سرورق مضمون

جماعت اسلامی پر پابندی ، مین اسٹریم کا واویلا

مرکزی سرکار نے جموں کشمیر جماعت اسلامی پر پانچ سال کے لئے پابندی لگائی ۔ یہ فیصلہ مرکزی کابینہ کے ایک اجلاس میں لیا گیا ۔ریاست میں بی جے پی کو چھوڑ کر تمام مین اسٹریم جماعتوں نے اس فیصلے کے خلاف احتجاج کیا ہے ۔ اس حوالے سے جلوس نکالے گئے اور پارٹی سربراہوں نے تقریریں کیں ۔ تاہم مرکزی سرکار احتجاج کو خاطر میں لائے بغیر جماعت کے خلاف کاروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے ۔ اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ دو سو کے قریب جماعت کے کارکنوں کو اب تک گرفتار کیا گیا جنہیں مختلف جیلوں میں بند رکھا گیا ہے ۔ کئی ایک کو وادی سے باہر منتقل کیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ مشترکہ حریت لیڈر یاسین ملک کو گرفتار کرکے پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت کورٹ بلوال جیل بیج دیا گیا۔جماعت کے ترجمان ایڈوکیٹ زاہد علی پر بھی مبینہ طور پبلک سیفٹی ایکٹ لگادیا گیا ہے ۔ اس پر گاندربل میں ایک تقریر کی بنیاد پر سیفٹی ایکٹ لگایا گیا ۔ تازہ ترین کاروائی کے تحت جماعت کے ہیڈ کواٹر واقعہ بٹہ مالو کو بند کرکے اس پر تالا چڑھایا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ کئی دوسرے لیڈروں کے گھروں کو بھی مہر بند کیا گیا تھا ۔ لیکن ان سے سیل ہٹادی گئی ہے ۔ ادھر گورنر انتظامیہ نے اعلان کیا کہ جماعت کے اسکولوں ، مدرسوں اور یتیم خانوں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جائے گی ۔ جماعت کا ایک ذیلی ادارہ فلاح عام ٹرسٹ کے نام سے قائم ہے۔ اس ٹرسٹ کے تحت تین سو کے قریب اسکول چلائے جاتے ہیں جہاں مبینہ طور ایک لاکھ کے قریب طلبا زیر تعلیم ہیں ۔ ان طلبا کے والدین نے ٹرسٹ کے خلاف کاروائی پر سخت مایوسی کا اظہار کیا تھا ۔ اس کا اندازہ لگاتے ہوئے سرکار کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ ان اداروںکو فی الحال کارروائی سے باہررکھا جائے گا ۔ اس پر کئی حلقوں نے اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔ تاہم مین اسٹریم جماعتوں کی طرف سے جماعت پر پابندی ہٹانے کا مطالبہ کیا جارہاہے ۔
ریاست میں اگلے مہینے انتخابات کئے جانے کا امکان ہے ۔ اس حوالے سے الیکشن کمیشن نے ریاست کا دو رہ کیا ۔ اس دوران کمیشن کی طرف سے تمام علاقائی جماعتوں کے وفود کے ساتھ ملاقات کی گئی۔ معلوم ہوا ہے کہ وفود کی طرف سے اگلے ماہ پارلیمانی انتخابات کے ساتھ ریاستی ا سمبلی کے الیکشن کرانے کا مطالبہ کیا گیا ۔ الیکشن کو مدنظررکھتے ہوئے مین اسٹریم جماعتوں نے جماعت سے پابندی ہٹانے کا مطالبہ اپنا الیکشن ایشو بنانے کا اشارہ دیا ہے ۔ سابق حکمران پارٹی پی ڈی پی کی طرف سے اس پابندی پر سب سے زیادہ احتجاج دیکھنے کو ملا ۔ پارٹی نے ضلعی سطح پر احتجاج کرنے کا پروگرام بنایاہے ۔ اس حوالے سے ایک احتجاجی جلوس اننت ناگ میں پارٹی سربراہ محبوبہ مفتی کی قیادت میں نکالا گیا ۔ جلسے کے آخر پر پارٹی سربراہ اور سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے اپنے بیان میں جماعت پر پابندی لگانے کی مذمت کی ۔ اس نے مرکز سے مطالبہ کیا کہ پابندی کے اس فیصلے کو واپس لیا جائے ۔ محبوبہ مفتی نے اسے ایک غیر جمہوری فیصلہ قرار دیا ۔ اسی طرح دفعہ 35 A کے حوالے سے کی گئی کچھ ترمیموں پر انہوں نے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ۔ اس سے پہلے جب جماعت پر پابندی کے فیصلے کا اعلان کیا گیا تو محبوبہ مفتی نے ایک پریس کانفرنس میں اس فیصلے کو مسترد کیا ۔ اس نے اعلان کیا کہ ان کی پارٹی جماعت پر پابندی کو مسترد کرتی ہے۔ پی ڈی پی کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے نیشنل کانفرنس کی طرف سے جماعت کو غیر قانونی قراردئے جانے پر احتجاج کیا گیا ۔ این سی کی طرف سےسرینگر میں ایک جلوس نکالا گیا جہاں مطالبہ کیا گیا کہ جماعت سے جلد از جلد پابندی ہٹادی جائے ۔ جموں میں پارٹی کی ایک تقریب میں بولتے ہوئے پارٹی کے نائب صدر اور سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے35A پر مرکزکی پالیسی اور جماعت پر پابندی کو قابل افسوس قراردیا ۔ انہوں نے اس فیصلے کو آزادی اظہار پر پابندی کے برابر قرار دیا ۔ یاد رہے کہ 1975 میں جماعت ا سلامی پر پہلی بار پابندی این سے کے بانی شیخ محمد عبداللہ کے مشورے پر لگادی گئی جو کہ بعد میں عدالت کے ایک فیصلے کے تحت ہٹادی گئی ۔ آج نیشنل کانفرنس کی طرف سے اس فیصلے پر ناراضگی ظاہر کی گئی ۔ کئی حلقے اسے سیاسی شعبدہ بازی قرار دیتے ہیں۔ بی جے پی کے ترجمان نے الزام لگایا کہ جماعت پر پابندی این سی رہنما فاروق عبداللہ کے مشورے سے لگائی گئی ۔ پی ڈی پی اور این سی کے علاوہ کمیونسٹ پارٹی (مارکسسٹ ) کے لیڈراور سابق ایم ایل اے یوسف تاریگامی نے بھی جماعت پر پابندی کو غیر آئینی اور غیر جمہوری قرار دیا ۔ ان کا کہنا ہے کہ کمیونسٹ پارٹی کے جماعت کے ساتھ نظریاتی اختلافات ہیں ۔ تاہم اس پر پابندی لگانا کسی طور جائز نہیں ۔ سب سے زیادہ احتجاج سابق آزاد اسمبلی رکن انجینئر رشید نے کیا ۔ انہوں نے کئی موقعوں پر اس پابندی کو غیر جمہوری اور دین میں مداخلت قرار دیا ۔
جماعت اسلامی پر آج تیسری بار پابندی لگادی گئی ۔ اس سے پہلے 1975 میں وزیراعظم اندرا گاندھی نے پورے ہندوستان میں ایمرجنسی نافذ کرتے وقت بہت سی سیاسی جماعتوں پر پابندی لگادی۔ تاہم کشمیر کو اسے الگ رکھا گیا ۔ لیکن اس وقت کے ریاستی وزیراعلیٰ شیخ محمد عبداللہ نے مرکز سے سفارش کی کہ جماعت ا سلامی جموں کشمیر کو بھی اس دائرے میں لاکر اس پر پابندی لگادی جائے ۔ اس سے پہلے اندرا عبداللہ ایکارڈ کے تحت شیخ عبداللہ نے اقتدار حاصل کرنے کے لئے ضمنی انتخابات لڑا تھا ۔ جماعت اسلامی نے نہ صرف اندرا عبداللہ ایکارڈ کو مسترد کیا بلکہ شیخ عبداللہ کے خلاف اپنا امیدوار بھی کھڑا کیا ۔ اس وقت سے این سی اور جماعت اسلامی کے درمیان سخت تنائو پایا جاتا ہے ۔ اسی طرح نوے میں جگموہن نے ریاست کا گورنر بن کر جماعت اسلامی پر پابندی لگادی ۔ جو بعد میں مرکزی سرکار نے ہٹادی تھی ۔ یہ پابندی ہٹاتے ہی جماعت اسلامی نے اپنی سرگرمیاں پھر سے شروع کیں ۔ آج اسے ریاست کی سب سے مضبوط مذہبی جماعت قرار دیا جاتا ہے ۔ جماعت کا کہنا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کو حل طلب مسئلہ مانتی ہے اور یواین قراردادوں کے تحت اس مسئلے کا حل چاہتی ہے ۔ مرکزی سرکار کا کہنا ہے کہ ریاست میں جاری شورش میں جماعت اسلامی کا بڑا ہاتھ ہے ۔ مرکز کی طرف سے جماعت اسلامی پر الزام ہے کہ یہاں علاحدگی پسند ی جماعت کی وجہ سے جاری ہے ۔ خیال کیا جاتا ہے کہ جنگجو جماعت کے لیڈروں سے ہی ذہنی تربیت پاکر سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں ۔ اس وجہ سے مرکزی ایجنسیاں جماعت کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں۔ اگرچہ کئی لبرل لیڈر اس فیصلے سے متفق نہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ جماعت ایک بالائے زمین جماعت ہے اور کسی طرح کی غیر قانونی حرکتوں میں ملوث نہیں ۔ تاہم مرکز نے ایک متفقہ فیصلے کے تحت جماعت اسلامی پر پانچ سال کے لئے پابندی لگانے کا اعلان کیا ۔ کئی حلقوں کی طرف سے احتجاج کے باوجود سرکار اپنا فیصلہ بدلنے کے لئے تیار نہیں ہورہی ہے ۔ اس وجہ سے جماعت کی سرگرمیاں ٹھپ ہوکر رہ گئی ہیں ۔