سرورق مضمون

جنوبی کشمیر میں الیکشن کابخار، مین اسٹریم جماعتوں کی ایک دوسرے پر تنقید

جنوبی کشمیر میں اننت ناگ پارلیمانی حلقے کے لئے پولنگ مراحل کا آغاز ہوچکا ہے ۔ پہلے مرحلے کے لئے منگل وار کو ووٹ ڈالے گئے ۔ اس مرحلے پر اننت ناگ ضلعے کے ووٹروں نے اپنی رائے دہی کا حق استعمال کیا ۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق تیرہ فیصدکے آس پاس ووٹ ڈالے گئے ۔ اس سے پہلے سرینگر اور بارہمولہ حلقوں کے لئے الگ الگ مرحلوں پر ووٹ ڈالے گئے ۔ ووٹنگ کی مجموعی شرح چودہ فیصد رہی ۔ اننت ناگ کے حوالے سے کہا گیا کہ ڈورو، کوکر ناگ اور شانگس علاقوں میں قدرے بہتر تعداد میں ووٹ ڈالے گئے ۔ اس کے بجائے بجبہاڑہ اور پہلگام کے علاوہ اننت ناگ تحصیلوں میں بہت کم تعداد میں ووٹ ڈالے گئے ۔ ان حلقوں میں کم ووٹنگ شرح پر سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے این سی لیڈر عمر عبداللہ نے کہا کہ ووٹروں کو مایوس کیا گیا اور وہ ووٹ ڈالنے نہیں نکلے ۔ عمرعبداللہ کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ محبوبہ مفتی کا آبائی علاقہ ہے ۔ ان کی مایوس کن کارکردگی کی وجہ سے ووٹر ووٹ ڈالنے نہیں نکلے ۔ اس کا جواب دیتے ہوئے محبوبہ مفتی نے عمرعبداللہ پر سخت وار کیا اور کہا کہ پورا جنوبی کشمیر ان کا گھر ہے ۔ اس کے بجائے کسی بھی شخص کو عمرعبداللہ کے گھر کا پتا معلوم نہیں ہے ۔ محبوبہ مفتی کولگام میں الیکشن کے حوالے سے مہم چلارہی تھی ۔ اس موقعے پر اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمرعبداللہ کو جنوبی کشمیر میں اس طرح کے بیانات نہیں دینے چاہئے ۔ اس سے پہلے کانگریس کے ریاستی صدر اور الیکشن میں پارٹی کے امیدوار غلام احمد میر نے پی ڈی پی کو بی جے پی کے ساتھ ہاتھ ملانے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا ۔
جنوبی کشمیر سخت شورش زدہ علاقہ مانا جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس حلقے کے لئے تین مراحل میں ووٹ ڈالنے کا انتظام کیا گیا ہے ۔ پہلے مرحلے کی ووٹنگ کے حوالے سے کہا گیا کہ پرامن طریقے سے انجام دی گئی ۔ کئی جگہوں پر پتھربازی کے واقعات پیش آئے ۔ تاہم پولیس بیان کے مطابق پولنگ پر امن رہی ۔ اگرچہ ووٹ توقع کے برعکس بہت کم تعداد میں ڈالے گئے ۔ خیال تھا کہ اس ضلعے میں ووٹنگ شرح بہت زیادہ رہے گی ۔ دو اہم پارٹیوں کے لیڈر یہاں میدان میں ہیں ۔ کانگریس کے ریاستی صدر غلام احمد میر اس سے پہلے اسمبلی ممبر رہے ہیں ۔ اس وجہ سے خیال کیا جاتا تھا کہ لوگ ان کے حق میں ووت ڈالنے کے لئے پولنگ بوتھوں پر آئیں گے ۔ اسی طرح پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی بھی میدان میں ہے ۔ محبوبہ جی کے حوالے سے مانا جاتا ہے کہ جنوبی کشمیر میں انہیں کسی بھی دوسرے لیڈر سے زیادہ سپورٹ حاصل ہے ۔ اس وجہ سے کئی لوگوں کا خیال تھا کہ بجبہاڑہ کے کئی علاقوں میں لوگ ان کے لئے ووٹ ڈالنے کے لئے گھروں سے باہر آئیں گے ۔ معلوم ہوا ہے کہ دونوں جگہوں پر ایسی صورت حال دیکھنے کو نہیں ملی ۔ میر کے آبائی علاقے میں تو کچھ تعداد میں ووٹ ضرور ڈالے گئے ۔ لیکن بجبہاڑہ اور اننت ناگ میں ایک دو فیصد ہی ووٹ ڈالے گئے ۔ سب سے حیران کن بات یہ رہی کہ جن دیہات میں مفتی خاندان کےحامی لوگ پائے جاتے ہیں وہاں بھی لوگوں نے ووٹ ڈالنا پسند نہیں کیا ۔ اسی دوران بجبہاڑہ میں ایک انکائونٹر میں حزب المجاہدین کے دو جنگجو سیکورٹی فورسز کے ساتھ تصادم میں مارے گئے ۔ ان کے جنازوں میں لوگ بڑی تعداد میں شامل ہوگئے ۔ کہا جاتا ہے کہ سخت بارش کے باوجود لوگوں نے بڑی تعداد میں جمع ہوکر جنازے میں شرکت کی ۔ پولیس سربراہ نے ا علان کیا ہے کہ جنگجووں پر دبائو جاری رہے گا ۔ ان کا کہنا ہے کہ الیکشن کے دوران بھی سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں جاری رہیں گی ۔ اس بیان سے خیال کیا جاتا ہے کہ جنوبی کشمیر میں جنگجووں کے خلاف کاروائیوں میں تیزی لائی جائے گی ۔ اس کے علاوہ الیکشن عمل کو بہتر طریقے سے آگے بڑھانے کے لئے سیکورٹی میں اضافہ کئے جانے کا امکان ہے ۔ اننت ناگ ضلعے کے لئے مبینہ طور اضافی سو کمپنیاں تعینات کی گئی تھیں ۔ دوسرے مرحلے کے لئے کہا جاتا ہے اس سے کہیں زیادہ سیکورٹی عملہ تعینات ہوگا ۔ اسی طرح تیسرےمرحلے کی ووٹنگ کے بارے میںکہا جاتا ہے کہ مزید اضافہ ہوگا ۔ ان سب باتوں کی وجہ سے جنوبی کشمیر میں سخت خوف پایا جاتا ہے ۔ کچھ علاقوں سے اطلاع ہے کہ گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے ۔ الیکشن کمیشن نے پہلے ہی پولنگ کے لئے مقرر ہ اوقات میں کمی کی ہے ۔ پولنگ کے لئے پہلے صبح سات بجے سے شام چھ بجے کا وقت مقرر کیا گیا تھا ۔ لیکن اننت ناگ حلقے کے لئے یہ وقت صبح سات بجے سے چار بجے تک رکھا گیا ۔ اس طرح سے شام کو ہونے والی سنگ باری سے بچنے کے لئے وقت میں کمی کرنے کا اعلان کیا گیا ۔ کچھ حلقوں نے مشورہ دیا ہے کہ وقت میں مزید دو گھنٹوں کی کمی کی جانی چاہئے ۔ ابھی تک اس حوالے سے کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا ۔ ادھر علاحدگی پسندوں کے خلاف این آئی اے کا کریک ڈاون جاری ہے۔ پہلے میرواعظ عمر فاروق کو دہلی بلاکر وہاں سخت پوچھ تاچھ کی گئی ۔ منی لانڈرنگ کیس میں ملوث ہونے کے الزام میں انہیں تین دن تک دہلی میں سخت سوال وجواب کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی دوران لبریشن فرنٹ کے یاسین ملک کو گرفتار کیا گیا ۔ انہیں پہلے جموں کے ایک انٹراگیشن سنٹر میں بند رکھا گیا ۔ پھر انہیں دہلی لے جایا گیا ۔ دہلی میں کورٹ سے ریمانڈ حاصل کرکے انہیں تہاڑ جیل میں رکھا گیا ۔ تہاڑ میں یاسین ملک مبینہ طور بیمار ہوگئے ۔ فوری طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے ان کی تکلیف میں اضافہ ہوگیا ۔ اس کے بعد انہوں نے بھوک ہڑتال شروع کی ۔ بھوک ہڑتال کی وجہ سے ان کی صحت بگڑنے لگی ۔ اس کے بعد انہیں ایک ہسپتال میں داخل کیا گیا ۔ اب کہا جاتا ہے کہ تھوڑی بہتری کے بعد یاسین ملک کو واپس تہاڑ جیل لیا گیا جہاں وہ زیرعلاج ہیں ۔ سب سے اہم خبر یہ آئی کہ شبیر شاہ کی بیٹی کو این آئی اے نے پوچھ تاچھ کے لئے دہلی آنے کی ہدایت دی ہے ۔ اسی طرح سید علی گیلانی کے پوتے کے نام بھی این آئی اے کی طرف سے سمن جاری کیا گیا ہے اور ان کی پوچھ تاچھ کی جارہی ہے ۔ اس سے پہلے حریت کے دودرجن سے زیادہ لیڈر این آئی اے کی طرف سے گرفتار کئے گئے ۔ یہ لوگ اب بھی جیلوں میں بند ہیں ۔ ان پر کہا جاتا ہے کہ شدید تشدد جاری ہے ۔ اس کے خلاف این سی اور پی ڈی پی نے سخت احتجاج کیا ہے۔ این سی صدر فاروق عبداللہ نے اننت ناگ حلقے میں ایک الیکشن ریلے سے خطاب کرتے ہوئے حریت لیڈروں کی تعریف کی ۔ انہوں نے اس موقعے پر کہا کہ یاسین ملک قوم کے حقوق کے لئے لڑ رہے ہیں ۔ وہ جان دیں گے لیکن اپنا موقف ترک نہیں کریں گے ۔ اسی طرح پی ڈی پی رہنما محبوبہ مفتی نے پلوامہ میں ایک ریلی نکالی اور جماعت اسلامی پر لگی پابندی ہٹانے کا مطالبہ کیا ۔ اس طرح کی الیکشن جنگ جاری ہے ۔ بہت جلد معلوم ہوگا کہ کون جیتا اور کون ہارا ۔ لوگوں اس اعلان کا بے صبری سے انتظار میںہے ۔