سرورق مضمون

بی ڈی سی چیرمین کی ہلاکت کے باوجود خالی پنچایتی نشستوں پر انتخابات کا فیصلہ / کشمیری ہندوستان سے نہیں چین سے محبت کرتے ہیں / فاروق عبداللہ

سرینگر ٹوڈےڈیسک
بڈگام کے ڈل وچھ کھاگ علاقے میں بلاک ڈیولپمنٹ کونسل کے چیرمین کو مشتبہ جنگجووں نے ہلاک کیا ۔یہ واقعہ بدھ وار کو اس وقت پیش آیا جب نامعلوم بندوق برداروں نے بی ڈی سی چیرمین پر نزدیک سے گولیاں برسائیں اور وہ موقعے پر ہی ہلاک ہوگیا ۔ پولیس نے اس ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ علاقے کو محاصرے میں لیا گیا اور مشتبہ جنگجووں کی تلاش جاری ہے ۔ اطلاعات کے مطابق وسطی ضلع بڈگام میں بی ڈی سی چیرمین بھوپندر سنگھ پر نزدیک سے گولیوں کی بوچھاڑ کی گئی جس سے وہ شدید زخمی ہوکر ہلاک ہوگیا ۔ اس دوران اسے نزدیکی ہسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دیا ۔ اس حوالے سے جو عجیب بات سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ ہلاک کیا گیا بی ڈی سی چیرمین بغیر کسی سیکورٹی کے گھر کی طرف آرہاتھا کہ مشتبہ جنگجووں نے اس پر حملہ کیا اور وہ ہلاک ہوگیا ۔ بعض اطلاعات کے مطابق اس کے لئے تعینات سیکورٹی اہلکار کسی وجہ سے تھانے میں موجود تھے اور وہ بغیر سیکورٹی کی گھر کی طرف جارہاتھا ۔ ابھی تک یہ بات واضح نہ ہوسکی کہ بی ڈی سی چیرمین سیکورٹی پر تعینات اہلکاروں کو تھانے کیوں روانہ کیا گیا تھا اور وہ بغیر سیکورٹی کے کیوں سفر کررہا تھا ۔ حالانکہ علاقے میں ملی ٹنٹوں کی موجودگی کی مسلسل اطلاعات ہیں ۔ اس سے ایک روز پہلے بڈگام میں انکائونٹر کے دوران کاکہ پورہ کا ایک جنگجو مارا گیا جو جیش محمد سے وابستہ بتایا گیا ۔ اس کے باوجود بھوپندر سنگھ بغیر حفاظت کے سفر کررہاتھا اور جنگجووں نے بغیر کسی مشکل کے اسے ہلاک کیا ۔ اس ہلاکت پر سیاسی حلقوں کی طرف سے سخت افسوس کا اظہار کیا گیا ۔ سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے اس ہلاکت کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے اس پر دکھ کا اظہار کیا ۔ بی جے پی نے اس واقعے کی مزمت کرتے ہوئے واضح کیا کہ ہلاک کیا گیا شخص بی جے پی کے ساتھ وابستہ نہیں تھا ۔ پارٹی ترجمان کی طرف سے اس بات پر زور دیا گیا کہ قاتلوں کو تلاش کرکے کیفرکردار تک پہنچایا جائے ۔ پی ڈی پی کی طرف سے واقعے کی مزمت کرتے ہوئے ہلاکت کو بہت ہی افسوسناک قرار دیا گیا ۔ اپنی پارٹی کے چیرمین الطاف بخاری کی طرف سے جاری کئے گئے بیان میں اسے ایک لرزہ خیز ہلاکت قرار دیا گیا ۔ بخاری کا کہنا ہے کہ تشدد سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے ۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ ایسی ہلاکتوں کی اجازت نہ دی جائے ۔ انہوں نے اس ہلاکت کو سرکار کے ان دعووں کی نفی قرار دیا جن میں جموں کشمیر کی سیکورٹی صورتحال کو بہتر ہونے کا اعلان کیا گیا ۔ ادھر اسی دوران انتظامی کونسل نے بدھ وار شام کو جموں کشمیر میں خالی پڑی پنجوں اور سرپنجوں کی نشستوں کے لئے ضمنی انتخابات کرانے کو منظوری دے دی ہے ۔ انتظامی کونسل کا ایک غیر معمولی اجلاس لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا کی صدارت میں منعقد ہوا ۔اجلاس میں دیہی کونسل کی طرف سے پیش کئے گئے اس منصوبے کو منظوری دی گئی جس میں پنجوں اور سرپنجوں کی خالی نشستوں کے لئے انتخابات کرانے کی تجویز دی گئی ہے ۔ اس حوالے سے جلد ہی نوٹیفکیشن جاری کرنے کو منظوری دی گئی ۔ الیکشن حکام کو کہا جاتا ہے ہدایت دی گئی کہ انتخابی شیڈول کو حتمی شکل دی جائے ۔ کہا جاتا ہے کہ ایک ہزار سے زیادہ سرپنجوں کی اسامیاں خالی پڑی ہیں ۔ اس کے علاوہ 12168 پنجوں کی نشستوں پر انتخاب ہونا باقی ہے۔ دیہی ترقی کے محکمے کا کہنا ہے کہ خالی نشستوں کی وجہ سے ان پنچایتی حلقوں میں ترقیاتی منصوبے عملانے میں مشکلات پیش آرہے ہیں اور ترقیاتی کام سست رفتاری سے ہورہے ہیں ۔ اس سے قبل جموں کشمیر میں پنچایتی انتخابات 2018 میں منعقد کئے گئے تھے ۔ لیکن جنگجووں کے دبائو کی وجہ سے اکثر نشستوں پر کوئی انتخاب نہیں ہوسکا تھا ۔ بلکہ بہت سے حلقوں کے لئے کوئی شخص فارم بھرنے کے لئے سامنے نہیں آسکا تھا ۔ جو لوگ منتخب ہوئے وہ بھی کوئی الیکشن مہم نہیں چلاسکے تھے اور چند ووٹ حاصل کرکے ہی منتخب ہوگئے تھے ۔ اب حکومت کا کہنا ہے کہ جموں کشمیر میں حفاظتی صورتحال میں بہت حدتک بہتری آئی ہے ۔ اس کے پیش نظر انتظامی کونسل نے پنچایتوں کے لئے انتخابات کرانے کا اعلان کیا ہے ۔
پارلیمنٹ کا مون سون اجلاس ابھی جاری ہے جہاں سخت شور شرابہ دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ زرعی اصلاحات کے دو بل پہلے ہی پاس کئے گئے ہیں ۔ اس حوالے سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہنگامہ آرائی عروج کو پہنچ چکی ہے ۔ راجیہ سبھا کے ان آٹھ ممبران کو کاروائی میں حصہ لینے سے دور رکھنے کے لئے معطل کیا گیا جنہوں نے چیرمین کے ساتھ مبینہ طور سخت زیادتی کی ۔ حکمران جماعت کا الزام ہے کہ کاروائی میں رخنہ ڈالنے کے علاوہ ان ممبران نے چیرمین کے ساتھ بدسلوکی کی ۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے چیرمین کی میز تک پہنچتے ہوئے وہاں موجود کاغذات اور کچھ دستاویزات پھاڑ دئے ۔ یہ ارکان ان الزامات کی تردید کررہے ہیں ۔ تاہم انہیں پہلے ہی معطل کیا گیا ہے ۔ اپوزیشن کی طرف سے معطل کرنے کی اس کاروائی کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اس پر احتجاج جاری ہے ۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی طرف سے احتجاج اور ہنگامہ آرائی جاری رہی تو مزید ممبران کو کاروائی میں حصہ لینے سے روکا جائے گا ۔ یہ ہنگامہ آرائی اس وقت کی گئی جب حکومت کی طرف سے نئی زرعی پالیسی کے دو بل زبانی ووٹ سے منظور کئے گئے ۔ اپوزیشن یہ بل کسان مخالف قرار دے رہی ہے ۔ اس کے بجائے وزیراعظم نریندر مودی کا کہنا ہے کہ اس سے کسانوں کو سخت منافع حاصل ہوگا ۔ پنجاب اور ہریانہ کے کسانوں نے یہ بل کسان دشمن قرار دئے ۔ دونوں ریاستوں میں کسان اس کے خلاف احتجاج کررہے ہیں ۔ اس دوران پارلیمنٹ میں موجود کشمیر کے تین ممبران نے چھٹے شیڈول کے حوالے سے حالیہ ترمیم پر بولتے ہوئے اسے غیر قانونی قراردیا گیا ۔ نیشنل کانفرنس کے حسنین مسعودی نے اس پر تقریر کرتے ہوئے اس ترمیم کو جموں کشمیر میں موجودہ مسلم اکثریت کے خلاف ایک سازش قرار دیا ۔ ادھر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اپنے ایک انٹرویو میں دفعہ 370 کو واپس لانے پر زوردیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے بغیر کشمیر میں امن قائم ہونا کسی بھی صورت میں ممکن نہیں ۔ انہوں نے مرکزی سرکار کی طرف سے اٹھائے گئے ان اقدامات کو کشمیر مخالف قرار دیتے ہوئے اس پر سخت تیز الفاظ کا استعمال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کو دھوکہ دیا گیا ۔ اس طرح کے اقدامات اٹھاکر وہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا گیا ۔ مرکزی سرکار کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ کشمیری اب ہندوستان سے کوئی رشتہ نہیں رکھتے بلکہ چین کے ساتھ رہنا زیادہ پسند کرتے ہیں ۔ ان کے اس انٹرویو پر کئی حلقوں کی طرف سے رائے زنی جاری ہے ۔