خبریں

جذباتی سیاست کا دور ختم ہو چکا ہے/بخاری

جذباتی سیاست کا دور ختم ہو چکا ہے/بخاری

اپنی پارٹی کے سربراہ سید الطاف بخاری نے کہا ہے کہ جموں وکشمیر میں جذباتی سیاست کا دور ختم ہوچکا ہے ۔ بخاری نے کہا کہ اپنی پارٹی نے دفعہ370کی بحالی کے معاملے پر سرینڈر نہیں کیا ہے ، اراضی قوانین اور ریاستی درجے کی بحالی کے لئے جدوجہد جاری رہے گی ۔اس دوران جموں وکشمیر پنچایت کانفرنس کے سربراہ شفیق میر اور سماجی سیاسی کارکن افضل بیگ نے اپنی پارٹی میں شمولیت اختیار کی ۔ سرینگر میں پارٹی ہیڈ کواٹر واقع شیخ باغ پر ایک پریس کانفرنس کے دوران الطاف بخاری نے کہا ‘میں عوامی اتحاد برائے گپکار اعلامیہ کے ڈی ڈی سی انتخابات میں حصہ لینے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتا ہوں ، اقتدار صرف نچلی سطح سے آتا ہے ، اپنی پارٹی اراضی کے قوانین میں ترمیم ، ریاستی درجے کی بحالی کے لئے جدوجہد کرے گی ، ہم نے آرٹیکل370 کے لئے جہدوجہد نہیں چھوڑی ہے۔‘انہوںکہا کہ کچھ دس دن پہلے تک ، جو لوگ عوامی اتحاد برائے گپکار اعلامیہ کا حصہ ہیں ، وہ زور زور سے چلارہے تھے کہ انتخابات ان کے لئے بے معنی ہیں،لیکن اب انہوں نے ڈی ڈی سی انتخابات لڑنے کا فیصلہ کیا ہے، وہ اب بھی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اقتدار کے بھوکے نہیں ہیں،لیکن میں ان سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ وہ اس وقت ڈی ڈی سی انتخابات کس کی خاطر لڑ رہے ہیں، نچلی سطح سے اقتدارکا بہاؤ اور ڈی ڈی سی انتخابات نچلی سطح کی جمہوریت سے منسلک ہیں۔‘انہوں نے کہا کہ عوامی اتحاد برائے گپکار اعلامیہ سے وابستہ لیڈران نے’جذباتی نعروں ‘ سے گریز کیا یہ دیکھنا اچھا لگا کیوں کہ اس طرح کی چیزوں نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے نوجوانوں کو غلط راستے کی طرف راغب کیا ہے۔ان کا کہناتھا’شیخ محمد عبد اللہ کو صحیح راستہ کیا ہے اس کا احساس کرنے میں22 سال لگے اور صحیح فیصلہ کرنے میں گپکار اعلامیہ کے اتحادیوں کو ایک ماہ سے بھی کم وقت لگا۔ انہوں نے کہا ’ میں عوامی اتحاد برائے گپکار اعلامیہ کے فیصلے پر خوش ہوں اور ان کے اعلان کو خوش آئندہ سمجھتا ہوں۔‘انہوں نے کہا کہ آج کے نوجوانوں نے پہلے سے کہیں زیادہ خراب حالات دیکھے ہیں،حقیقت بہت تلخ تھی۔ پچھلے 70 میں جو کچھ بھی کمایا گیا وہ چھین لیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ جہاں تک آرٹیکل370 کا تعلق جموں و کشمیر اپنی پارٹی نے اسے نہیںچھوڑا ہے،یہ کیس سپریم کورٹ میں ہے، ہمارے پاس پانچ ممبران پارلیمنٹ تھے جو بدقسمتی سے اسے بچا نہیں سکے‘۔ انہوں نے کہا کہ وہ پانچ افراد آرٹیکل 370 کو واپس نہیں لاسکتے ہیں۔ ہماری امید سپریم کورٹ سے منسلک ہے‘۔انہوں نے مزید کہا ، ’ہم اپنی شناخت کے لئے بھی ریاستی در جے کا مطالبہ کرتے ہیں،ہم اس کے لئے لڑ رہے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ جب تک 272 ارکان پارلیمنٹ آرٹیکل 370 کی بحالی کے لئے ووٹ نہیں دیتے ہیں تب تک اسے بحال نہیں کیا جاسکتا۔ ‘سید الطاف بخاری نے کہا ’پارلیمنٹ کے علاوہ ہماری امید بھی سپریم کورٹ ہے اور آئیے اپنی بہترین امید رکھیں‘۔جموں و کشمیر اپنی پارٹی کے’بیٹ‘ بلے کے انتخابی نشان کے بارے میں سید الطاف بخاری نے کہا کہ ان کی پارٹی کے ممبر سچے کھلاڑیوں اور مکمل جذبے کی مانند ہوں گے۔ اراضی قانون کے بارے میں انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر اپنی پارٹی اراضی حقوق کے تحفظ کے لئے جدوجہد کرے گی۔ان کا کہناتھا ’صنعت ، ہم سمجھتے ہیں لیکن یہ ہمارے نوجوانوں کی قیمت پر نہیں ہوسکتی ہے‘۔انہوں نے کہا ’یہ نعرہ نہیں ہے لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم زمین کے قوانین کی تبدیلی کے لئے جدوجہد کریں گے۔ ‘ان کا کہناتھا ’ہم نے زمین کے قوانین میں ترمیم کرنے کا عہد کیا ہے ، اور ہم اس میں ترمیم کریں گے۔‘ جب آپ سے پوچھا گیا کہ آپ اراضی قوانین میں کس طرح ترمیم کر سکتے ہیں تو ، انہوں نے کہا،’منانے سے، یہ ایسی چیز نہیں ہے جو ہم ایک پلیٹ میں پائیں گے۔‘بخاری نے جموں و کشمیر پنچایت کانفرنس کا بھی خیرمقدم کیا ، جو سرپنچوں اور پنچوں کی مشترکہ پلیٹ فارم ہے ، نے اپنی پارٹی کے اتحاد میں شمولیت اختیار کی ہے۔ جے اینڈ کے پی سی کی قیادت شفیق میر کر رہے ہیں ،جو پریس کانفرنس میں موجود تھے ۔