خبریں

جموں وکشمیر میں لوگوں کی اکثریت امن کی طرفدار

جموں وکشمیر میں لوگوں کی اکثریت امن کی طرفدار

جموں وکشمیر میں اکثریت کو امن کا طرفدار قرار دیتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہا رمضان سیز فائر پر سیکورٹی فورسز کی جانب سے عمل ہورہا ہے جبکہ جنگجو امن کو موقعہ دینے کے حق میں نظر نہیں آتے ۔ اس دوران انہوں نے کنٹرول لائن پر پاکستانی گولہ باری میں بی ایس ایف اہلکاروں کی ہلاکت کو بدقسمتی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے کرتوت سے باز نہیں آرہا ہے لہٰذا اسے اسی کی زبان میں جواب دیا جائیگا ۔
رمضان سیز فائر میں توسیع کے حوالے سے مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے کہاکہ بہت جلد اس اس سلسلے میں مرکزی حکومت اپنا موقف واضح کریگی کیونکہ زمینی صورتحال کا جائزہ بغور لیا جارہا ہے ۔ نئی دلی میںآج ایک تقریب کے دوران مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ کشمیر میں اکثریت امن کی طرفدار ہے اور سیز فائر کا عوامی سطح پر بڑے پیمانے پر خیر مقدم کیا جارہا ہے کیونکہ اب وہاں لوگ روز مرہ کی زندگی گذارنے کو ہی ترجیح دے رہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ان کے حالیہ دورے کے دوران انہوں نے بدلا بدلا کشمیر پایا ہے ۔ کیونکہ وہاں اب لوگ اپنی روز مرہ کی سرگرمیوں میں مگن ہیں ۔ تاہم اس سیز فائر میں توسیع کیلئے بھی مسلسل بنیادوں پر فیڈ بیک آرہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم حالات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ فوج کیساتھ مشاورت ہوگی اور بعد میں وزیراعظم نریندر مودی ہی اس کا حتمی فیصلہ لیں گے جس کیلئے ایک اہم میٹنگ منعقد ہوگی۔انہوں نے کاکہا کہ حالیہ دنوں انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی کیساتھ اس معاملے پر بات کی ہے لہٰذا تکنیکی امو ر کو دیکھتے ہوئے ابھی مزید مشاورت لازمی ہے ۔انہوں نے کشمیر میں حملوں کے حوالے سے کہاکہ معاملات کو نمٹانے کیلئے ہم ہر بات پر بحث کریں اور کشمیر کی قیادت مین اسٹریم جماعتوں کو بھی اعتماد میں لیا جائیگا ، راجناتھ سنگھ کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر جب مشاروت مکمل ہوگی اور سیکورٹی نکتہ نگاہ سے سلامتی سے متعلق امور کی اہم میٹنگ بھی طلب کی جائیگی جس میں وزرات داخلہ ، وزرات دفاع ، فوج کے تینوں کمانوں کے سربراہان اور سیکورٹی ایجنسیوں کے اعلیٰ افسران شامل ہونگے ۔انہوں نے کہاکہ عید سے قبل ہی یہ میٹنگ منعقد کی جائیگی جس کے بعد اس معاملے پر سیر حاصل بحث کی جائیگی اور عید کے موقعے پرہی اس معاملے پر حتمی فیصلہ یا اعلان کیا جاسکتا ہے۔
مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کا کہنا تھا کہ اصل میں ہم کشمیر میں امن عمل کو آگے بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں اور ایسے میں مذاکرات کی دعوت بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ حریت لیڈران کیساتھ بھی مذاکرات کا اعلان کیا گیا ہے اور اب حریت لیڈران پر یہ منحصر ہے کہ کیا کیا جائے اور وہ کس حد تک مثبت رد عمل کا اظہار کریں ۔ انہوں نے کہاکہ امید کی جاسکتی ہے کہ آئندہ دنوں میں معاملات بہتر ہی ہونگے ۔ انہوں نے کہاکہ رمضان سیز فائر ابھی تک کامیاب ہی مانی جاسکتی ہے جس نے کشمیر کی تصویر ہی تبدیل کرکے رکھ دی ہے جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کشمیر کی اکثریت امن چاہتی ہے ۔ انہوں نے امن دشمن عناصر کیخلاف سخت کاروائی کا انتباہ دیتے ہوئے کہاکہ امن عمل کو ہر محاذ پر ناکام بنانے والوں کو اس کا خمیازہ ادا کرنا ہوگا ۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر میں تین ماہ پہلے جیسے حالات نہیں ہیں بلکہ کئی ایک محاذ پر حکومت ریاستی حکومت کیساتھ مل کر کام کررہی ہے جس کے مثبت نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہاکہ حالات کو بہتر بنانے کیلئے سبھی سیکورٹی ایجنسیوں کیساتھ تال میل برقرار رکھا جارہا ہے تاہم انہوں نے زور دیتے ہوئے کہاکہ کشمیر کی اکثریت امن کی طرفدار ہے لہٰذا انہیں کچھ ایک گروپوں اور لوگوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے رہنے کی اجازت نہیں دی جائیگی ۔
راجناتھ سنگھ کا کہنا تھا کہ کشمیر میں اکثریت امن کے حوالے سے کام کررہی ہے جس کو دیکھتے ہوئے ہم آگے بڑھ رہے ہیں۔انہوں نے سیکورٹی ایجنسیوں کو بھی ہدایت دی ہے کہ وہ فی الوقت سیز فائر کا من وعن عمل کریں اور ایسے میں کسی بھی جگہ سیکورٹی فورسز کی جانب سے اس سیز فائر کی خلاف ورزی نہ ہونے پائیں۔انہوں نے کہاکہ حالات چاہیں کچھ بھی ہوں کشمیری عوام نے امن کا ثبوت ہے ۔ انہوں نے مزید کہاکہ جموں وکشمیر میں امن بحالی مرکز کی پہلی ترجیح ہے اور رہیگی اوراس سلسلے میں مرکزی حکومت امن دشمنوں کیخلاف ہر ممکن کاروائی عمل میں لائیگی۔انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر میں اکثریت امن کی طرفدار ہے لیکن کچھ ایک عناصر اورقوتیں امن کو خراب کرنے کی ہر ممکن کوشش کررہی ہیں جبکہ اسکولوں میں بھی اس طرح کے حالات پیدا کئے جارہے ہیں کہ تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوں ۔انہوں نے مزید کہا ہے کہ کشمیر میں حالات کو بہتر بنانے کے حوالے سے ایک سیکورٹی پلان بھی تشکیل دیا گیا ہے جس کے تحت امن دشمنوں عناصر کی سرکوبی کی سیکورٹی ایجنسیوں کو ہدایت دی گئی ہے جبکہ امن کے حامیوں کو کوئی گزند نہ پہنچانے کی سیکورٹی ایجنسیوں سے کہا گیا ہے کیونکہ کسی بھی امن دشمن اور ملک مخالف سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائیگا اور نہ ہی کسی بھی اعتبار میں امن کے حامیوں کو یرغمال بنے رہنے کی اجازت دی جائیگی ۔ مرکزی وزیر داخلہ نے سیکورٹی ایجنسیوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ کشمیر میں امن بحالی کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کریں کیونکہ بہت زیادہ خرابی ہوئی ہے اور مزید خرابی مرکزی حکومت برداشت نہیں کر سکتی ہے۔ اس دوران مرکزی وزیر داخلہ نے نکلسواد کو سنگین چلینج سے تعبیر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس چلینج سے بھی سیکورٹی فورسز نمٹ لے گی اور اس تباہی کو بھی ضرور روکا جائیگا ۔ ادھر مرکزی وزیر داخلہ نے کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر صورتحال کو باعث تشویش قرار دیتے ہوئے کہاکہ کشمیر میں کنٹرول لائن پر پاکستان نے بلا جواز فائرنگ کی ہے جس میں4 بی ایس ایف اہلکار مارے گئے ہیں انہوں نے کنٹرول لائن پر سیکورٹی ایجنسیوں کو مزید چوکسی برتنے کی ہدایت دی ہے اور کہا ہے کہ اس طرح کے حملوں کوروکنے کیلئے سیکورٹی کاسخت ترین حصار قائم کیا جائے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان اپنی کرتوت سے باز نہیںآرہا ہے لہٰذا اس کو اسی زبان میں جواب دیا جارہا ہے ۔حالانکہ بار بار وہ سیز فائر کی خلاف ورزی کا مرتکب ہورہا ہے جس کے بعد امن پر اتفاق بھی کرتا رہتا ہے ۔