خبریں

تشدد کے خاتمے کےلئے مذاکراتی عمل واحد حل

تشدد کے خاتمے کےلئے مذاکراتی عمل واحد حل

ریاست کی خاتون وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے معاملات کو حل کرنے اور تشدد کے کلچر کے خاتمے کے لئے مذاکراتی عمل کو واحد ذریعے قرار دیتے ہوئے اُمید ظاہر کی کہ ریاست میں تمام طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ شروع کئے گئے مذاکراتی عمل میں شرکت کریں گے۔وزیراعلیٰ نے 69 ویں یوم جمہوریہ کے موقعہ پر عوام کے نام پیغام میں کہا کہ مذاکراتی عمل کے ذریعے سے ہی ریاست میں تشدد کے کلچر کو ختم کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ ریاست میں مذاکراتی عمل شروع کرنے کی وکالت کرتی آئی ہے ۔انہوں نے اس بات کے لئے مسرت کا اظہار کیا کہ مرکز نے ان کی تجویز سے اتفاق کر کے ریاست کے لئے دنیشور شرما کو مذاکرات کار کے طور پر تعینات کیا۔ وزیر اعلیٰ نے تاہم کہا کہ د ینشور شرماکی مذاکرات کا ر کی حیثیت سے تعیناتی ایک بڑی پیش رفت ہے اور ا س سے ریاست میں دیر پا امن قائم کرنے میں مدد ملے گی۔ وزیر اعلیٰ نے سرحدوں پر اُبھرتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اُمید ظاہر کی کہ وزیر اعظم نریندر مودی اپنے مقام اور ذہانت کا استعمال کر کے اس حوالے سے کوششوں کو تیز کریں گے تاکہ ریاست جموں وکشمیر دونوں ممالک کے درمیان ایک پل کی حیثیت اختیار کر کے ان کے درمیان مخاصمت کو دور کرنے میں اپنا بھر پور رول ادا کرے گی۔ انہوں نے نوجوانوں میں تشدد کی طرف رغبت کم ہونے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ والدین ، دوست اور یہاں تک سوشل میڈیا بھی ان نوجوانوں کو اس راستے پر چلنے سے روکنے میں اہم رول اداکرتے ہیں جو بالآخرتباہی اور بربادی کی طرف جاتا ہے ۔انہوںنے کہا کہ پوری دنیا میں تشدد کے مضر اثرات اب سامنے آرہے ہیں اور ریاست جموں و کشمیر کے لوگ ابھی بھی تشدد سے متاثرہ ہو رہے ہیں اور یہاں کے لوگ بذات خود اس کی گواہ ہیں۔محبوبہ مفتی کی حکومت کی طرف سے شروع کئے گئے ترقیاتی اور بہبودی اقدامات کو عملانے میں امن کو ہو نا لازمی قرار دیا۔ انہوں نے اس ضمن میں لوگوں سے تعاون طلب کیا۔ انہوں نے کہا کہ امن کے چلتے ہی ترقیاتی سرگرمیوں کو دوام حاصل ہوسکتا ہے اور نتیجتاً سیاح یہاں کی سیر کے لئے آئیں گے۔سرمایہ کاری بڑھے گی اور سیاسی اقدامات کے بہتر نتائج سامنے آئیں گے۔
اپنے پیغام میں وزیر اعلیٰ نے اس بات کیلئے خوشی کا اظہار کیا کہ ریاست کے لوگوں نے آپسی رواداری ، بھائی چارے اور اخوت کی اقدار کو برقرار رکھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حوصلہ افزا بات ہے کہ جموں خطہ اس سلسلے میں بہتر تمدن اور تہذیب کا عکاس بن کر سامنے آرہا ہے جہاں مختلف علاقوں، عقائد اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ مل جل کر رہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ جموں شہر کے لوگوں کو اس بات کے لئے مبارک باد دیتے ہیں کہ وہ مل جل کر زندگی بسر کر رہے ہیں۔
اپنی حکومت کی حصولیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت سنبھالنے کے فوراً بعد انہوں نے ہزاروںنوجوانوں کے خلاف رجسٹر کیسوں کا جائزہ لینے کا وعدہ کیا تھا۔اب جب کہ حالات سدھر رہے ہیں میں نے یہ عمل شروع کرکے 2008ء سے 2014ء تک 4327 نوجوانوں کے خلاف درج کیسوں کو واپس لینے کے احکامات صادر کئے۔انہوںنے مزید کہا کہ انہوں نے 2015ء سے 2017ء تک کل 4740 درج معاملات کو واپس لینے کے احکامات بھی صادر کئے اور یوں اب تک 9700 نوجوانوں کے خلاف کیس واپس لئے گئے۔انہوںنے امید ظاہر کی کہ ان کی حکومت کے اس انسان دوست رویہ کے مزید مثبت نتائج سامنے آئیں گے تاکہ اس طرح کے مزید کیسوں کا جائزہ لیا جاسکے تاکہ زیادہ نوجوانوں اور سماج کو راحت نصیب ہوسکے۔
وزیرا علیٰ نے کہا کہ انہوںنے اپنی ہیلنگ ٹچ پالیسی کو جاری رکھتے ہوئے ان پیلٹ متاثرین کے حق میں نقد امداد اور نوکریاں واگزار کیں جو 2016ء کے شورش کے دوران اپنی بینائی سے محروم ہوئے تھے۔انتظامیہ کو مزید جواب دہ بنانے اور اس سے دور دراز علاقوں میںلوگوں کی دہلیز تک پہنچانے کے لئے وزیرا علیٰ نے کہاکہ انہوں نے عوامی درباروں کا ایک سلسلہ شروع کیا اور اب تک 14اضلاع میں اس طرح کے کیمپ منعقد کئے گئے جبکہ دیگر اضلاع میں اس کے کیمپ عنقر یب منعقد کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ لوگوں کی بقا کے لئے شروع کئے گئے بہبودی اقدامات کی عمل آوری میںتیزی لائی جاسکے۔
محبوبہ مفتی نے 60,000ڈیلی ویجروں کی نوکریوں کو باقاعدہ بنانے کے فیصلے کوایک تواریخی فیصلہ قراردیتے ہوئے کہا کہ اس قدم سے ان ورکروں کو غیر یقینیت سے نجات ملے گی اور انہیں اپنی تنخواہیں حاصل کرنے کیلئے دردرکی ٹھوکریںنہیں کھانا پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح حکومت نے اپنے ملازمین کے لئے ساتویں تنخواہ کمیشن کی سفارشات اس سال اپریل مہینے سے لاگو کرنے کا فیصلہ کیا اور اس قدم سے یہ بات یقینی بن جائے گی کہ ملازمین مزید تن دہی اور لگن کے ساتھ کام کر کے ریاست کو ترقی کی بلندیوں تک لے جانے میں ایک مثبت رول ادا کریں گے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ وزیرا علیٰ نے کیجول ورکروں کو باقاعدہ بنانے اور ساتویں تنخواہ کمیشن کی سفارشات کو لاگو کرنے کا اعلان پچھلے برس یوم جمہوریہ کے موقعہ کیا تھا۔ وزیر اعظم ترقیاتی پیکیج کو ریاست کے ترقیاتی اور بنیاد ی ڈھانچے کے منظرنامے میں تبدیلی لانے کا ایک اہم قدم قرار دیتے ہوئے وزیرا علیٰ نے کہاکہ اس پیکیج کے تحت 42000 کروڑ روپے شاہراہوں کی ترقی ، ٹنلوں کی تعمیر اور خطوں کے درمیان باہمی رابطے کو بڑھاوا دینے کے لئے خرچ کئے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ نے مزیدکہاکہ ان کی حکومت نے سرینگر اور جموں شہروں میں ٹریفک کی گنجانیت کو کم کرنے کے لئے 4000کروڑ روپے والے 2رِنگ روڑ پروجیکٹ منظور کئے اور ان پروجیکٹوں پر بنیادی کام پہلے ہی شروع کی جاچکا ہے ۔محبوبہ مفتی نے تعلیم کو سماج میں تبدیلی لانے کا ایک اہم ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ریاست میں 400مڈل اور ہائی سکولوں کا درجہ بڑھانے کا فیصلہ کیا تاکہ تعلیم کے منظرنامے کو تقویت بخشی جاسکے ۔انہوں نے کہا کہ پچھلے سال کی سرینگر اور جموں میں کلسٹر یونیورسٹیوں نے اپنا کام کاج شروع کیا اور ان مقامات کے لئے 17نئے ڈگری کالج تجویز کئے گئے ہیں جہاں طلاب کو حصول تعلیم کے لئے دو ر دور مسافتیں طے کرنا پڑتی ہے ۔وزیر اعلیٰ نے کہاکہ انہوں نے پچھلے برس لگاتار ریاست میں پانچ نئے میڈیکل کالجوں کے کام کا جائزہ لیا اور ان کالجوں کے لئے تین ہزار سے زائد اسامیاں وجود میں لائی گئیں تاکہ ان کی تعمیر مکمل ہونے کے ساتھ ہی انہیں چالو کیا جاسکے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ ان کی حکومت ریاست میں بے روزگار ی کے مسئلے پر قابو پانے کے لئے ہرممکن اقدامات کر رہی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ صنعتوں ، دستکاری اور سیاحت کے سیکٹروں میں روزگار کے مواقع پیدا کئے جارہے ہیں یہاں تک کہ پچھلے برس 6000سے زائد نوجوانوں لڑکوں اور لڑکیوں کومختلف سرکاری محکموںمیں تعینات کیا گیا اور اس طرح کی 10,000تعیناتیاں عمل میںلائی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ یہ تمام تقرریاں ایک شفاف طریقے پر میرٹ کی بنیاد پر عمل میں لائی گئی ۔انہوں نے مزیدکہا کہ نوجوانوں کو کھیلوں کی تربیت دینے کے لئے رہبر کھیل کی 3000اسامیاں پُر کی جارہی ہیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مشکل علاقوں کے لوگوں کو جوڑنے کے لئے ان کی حکومت نے پچھلے برس کے دوران گریز ، مژھل ، وڈون اور کشتواڑ جیسے دور دراز علاقوں میں ہوائی رابطے کی سہولیات متعارف کیں۔انہوںنے کہا کہ ان کی حکومت نے خاص طور سے سماج کے پسماندہ طبقوں کی بہبودی کے لئے کئی سکیمیں شروع کیں۔ انہوں نے غیر منظم سیکٹر میں ورکروں کے لئے حال ہی میں شروع کی گئی سکیم ، اولد ایج پنشن میں اضافہ اور کئی دیگر اقدامات کا ذکر کیا۔