خبریں

جنگجوؤں کی ہلاکت پر بھارتی فوج کا بیان افسوسنا ک ،انسانیت سوز

جنگجوؤں کی ہلاکت پر بھارتی فوج کا بیان افسوسنا ک ،انسانیت سوز

حریت (ع) چیرمین میرواعظ عمر فاروق نے بھارتی فوج کے اس بیان جس میں انہوں نے سال 2018 کو ان کے لئے اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ گذشتہ سال میں انہوں نے 250 کشمیری عسکریت پسندوں کو جاں بحق کیا ہے کوافسوسناک ، انسانیت سوز اور بدقسمتی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حیران کن امر ہے کہ ایک تربیت یافتہ اورجنگی ساز وسامان سے لیس فوج جس کا مقصد اپنے برابری کے مقابل فوج سے لڑنا ہے کشمیری نوجوان جن میں دانشور اور تعلیم یافتہ نوجوان حتیٰ کہ 14 سال کے بچے شامل ہیں کے مارے جانے پر جشن مناتی ہے۔
مرکزی جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ سے قبل ایک بھاری اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ بھارتی فوج کی جانب سے جاں بحق کئے گئے نوجوان کوئی تربیت یافتہ گوریلا نہیں تھے یا دہشت پھیلانے والے نہیں تھے بلکہ یہ وہ نوجوان ہیں جو بھارتی ظلم و ستم اور جبری قبضہ سے تنگ آکر اور سیاسی سطح پر ان کے تمام راستے مسدود کئے جانے اور مبنی بر حق ، حق خودارادیت کی آوازدبائے جانے کی وجہ سے ہتھیار اٹھانے پر مجبور کئے گئے ہیں۔ میرواعظ نے کہا کہ یہ نوجوانوں کا جذبہ ہے کہ ٹریننگ اور تربیت کی عدم دستیابی کے باوجود وہ اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے ایک ملک کی فوج کے ساتھ مدمقابل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان نوجوانوں کی شہادت کشمیریوں کو تحریک کے تئیں جذبات کو مزید مستحکم کرتی ہے اوربھارت کا یہی ظلم و جبر یہاں کے نوجوانوں کو عسکریت سے جوڑتا ہے۔میرواعظ نے کہابھارتی فوج جہاں اپنے ملک کی تحریک آزادی کے دوران سبھاش چندر بوس کو برطانوی سامراج کیخلاف لڑنے کیلئے فوج کے قیام کے عمل کو خراج پیش کرتی ہے وہیں دوسری جانب کشمیر میں نہتے نوجوانوں کی ہلاکت کو ہندوستانی عوام کے سامنے ایک ’بڑی کامیابی‘ کے بطور پیش کرنا حقایق کی پردہ پوشی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج کے متعدد افسران نے کئی دفعہ اپنے مضامین اور لکچروں میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے جس کا حل سیاسی بنیادوں پر ناگزیر ہے اور دوسری طرف وہ کشمیر میں پہلے سے موجود بے پناہ فوجی جماؤ میں مزید اضافہ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا پوری دنیا نے یہ واضح کیا ہے کہ کشمیر مسئلہ کا حل طاقت یا فوجی بنیادوں پر نہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے کہا جو لوگ مسئلہ کشمیر کو فوجی قوت کے بل پر طول دے رہے ہیں انہیں یہ بات سمجھ لینی چایئے کہ اس عمل سے تنازعہ کے نسبت مزید پیچیدگیاں سامنے آتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے پورا جنوبی ایشیائی خطے کا امن اور استحکام گزشتہ ۷۱ سال سے یرغمال بنا ہوا ہے اور اس غیر یقینی صورتحال کے خاتمے کیلئے ضروری ہے کہ جموں وکشمیر کو فوج اور کالے قوانین سے ایک پاک خطہ قرار دیا جائے اور اس مسئلہ کے منصفانہ حل کیلئے سیاسی راہیں تلاش کی جائیں۔ میرواعظ نے کہا کہ موجودہ گورنر نے حال ہی میں کہا ہے کہ حکومت عسکریت پسندوں کا نہیں بلکہ عسکریت کا خاتمہ چاہتی ہے۔ اگر یہ بات ہے تو انہیں مخلصانہ طور یہ وجوہات جاننے ہونگے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان عسکریت کی طرف کیوں مائل ہونے پر مجبور ہورہے ہیں؟ اور حکومت ہند کو صحیح مشورہ دینا ہوگا کہ وہ کشمیر کے متنازع مسئلہ کو Military mightکے ذریعے حل کرنے کے بجائے مسئلہ کشمیر کے تمام فریقین کے درمیان ایک ایساسیاسی عمل شروع کرنا ہوگا جس سے اس مسئلہ کا حق خودارادیت کی بنیادوں پر حل تلاش کیا جاسکے تاکہ کشمیری نوجوانوں کے ساتھ ساتھ بھارتی فوجیوں کے جانوں کے مزید زیاں سے بھی بچا جا سکے اور یہی یہاں کی سیاسی مزاحمتی قیادت کا ان کو پرخلوص مشورہ ہے۔