نقطہ نظر

بیتے سال کی یادتیں

تلخ اور شرین یادوں کے ساتھ سال2018 ہم سے رخصت ہو ہی گیا اور نئے سال کا سورج بھی طلوع ہوگا۔ گردش لیل ونہار سے یا ستاروں اور سیّاروں کے اپنے اپنے محور کے گرد چکر لگانے سے ماہ وسال کے بدلنے سے یا کسی گزرنے اور نئے سال کے آنے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتاہے۔ فرق اس سے پڑتا ہے کہ گزرنے والا سال ہمیں کیا دے کر جارہا ہے اور نیا سال ہمارے لئے کیا لا رہا۔ اگر گذرنے والے سال پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالی جائے تو احساس ہوگا کہ یہ سال بھی خوشیاں کم،مگر غموں کی بھرمار دے کرگذر گیا ۔اس سال سیاسی اتھل پتھل ،تشدد ،ہند پاک مخاصمت اور اسکے بعد دوستی کے علاوہ مقامی سطح پر زندگی کے سبھی شعبوں کیلئے بڑا ہنگامہ خیز ثابت ہواجس نے اپنے گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔اس سال ۔ ٹنل کے آر پار تشددکے واقعات، جنگجویانہ کارروئیوں اور فورسز کی فائرنگ سے501ہلاکتیں وقوع پذیر ہوئیں جن میں چھ خواتین سمیت136 عام شہری 249جنگجو اور116۱پولیس و فورسز اہلکار شامل ہیں۔شہری ہلاکتوں میں قریب58نوجوان سرکاری فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان تصادم آرائیوں کے نزدیک گولیوں کے شکار ہوئے،جبکہ بیشتر واقعات میں پولیس نے مہلوک شہریوں کو مشتعل ہجوم کاحصہ اور سنگباز بھی قرار دیا ۔
2018 میں دردزہ میں مبتلا خاتون کے علاوہ معصوم طالبہ سمیت6خواتین کو ابدی نیند سلا دیا گیا،جبکہ درجنوں زخمی بھی ہوئیں۔2018 میں13مرتبہ نماز جمعہ کے موقعہ پر جامع مسجد کے ممبر و محراب اور میناروں سے اذان نہیں گونجی۔وادی میں 2018 بھی ہڑتالوں کا سلسلہ جاری رہا،جس کے دوران49مرتبہ وادی بھر میں ہڑتال سے عام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔
سال2018نے بھی کشمیری عوام کو سوز جگر اور درد دیا اور یوں سال بھر کشت و خون کا سلسلہ جاری رہا،جبکہ خونین جھڑپوں کے دوران عساکر اور عام شہریوں کے خون سے سڑکیں تر بہ تر ہوتی رہیں۔
جنوبی کشمیر کئی بار خون میں غلطان ہوا،اور بیشتر اوقات رنج و الم کا ماحول نظر آیا۔ خونین جھڑپوں میں کئی سرکرہ کمانڈر بھی جان بحق ہوئے،جن میں حزب کمانڈراں صدام پڈر، ڈاکٹر منان،ڈاکٹر رفیع،ڈاکٹر سیف اللہ، الطاف ڈار عرف کاچرو،سمیر ٹائیگر،نوید جھٹ،جیش چیف مفتی وقاص،انصار غزوۃ الہند کے ڈپٹی چیف صالح محمد،معراج الدین بنگرو،شوکت ٹاک،شکور احمد ڈار سمیت دیگر کمانڈر بھی شامل ہیں۔ اس دوران معروف صحافی سید شجاعت بخاری اور مزاحمتی لیڈر میر حفیظ اللہ بھی گولیوں کا نشانہ بنے۔
سال کے ابتدائی مہینے جنوری میں مجموعی طور پر20افراد گولیوں اور دھماکوں کی نذر ہوگئے،جن میں9عسکریت پسند جان بحق ہوئے،جبکہ7عام شہریوں کو بھی اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔عسکری حملوں میں4اہلکار بھی ہلاک ہوئے۔دستیاب اعداد شمار کے مطابق فروری میں مجموعی طور پر13افراد لقمہ اجل بن گئے،جن میں4عسکریت پسندوں کے علاوہ5سرکاری فورسز اہلکار اور4شہری بھی شامل تھے۔
مارچ2018 میں30افراد کو گولیوں نے نگل دیا،جن میں18عسکریت پسندوں کے علاوہ5عام شہری اور سرکاری فورسز کے7 اہلکار بھی شامل ہے۔
2018 کےاپریل ماہ سب سے خونین ثابت ہوا۔ مجموعی طور پر اپریل نے41انسانی جانوں کو نگل لیا،جن میں20عسکریت پسندوں کے علاوہ18عام شہری اور6سرکاری فورسز کے اہلکار بھی شامل تھے۔
مئی 2018میں بھی آتشی ہتھیاروں نے رکنے کا نام نہیں لیا،اور دہلی کی طرف سے رمضان جنگ بندی کے باوجود وادی کی سڑکیں انسانی لہو سے تر ہوتی نظر آئیں۔ مجموعی طور پر39ہلاکتیں ہوئیں،جن میں19جنگجوؤں کے علاوہ14عام شہری اور6فورسز اہلکار بھی شامل تھے۔
جون میں بھی خون کا سلسلہ جاری رہا،اور اس ماہ میں39افراد مجموعی طور پر گولیوں کا نشانہ بنے۔مہینہ بھر میں20عساکروں کے علاوہ11عام شہری اور8سرکاری فورسز کے اہلکار بھی شامل تھے۔
جولائی میں مجموعی طور پر12عسکریت پسندوں اور7شہریوں کے علاوہ8فورسز اہلکاروں سمیت27لوگ لقمہ اجل بن گئے تھے۔
اگست میں مجموعی طور پر وادی کے جنوب و شمال میں46افراد از جان ہوئے،جن میں22جنگجوؤں کے علاوہ17عام شہری اور7فورسز اہلکار بھی شامل تھے۔
ستمبر میں مجموعی طور پر48افراد از جان ہوئے تھے۔ مہلوکین میں32جنگجوؤں کے علاوہ8شہری اور8سرکاری فورسز اہلکار بھی شامل تھے۔ا س ماہ میں قریب10مکانات کو بھی آتش گیر مادہ سے اڑا دیا گیا۔دستیاب اعدادشمار کے مطابق اکتوبر میں مجموعی طور پر48افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔ہلاک شدگان میں26عسکریت پسندوں کے علاوہ13عام شہری اور9سرکاری فورسز اہلکار بھی از جان ہوئے۔
نومبر میں مجموعی طور پر49افراد کی جانیں گئیں تھی،جس میں36عسکریت پسندوں کے علاوہ5سرکاری فورسز اہلکار اور8عام شہری بھی شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق دسمبر میں9افراد گولیوں کا نشانہ بنے جن میں17عسکریت پسندوں کے علاوہ8شہری اور7 اہلکار بھی شامل ہیں۔
سال2018 کے دوران دردزہ میں مبتلا خاتون کے علاوہ معصوم طالبہ سمیت6خواتین کو ابدی نیند سلا دیا گیا،جبکہ درجنوں زخمی بھی ہوئیں۔24جنوری کوشوپیاں کے چھی گنڈ علاقے میں فائرنگ کے دوران زخمی ہونے والی دوشیزہ سائمہ وانی 10فروری کو 15روز بعدزخموں کی تاب نہ لاکر چل بسی۔ ’ صائمہ وانی کے سر میں گولی لگی تھی۔ اس واقعہ میں سمی جاج نامی دوشیزہ بھی زخمی ہوئی تھی۔ غور طلب بات یہ ہے کہ جس مکان میں جھڑپ ہوئی تھی وہ صائمہ کا ہی مکان تھا۔ضلع کولگام کے ہاؤرہ مشی پورہ میں7جولائی کو فو رسزکی فائرنگ سے کمسن طالبہ عندلیب جان جاں بحق ہوئی تھی۔ پولیس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دوشیزہ ’’مشتعل ہجوم‘‘ کا حصہ تھی اور فوج کی طرف سے دفاع میں چلائی گئی گولی کا شکار بنی۔
بشری حقوق کے مقامی کمیشن میں ہلاکت سے متعلق پولیس رپورٹ میں کہا گیا کہ گشتی پارٹی نے دفاع میں گولیاں چلائی،جس میں دو لڑکیاں عندلیب جان دختر علی محمد الائی اور کوثر جاں دختر محمد شفیع الائی زخمی ہوئیں،جس کے بعدعندلیب جاں بحق ہوئی۔19اکتوبر کو پلوامہ کے شادی مرگ گاؤں میں دردزہ میں مبتلا ایک خاتون فردوسی زوجہ خورشید احمد شیخ کراس فائرنگ کے دوران جان بحق ہوئیں تھی24نومبرکو کا ونی گنڈ کولگام میں فورسز اور جنگجوؤں کے درمیان زخمی دوشیزہ مسکان بھی دم توڑ بیٹھی۔17اگست کو دربگام پلوامہ میں نامعلوم جنگجوؤں نے 38سالہ خاتون شمیمہ زوجہ علی محمد ساکن قوئل کو نزدیک سے گولیاں مار کر ابدی نیند سلادیا۔ اس طرح سے 2018 ہم سے رخصت تو ہو گیا مگر ایسی تادیں چھوڑ گیا جس کو کشمیری قوم ہمیشہ ہمیشہ کے لئے یاد رکھیں گے ۔