سرورق مضمون

ترال میں قیامت صغریٰ / 3 جان بحق درجنوںزخمی، کابینہ وزیر بھی بال بال بچ گئے

ترال میں قیامت صغریٰ / 3 جان بحق درجنوںزخمی، کابینہ وزیر بھی بال بال بچ گئے

ڈیسک رپورٹ
جنوبی کشمیر کے ترال علاقے میں اس وقت قیامت کا منظر دیکھا گیا جب یہاں ایک گرینیڈ حملے میں تین عام شہری مارے گئے جبکہ کئی پولیس اہلکاروں سمیت درجنوں افراد زخمی ہوگئے ۔مارے گئے افراد میں اسلامک یونیورسٹی میں زیرتعلیم سکھ فرقے سے تعلق رکھنے والی پنکی کور اور64 سالہ شہری غلام نبی تراگ شامل ہے ۔ دونوں زخمی ہوکر ہسپتال پہنچائے گئے جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دیا ۔ زخمی ہوئے افراد میں سے درجن بھر کو صدر ہسپتال سرینگر مزید علاج کی غرض سے لے جایا گیا جہاں کئی ایک کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے ۔اس واقعے سے پورے علاقے میں افراتفری پیدا ہوگئی ہے ۔کئی شہریوں نے الزام لگایا کہ گرینیڈ حملے کے بعد وہاں موجود سیکورتی اہلکاروں نے اندھا دھند فائرنگ کی ۔ اصل میں دو شہری فورسز کی جوابی کاروائی میں مارے گئے۔ ادھر یہ بھی اطلاع ہے کہ مقامی ہسپتال کے ڈاکٹروں نے زخمیوں کی جو فہرست پیش کی اس میں تمام زخمی افراد کے بارے میں رائے ظاہر کی گئی ہے کہ پیلٹ لگنے سے مجروح ہوگئے ہیں ۔ یہ بہت ہی معنی خیز معاملہ ہے جس کی تحقیقات کرنے کی مانگ کی جارہی ہے ۔
ترال کے بس اسٹینڈ کے پاس اس وقت نامعلوم شخص نے گرینیڈ حملہ کیا جب یہاں وزیر تعمیرات نعیم اختر علاقے میں جاری تعمیراتی کاموں کا جائزہ لینے کی غرض سے آگئے تھے ۔ جمعرات کو صبح سویرے انہوں نے پہلے ترال ڈاڈہ سرہ روڑ پر چندری گام میں بنائے گئے پل کا افتتاح کیا۔ اس کے بعد انہوں نے نودل ترال روڑ کا جائزہ لیا جہاں سڑک کی کشادگی کے علاوہ اس پر تار کول بچھانے کا کام جاری ہے ۔ یہاں سے مذکورہ وزیر ترال پہنچ گئے جہاں ان کے قافلے پر زوردار حملہ کیا گیا ۔ گرینیڈ ان کی گاڑی کے قریب فٹ گیا جس سے کئی سرکاری عہدیدار ، تیس عام شہری اور سیکورٹی کے سات اہلکار زخمی ہوگئے ۔ زخمیوں میں سے بعد میں تین شہری زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھے ۔پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ جنگجووں نے کیا ۔ لیکن کسی جنگجو تنظیم نے تاحال حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ۔ بلکہ انہوں نے ایسے کسی بھی حملے میں ملوث ہونے سے انکار کیا۔ حزب المجاہدین نے سب سے پہلے حملے کی مذمت کی اور اسے ایک غیر ذمہ دار حملہ قرار دیا ۔ حزب ترجمان نے اس حملے کو افسوسناک قرار دیا ۔ لشکر طیبہ نامی جنگجو تنظیم نے بھی حملے کی مذمت کی ہے اور اسے عوام دشمن کاروائی سے تعبیر کیا ہے ۔ لشکر کمانڈر نے اس حملے کو عوام اور جنگجووں کے خلاف سازش قراردیا ہے ۔ حریت کی مشترکہ قیادت نے گرینیڈ حملے اور اس میں انسانی جانوں کے نقصان پر دلی صدمے کا اظہار کیا ہے ۔
ادھر این سی سربراہ نے اس حملے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے ۔ سابق وزیراعلیٰ اور این سی کے کارگزار صدر عمرعبداللہ نے حملے میں نعیم اختر کے بچ جانے پر انہیں مسرت کا پیغام دیا ہے ۔ گورنر این این ووہرا نے اختر سے فون پر بات کرتے ہوئے ان کی خیروعافیت دریافت کی ۔ حکومت میں شامل دونوں جماعتوں بی جے پی اور پی ڈی پی نے اس حملے کو بزدلانہ حرکت قرار دیا ہے ۔
پی ڈی پی کے ترال سے چنے گئے اسمبلی ممبر مشتاق شاہ نے گرینیڈ حملے کی مذمت تو کی البتہ ساتھ ہی اسے سیکورٹی اہلکاروں کی ناقص کارکردگی قراردیا ہے ۔ اتنے نزدیک سے گرینیڈ پھینکنے پرتبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے اسے Security Lapses قرار دیا۔ شاہ نے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات کی جانی چاہئے ۔ انہوں نے اس بات پر حیرانگی کا اظہار کیا کہ حملے جنگجووں کے حمایت کے بغیر اور اتنے نزدیک آکر کیسے کیا گیا ۔ یادرہے کہ حملے میں نعیم اختر کا ڈرائیور اور سیکورٹی پر تعینات کئی اہلکار زخمی ہوگئے ہیں ۔ اختر کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ بال بال بچ گئے ۔ انہیں پولیس نے بڑی مشکل سے یہاں سے نکال کر نزدیکی پولیس اسٹیشن لے جایا گیا جہاں سے انہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے سرینگر لے جایا گیا ۔ بعد میں اس حوالے کے بارے میں بیان دیتے ہوئے وزیر نے حملے کی شدید الفاظ میں مزمت کی اوراس حملہ کوبزدلانہ حرکت قرار دیا ۔ اس موقعے پر اختر کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے ۔ اختر کا کہنا تھا کہ اس طرح کے حملوں سے کچھ ہاتھ آنے والا نہیں ہے ۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ علاقے میں 100 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیراتی کام ہورہے ہیں ۔ اس کام کا جائزہ لینے اور مزید کام کا آغاز کرنے کے لئے آپ علاقے میں آئے تھے جہاں ان پر سخت حملہ کیا گیا ۔ یہ بڑی عجیب بات ہے کہ تمام جنگجو تنظیموں نے اس حملے کی مزمت کی اور اس میں ملوث ہونے سے انکار کیا ۔ جنگجو تنظیموں کی طرف سے سامنے لائے گئے بیانات کے بعد یہ سوال زور و شور سے اٹھائے جاتے ہیں کہ حملہ کس نے کرایا ہے اور اس میں کون سے لوگ ملوث ہیں ۔ ترال میں بے گناہ شہریوں کے مارے جانے کے خلاف احتجاج کے طور دو روزہ ہڑتال کی گئی اور بڑی تعداد میں لوگوں نے مارے گئے افراد کے گھر جاکر اہل خانہ سے تعزیت کی اور لواحقین کی ڈھارس بندھائی۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ مارے گئے افراد کے ساتھ ساتھ زخمی افراد کے حق میں بھی جلد ہی ایکس گریشیا کی رقم فراہم کی جائے گی ۔