نقطہ نظر

جنوبی اور شمالی ہند کی سیاست

کلدیپ نائیر

جنوبی ہند کے علاقے میں سیاست شمال سے قطعاً مختلف نہیں۔ دونوں علاقوں میں شخصیات کو اہمیت دی جاتی ہے۔ عوام اپنے پسندیدہ لیڈروں کے پیچھے پاگل ہو جاتے ہیں حتیٰ کہ جنون کے عالم میں خود کو نذر آتش تک کر دیتے ہیں۔ اگرچہ حکومت نے اس پر پابندی عائد کرنے کی کوشش کی لیکن اس کے باوجود اسے کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ وی کے ششی کلا اس قسم کی شخصیات میں شامل ہیں جو سابقہ وزیر اعلیٰ جے للیتا کی سب سے قریبی معتمد ہیں۔آج کل وہ ’’اے آئی اے ڈی ایم کے‘‘ پارٹی کی جنرل سیکریٹری ہیں اور پارٹی نے انھیں اپنے قانون ساز شعبے کے لیے لیڈر منتخب کیا ہے۔ سبکدوش ہونیوالے وزیراعلیٰ پانیر سلوام کو کہا گیا ہے کہ وہ اپنا استعفیٰ پیش کر دیں حالانکہ وہ اس اجلاس میں موجود ہی نہیں تھے جس میں یہ فیصلہ کیا گیا۔
تامل ناڈو میں اچانک ان واقعات کے رونما ہونے نے ہر ایک کو اعصابی ہیجان میں مبتلا کر دیا۔ پانیر سلوام آنجہانی وزیراعلیٰ کی قریبی معتمد ہیں جو بڑی شدت سے ششی کلا کی مخالفت کر رہی ہیں اور ان پر الزام لگا رہی ہیں کہ وہ اقتدار پر غاصبانہ قبضہ کرنے کی کوشش میں ہیں۔ حلف برداری کی تقریب جو گزشتہ روز (جمعرات کو) ہونا تھی اسے فی الوقت موخر کر دیا گیا ہے کیونکہ گورنر مرکزی وزارت داخلہ کے کہنے پر اپنا پہلو بچانے کی کوشش کررہے ہیں۔ ویسے بھی یہ سیاست میں تبدیلی کا مناسب وقت نہیں کیونکہ ششی کلا اور ان کی سرپرست جیا للیتا کے خلاف بدعنوانی کا مقدمہ چل رہا ہے۔ سپریم کورٹ نے پہلے ہی اشارہ دیدیا ہے کہ اس کا فیصلہ ایک ہفتے کے اندر اندر کر دیا جائے گا خواہ وہ جیتے یا ہارے اس کی حمایت میں پہلے ہی کمی ہو رہی ہے۔جہاں تک ششی کلا کا تعلق ہے تو وہ سابقہ وزیراعلیٰ کی طویل عرصے سے نہایت قریبی دوست ہیں اور جیاللیتا کی قربت کی وجہ سے ان کو بے شمار اختیارات بھی حاصل رہے ہیں لیکن انھیں کبھی جیاللیتا کی جانشین کے طور پر نامزد نہیں کیا گیا، ششی کلا کی شہرت محض جیا للیتا کی قربت کی بنا پر ہے۔
ایسے مواقع بھی آتے رہے جب سابقہ وزیراعلیٰ خود اپنی اس دوست سے ناراض ہو گئیں اور اس سے فاصلہ پیدا کر لیا۔ ششی کلا کو منارگڑی مافیا کا حصہ بھی سمجھا جاتا رہا ہے اور اس حوالے سے بعض لوگوں سے ناجائز سلوک بھی کرتی رہی ہیں جس کی بنا پر جے للیتا کو شرمندگی اٹھانا پڑی۔ کلا کے شوہر ایم نتا راجن کو بھی ششی کلا کے جرائم میں اس کا ہمنوا خیال کیا جاتا رہا جس وجہ سے نہ صرف یہ کہ جے للیتا نے اسے الگ کر دیا بلکہ خود ششی کلا نے بھی بعد میں اس سے ناطہ توڑ لیا۔ یہ ایک کھلا راز ہے کہ ششی کلا نے اس قدر زیادہ دولت سمیٹ لی جس پر اس کے خلاف سابقہ وزیراعلیٰ سمیت خصوصی عدالت میں فرد جرم بھی عاید کر دی گئی۔ جب بھی کبھی جے للیتا جیل میں گئی یا اپنے خلاف مقدمات کی وجہ سے اقتدار سے الگ ہوئی تو اس کا تمام تر انحصار پانیر سلوام پر ہوتا تھا جسے اس نے وزارت اعلیٰ کی گدی پر بٹھانے کی کوشش بھی کی اور ایک وفا دار پارٹی کارکن کے طور پر انھوں نے اس گدی کو گرم رکھا اور جب بھی جے للیتا واپس آئی اس کا منصب اسے واپس کر دیا۔ پانیر سلوام جے للیتا کی اس قدر تکریم کرتا تھا کہ وہ کبھی اس کرسی پر نہیں بیٹھا جس پر وہ بیٹھتی تھی بلکہ اپنے لیے ہمیشہ علیحدہ کرسی رکھواتا تھا۔ اس نے اپنے دفتر میں جے للیتا کی بہت بڑی تصویر لگا رکھی تھی بلکہ ایک پاکٹ سائز تصویر اپنی جیب میں بھی رکھتا تھا تاکہ جے للیتا سے اندھی عقیدت کا اظہار کر سکے۔
وہ جے للیتا کے لیے اس قدر بااعتماد ہو گیا کہ جب بھی جے للیتا کو کوئی مسئلہ درپیش آتا وہ اس کو نگران وزیراعلیٰ مقرر کرتی۔یہ درست ہے کہ جے للیتا کا سیاسی قد و قامت اس قدر بلند تھا کہ کوئی بھی اس کے برابر نہیں تھا، اس کی مثال جواہر لعل نہرو کی سی تھی جس طرح کہ برگد کا درخت ہوتا ہے جس کے سائے میں اور کوئی پودا پھل پھول نہیں سکتا۔ وہ اپنی پارٹی اور اپنی حکومت کو اکیلی ہی چلاتی تھی حالانکہ اسے ڈی ایم کے کی طرف سے شدید مخالفت کا سامنا تھا جس کے سربراہ کرونا ندھی ابھی تک پارٹی کی سربراہی پر متمکن ہیں۔ مرکز میں حکمران بی جے پی کی تامل ناڈو میں کوئی حمایت نہیں کیونکہ اسے شمالی ہند کی پارٹی تصور کیا جاتا ہے۔ لوک سبھا کے پچھلے انتخابات میں بی جے پی کو ڈی ایم کے کی 37 نششتوں کے مقابلے میں صرف ایک سیٹ ملی تھی۔ اس ریاست میں حالیہ بحران بی جے پی کے لیے مثالی صورت حال ہے جو ریاست میں اپنا راستہ بناسکتی ہے۔ بہرحال فی الوقت ان کی صرف یہی کوشش ہے کہ ریاست میں اپنی موجودگی کا احساس دلا دیں۔ ششی کلا کے خاوند نتا راجن کے کانگریس کے رہنماؤں کے ساتھ راہ و رسم موجود ہے اور کوئی بعید نہیں کہ وہ بی جے پی کے صدر امیت شاہ کو صورت حال سے آگاہ کر کے ان کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرے۔
اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ پانیر سلوام کی حمایت میں ہے جس کو حلیم الطبع شخص سمجھا جاتا ہے اور پارٹی کو امید ہے کہ وہ اس کے کندھے استعمال کر کے ریاست تامل ناڈو میں اپنی موجودگی کی ضمانت حاصل کر سکتے ہیں۔ پانیر سلوام کے حق میں جو چیز ہے وہ یہ کہ عوام کا موڈ ششی کلا کے مخالف ہے جس پر الزام ہے کہ اس نے جے للیتا کی بھانجی کو اس سے ملاقات کے لیے آنے نہیں دیا جو کہ بیمار ہے۔ اس کی بھانجی نے پہلے ہی اپنی سیاسی جماعت بنا لی ہے اور دھمکی دی ہے کہ وہ اپنی بیمار خالہ کی پارٹی کے کئی اراکین کو ساتھ ملا لے گی۔شمالی ہند کی سیاست میں یہی ساری باتیں نظر آئیں گی۔
نہرو چاہتے تھے کہ ان کے بعد ان کی بیٹی اندرا گاندھی ان کی جانشین بنے لیکن لال بہادر شاستری اسقدر مقبول تھے کہ انھیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا تھا لہٰذا جب کانگریس کے صدر کامراج نے مصالحت کرانے کی کوشش کی تو انھوں نے اعلان کیا کہ پہلے شاستری نہرو کی جگہ لیں گے اور اندرا بعد میں۔ لیکن مرار جی ڈیسائی نے اسے قبول نہیں کیا اور نہرو کی وفات کے بعد خود کھڑا ہو گیا۔ اندرا گاندھی نے ڈیسائی کو قبول کرنے کے بجائے پارٹی تقسیم کر دی اور کامراج کو بھی سائیڈ لائن کر دیا۔ اپنے اس تجربے سے سبق سیکھتے ہوئے اس نے پارٹی کی صدارت اور وزارت عظمیٰ کو اکٹھا کر دیا۔ اسی طرح ڈی ایم کے کے بھی دو حصے ہوئے۔ قانون ساز اسمبلی کے اراکین چاہتے ہیں کہ ششی کلا پارٹی کی جنرل سیکریٹری بھی رہے اور وزیراعلیٰ بھی۔ یہ سارا ڈرامہ کیا شکل اختیار کرے گا‘ ابھی اس کے بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے لیکن یہ بات واضح ہے کہ ششی کلا کی قوت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اور یہی حال پانیر سلوام کا ہے جس کو بھرپور عوامی حمایت حاصل ہے البتہ ششی کلا کی قسمت کا فیصلہ عدالت پر منحصر ہے گو کہ سسی کلا جے للیتا نہیں اور ڈی ایم کے بھی اپنے انجام کی منتظر ہے۔
(ترجمہ: مظہر منہاس)