمپ) اگر ایسی باتیں کرتا ہے تو وہ مسیحی نہیں ہے۔
وہ شخص جس قسم کی باتیں کرتا ہے وہ عیسائیوں والی باتیں نہیں ہیں۔ وہ ہر قیمت پر انتخاب جیتنا چاہتا ہے۔ پوپ نے تو ٹرمپ کو سیاسی جانور تک کہہ دیا۔ 2013ء میں تو پوپ نے یہ بھی کہا تھا کہ ایک اچھا کیتھولک سیاست میں شامل ہوگیا ہے۔ پوپ کا کہنا تھا کہ یہ ان کا مذہبی فریضہ ہے کہ وہ اس قسم کے لوگوں کی نشاندہی کریں۔ شاید دہلی کے آرچ بشپ نے پوپ کی بات سے ہی اپنا مطلب اخذ کیا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے بھارت کو اس کی ضرورت نہیں۔ بھارت کا مقصد ہے کہ ملک میں سیکولر سیاست کو مضبوط کیا جائے۔ آر ایس ایس انتہا پسندوں کو تقویت دینے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ بھارت میں ہندوتوا کے ایجنڈے کو کامیاب بنایا جاسکے۔
(ترجمہ: مظہر منہاس)