سرورق مضمون

ترال : القاعدہ کے تین جنگجو مارے کئے گئے ( پولیس)/ حزب کی طرف واپسی کی تیاری میں تھے (حزب ترجمان)

ترال : القاعدہ کے تین جنگجو مارے کئے گئے ( پولیس)/ حزب کی طرف واپسی کی تیاری میں تھے (حزب ترجمان)

ڈیسک رپورٹ
بدھوار یعنی رواں ماہ کی9 تاریخ کو ترال کے گلاب باغ گائوں میں تین جنگجو مارے گئے ۔ پولیس نے مارے گئے جنگجووں کو اس گروپ کا حصہ قراردیا جس کی قیادت حزب کا باغی کمانڈر ذاکر موسیٰ کرتا ہے ۔ اس گروپ کا تعلق القاعدہ اور آئی ایس آئی ایس سے جوڑا جاتا ہے ۔ حزب المجاہدین نے ایک پریس بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ تینوں جنگجوذاکر گروپ سے الگ ہو کر حزب کی طرف واپسی کے لئے تیاری کررہے تھے ۔ اس دوران مخبری کے نتیجے میں تینوں نوجوان مارے گئے ۔ان جنگجووں کے نماز جنازہ میںہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ۔ اس موقعے پر وہاں نوجوانوں نے ذاکر موسیٰ کے حق میں نعرے لگائے ۔ کچھ نوجوانو ں نے مبینہ طور ان نعروں کے خلاف احتجاج کیا اور حزب المجاہدین اور پاکستان کے حق میں نعرے دئے ۔
حزب المجاہدین کی صفوں میں اس وقت ایک دراڑ پیدا ہوگئی جب اس کے کمانڈر ذاکر موسیٰ نے الگ ہوکر اپنا نیا گروپ تشکیل دیا ۔ ذاکر نے اس سے پہلے ایک ویڈیو جاری کیا جس میں حریت لیڈروں کو لالچوک میں پھانسی دے کر ان کے سر کاٹنے کی دھمکی دی گئی ۔ ذاکر نے اعلان کیا کہ کشمیر میں لڑنے والے جنگجو آزادی کے لئے نہیں بلکہ شریعت کے نفاذ کے لئے لڑتے ہیں ۔ شریعت یا شہادت کا نعرہ لگاتے ہوئے ذاکر نے خود کو پاکستان میں مقیم حزب قیادت اور حریت کانفرنس سے ڈکٹیشن لینے سے انکار کیا ۔ اس کے جواب میں حزب نے اپنے بیان میں ذاکر کی رائے کو اس کی ذاتی رائے قرار دیا اور اسے واپس حزب میں آکر کام کرنے کی اپیل کی ۔ ذاکر نے تمام اپیلوں کو رد کرتے ہوئے اپنے نظریے سے دستبردار ہونے سے انکار کیا ۔ اس کے بعد ذاکر کے کئی آڈیو اور ویڈیو پیغام سوشل میڈیا پرسامنے آئے جن میں پاکستان اور پاکستان نوازوں کے خلاف سخت زبان استعمال کی گئی ۔ ذاکر نے اعلان کیا کہ کشمیر میں جنگجو پاکستان یا آزادی کے لئے نہیں بلکہ اسلام کے لئے اپنی جان دیتے ہیں ۔ اس وجہ سے حزب اور ذاکر کے درمیان خلیج بڑھ گئی ۔ حزب کے سربراہ سیدصلاح الدین نے ذاکر کو حزب سے خارج کرکے ریاض نائیک کوحزب کا نیا کمانڈر نامزد کیا ۔ نائیک نے حال ہی میں مارے گئے ایک جنگجو کے جنازے میں اچانک نمودار ہوکر وہاں موجود لوگوں سے پاکستان کے حق میں نعرے لگائے اور ذاکر کو ایک باغی قرار دیا ۔ یاد رہے حزب کے معروف کمانڈر اور پچھلے ساتھ فوج کی طرف سے مارے گئے پوسٹر بوائے برہان وانی کے بعد ذاکر موسیٰ حزب المجاہدین کا کمانڈر بنایا گیا تھا ۔ ایک سال تک حزب کی قیادت کرنے کے بعد اس نے اچانک بغاوت کا فیصلہ کیا اور کئی جنگجووں کی حمایت حاصل ہونے کا اعلان کیا۔ پولیس کی طرف سے بیان میں کہا گیا کہ ذاکر کے ساتھ کل ملاکر پانچ جنگجو ہیں ۔ اس کے بعد اس گروپ کی طرف سے ایک تصویر شایع کی گئی جس میں ذاکر کے علاوہ نو جنگجو دیکھے گئے ۔ نو میں سے سات کا تعلق ترال علاقے سے بتایا جاتا ہے جبکہ تین پلوامہ کے دوسرے علاقوں کے رہنے والے ہیں ۔ نو میں سے تین جنگجو گلاب باغ میں ایک انکائونٹر میں مارے گئے ۔ ان میں سے دو ترال کے رہنے والے ہیں جب کہ تیسرا جنگجو پلوامہ کے ایک گائوں کا ہے ۔ تینوں جنگجووں کو ان کے آبائی علاقوں میں دفن کیا گیا ۔ اس موقعے پر وہاں لوگوں کی بڑی تعداد دیکھی گئی ۔ انکائونٹر کے بارے میں پولیس کی طرف سے کہا گیا کہ مصدقہ اطلاع پر علاقے کا گھیرا کیا گیا ۔ جنگجووں نے کمین گاہ سے نکل کر بھاگنے کی کوشش کی ۔ فوج کی نظر پڑتے ہی ان پر گولی چلائی گئی اور پانچ منٹ میں ان کا کام تمام کیا گیا ۔ اس کے بعد علاقے میں تشدد بھڑک اٹھا۔ کئی جگہوں پر سیکورٹی فورسز اور نوجوانوں میں سنگ باری ہوئی ۔ اس دوران سیموہ ترال کا ایک کم سن نوجوان پیلٹ لگنے سے مارا گیا ۔ اس طرح سے مارے گئے افراد کی تعداد چار ہوگئی ۔ جنگجووں کے کفن دفن کے موقعے پر گروہی تنازعات بھی دیکھے گئے ۔ ایک جنگجو کی میت پر جھنڈا ڈالنے پر تنازع کھڑا ہوگیا ۔ کچھ لوگوں نے سیاہ جھنڈا ڈالنے کی کوشش کی جس کی وہاں موجود کچھ نوجوانوںنے مزاحمت کی اور سبز پرچم میت پر ڈالا گیا ۔ اسی طرح تعزیت کے دوران کئی لوگوں نے طرح طرح کے سوالات اٹھائے ۔ مارے گئے جنگجووں کے حوالے سے متضاد بیانات سامنے آئے ۔ کئی لوگوں کا کہنا تھا کہ آخر وقت تک ذاکر گروپ سے تعلق رکھتے تھے ۔ بہت سے لوگ حزب کے دعویٰ کی حمایت کرتے تھے ۔ ان کاکہنا تھا کہ دو تین روز پہلے ذاکر سے الگ ہوگئے تھے اور حزب کمانڈر کے ساتھ رابطہ بنانے کی کوشش کرتے تھے ۔ اس دوران باہمی تنازعے کا شکار ہوئے اور فوج کے ہاتھوں مارے گئے ۔ پلوامہ ضلع میں پچھلے دو مہینوں کے دوران فوج اور جنگجووں میں سخت تصادم آرائی دیکھی گئی ۔ کئی کمانڈر اور جنگجو مارے گئے ۔ خاص طور سے لشکر کے بہت سے عسکریت پسند مارے گئے۔ لشکر کا مشہور جنگجو اور کمانڈر ابو دجانہ اسی ضلع کے ہکڑی پورہ میں اپنے ایک ساتھی کے ساتھ مارا گیا۔ دجانہ اور اس کے ساتھی کے حوالے سے ذاکر نے دعویٰ کیا کہ شریعت اور شہادت گروپ کے ساتھ تعلق رکھتے تھے ۔ لشکر نے اس بارے میں خاموشی اختیار کی ۔ ذاکر نے آڈیو پیغام میں کہا کہ اس گروپ کے اولین شہیدوں میں شامل ہیں ۔ اس کا کہنا تھا کہ گروپ کی تشکیل میں دجانہ نے خاص رول ادا کیا ۔ اس طرح کے دعووں کی وجہ سے جنگجو صفوں میں سخت اتھل پتھل پائی جاتی ہے ۔ ادھر ترال میں پیش آئے واقعہ پر ہڑتال کی گئی اور سرکار نے انٹرنیٹ سروس معطل کردی ۔ لوگوں نے ان ہلاکتوں پر سخت دکھ اور تشویش کا اظہار کیا ہے ۔